کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونے اور نہ دھونے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 7378
عَنْ سَلْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ بَرَكَةُ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ بَعْدَهُ قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ فَقَالَ بَرَكَةُ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ وَالْوُضُوءُ بَعْدَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے تورات میں پڑھا کہ کھانے کے بعد ہاتھ دھونا باعث برکت ہے، میں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا اور میں نے آپ کو بتایا جو میں نے تورات میں پڑھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھانے کی برکت اس طرح ہوتی ہے کہ اس سے پہلے بھی وضوء کیا جائے اور اس کے بعد بھی۔
وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ اس وضو سے مراد لغوی وضو ہو، یعنی ہاتھ منہ دھونا، تاکہ چکناہٹ وغیرہ کے اثرات ختم ہو جائیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7378
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف من اجل قيس بن الربيع، أخرجه ابوداود: 3761، والترمذي: 1846، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23732 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24133»
حدیث نمبر: 7379
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَامَ وَفِي يَدِهِ غَمَرٌ وَلَمْ يَغْسِلْهُ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اس حال میں سویا کہ اس کے ہاتھ میں چکناہٹ تھی اور اس نے اس کو دھویا نہیں تھا اور پھر کسی موذی چیز نے اسے کوئی نقصان پہنچایا تو وہ صرف اپنے آپ کو ہی ملامت کرے۔
وضاحت:
فوائد: … اسلام ہمدردی و خیرخواہی پر مشتمل ہدایات کا مجموعہ ہے، اسلام کو یہ بات انتہائی ناگوار گزرتی ہے کہ مسلمان اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کر بیٹھے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم بھی اس قابل صد افتخار مذہب کو اپنے لیے باعث ِ فخر اور عزت و عظمت کا نشان سمجھ کر اس کے اشاروں کے مطابق زندگی گزاریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7379
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 3852، وابن ماجه: 3297، والترمذي: 1860 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10940 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10953»
حدیث نمبر: 7380
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا فَمَضْمَضَ وَقَالَ إِنَّ لَهُ دَسَمًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دودھ پی کر کلی کی اور فرمایا کہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا شَرِبْتُمُ اللَّبَنَ فَمَضْمِضُوْا فَإِنَّ لَہُ دَسَماً)) … جب تم دودھ پیو تو کلی کر لیا کرو، کیونکہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔ (ابن ماجہ: ۱/۱۸۱، صحیحہ:۱۳۶۱)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7380
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5609، ومسلم: 358 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1951 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1951»
حدیث نمبر: 7381
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَائِطِ فَدَعَوْنَاهُ إِلَى عَجْوَةٍ بَيْنَ أَيْدِينَا عَلَى تُرْسٍ فَأَكَلَ مِنْهَا وَلَمْ يَكُنْ تَوَضَّأَ قَبْلَ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت کے بعد ہمارے پاس سے گزرے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عجوہ کھجوریں کھانے کی دعوت دی، جوہم نے اپنے سامنے ایک ڈھال میں رکھی ہوئی تھیں، آپ نے ان میں سے کھائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں کھانے سے پہلے ہاتھ نہیں دھوئے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7381
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر، أخرجه ابوداود: 3762، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15272 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15345»
حدیث نمبر: 7382
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى الْغَائِطَ ثُمَّ خَرَجَ فَدَعَا بِالطَّعَامِ وَقَالَ مَرَّةً فَأُتِيَ بِالطَّعَامِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَوَضَّأُ قَالَ لَمْ أُصَلِّ فَأَتَوَضَّأَ وَفِي لَفْظٍ فَقَالَ إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ قضائے حاجت والی جگہ میں گئے اور قضائے حاجت کر کے باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کھانا لایا گیا، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ وضو نہیں کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے نماز تو نہیں پڑھنی کہ وضو کروں، مجھے وضو کا حکم صرف اس وقت دیا گیا ہے، جب میں نے نماز پڑھنی ہو۔
وضاحت:
فوائد: … احادیث ِ صحیحہ کا معنی و مفہوم واضح ہے، اگر ظاہری طور پر پاک ہوں اور ان پر کوئی گندگی لگی ہوئی نہ ہو تو کھانے پینے کے لیے ان کو دھو لینا مسلمان کا طبعی مسئلہ ہے، شریعت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے، البتہ جب آدمی جنابت کی حالت میں ہو تو درج ذیل حدیث پر عمل کرے:
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7382
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 374، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1932 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1932»