کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جب کھانا پیش کر دیا جائے اور نماز کا وقت ہو تو کھانا پہلے کھانا
حدیث نمبر: 7383
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ وَفِي لَفْظٍ وَأُقِيمَتْ بَدَلَ وَحَضَرَتْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب شام کا کھانا رکھ دیا جائے اور نماز کا وقت بھی ہو جائے (ایک روایت کے مطابق اور اقامت کہہ دی جائے) تو پہلے کھانا کھا لیا کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7383
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5463 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13600 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13635»
حدیث نمبر: 7384
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا وُضِعَ عَشَاءُ أَحَدِكُمْ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا يَقُومُ حَتَّى يَفْرُغَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی ایک کے سامنے شام کا کھانا رکھ دیا گیا ہو اور نماز کی اقامت ہو جائے تو وہ کھانے سے فارغ ہو کر ہی اٹھے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ سے یہ اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے کہ نماز میں کس قدر دل جمعی اور توجہ کی ضرورت ہے، بشری کمزوری کو سامنے رکھتے ہوئے اور نماز کے اصل مقصود کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ ایسی صورت میں پہلے کھانا کھا لینا چاہیے تاکہ اس سے فارغ ہوکر دل جمی کے ساتھ نماز کو ادا کیا جا سکے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7384
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 673، ومسلم: 559 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4709 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4709»