کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسندیدہ کھانوں کا ذکر
حدیث نمبر: 7350
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ ابْنَ الزُّبَيْرِ وَقَدْ نُحِرَتْ لِلْقَوْمِ جَزُورٌ أَوْ بَعِيرٌ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْقَوْمُ يُلْقُونَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّحْمَ يَقُولُ أَطْيَبُ اللَّحْمِ لَحْمُ الظَّهْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں لوگوں نے اونٹ ذبح کئے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنا کہ لوگ ان کے لیے گوشت برتن میں ڈال رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے عمدہ گوشت جانور کی پشت کا گوشت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7350
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، الشيخ من فھم، واسمه محمد بن عبد الرحمن، في عداد المجھولين، أخرجه ابن ماجه: 3308 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1744 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1744»
حدیث نمبر: 7351
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ إِنَّ آخِرَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي إِحْدَى يَدَيْهِ رُطَبَاتٌ وَفِي الْأُخْرَى قِثَّاءٌ وَهُوَ يَأْكُلُ مِنْ هَذِهِ وَيَعَضُّ مِنْ هَذِهِ وَقَالَ إِنَّ أَطْيَبَ الشَّاةِ لَحْمُ الظَّهْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: آخری کام جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیکھا، وہ یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک ہاتھ میں تازہ کھجوریں تھیں اور دوسرے ہاتھ میں ککڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھجور کھاتے تھے اورساتھ ہی اس ککڑی سے ٹکڑا کاٹتے اور کھاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بکری کا سب سے عمدہ گوشت پشت کا گوشت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7351
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، نصر بن باب الخراساني تركه جماعة، وقال البخاري: يرمونه بالكذب، وحجاج بن ارطاة مدلس وقد عنعن، وقتادة لم يسمع من احد من اصحاب النبي صلي الله عليه وآله وسلم الا من انس وابي الطفيل ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1749 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1749»
حدیث نمبر: 7352
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کودیکھا کہ تر کھجوروں کے ساتھ ککڑی کھا رہے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۷۳۶۱)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7352
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5440، 5447، ومسلم: 2043 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1741 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1741»
حدیث نمبر: 7353
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ أَحَبُّ الْعُرَاقِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الذِّرَاعَ ذِرَاعَ الشَّاةِ وَكَانَ قَدْ سُمَّ فِي الذِّرَاعِ وَكَانَ يَرَى أَنَّ الْيَهُودَ هُمْ سَمُّوهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گوشت والی ہڈی میں سے سب سے زیادہ پسندیدہ دستی تھی اور دستی بھی بکری کی، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بکری کی دستی میں زہر ملایا گیا تھا اور یہودیوں نے زہر دیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7353
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، سعد بن عياض الثمالي في عداد المجھولين، أخرجه ابوداود: 3780، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3733 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3733»
حدیث نمبر: 7354
عَنْ شُرَحْبِيلَ عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُهْدِيَتْ لَهُ شَاةٌ فَجَعَلَهَا فِي الْقِدْرِ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا هَذَا يَا أَبَا رَافِعٍ فَقَالَ شَاةٌ أُهْدِيَتْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَطَبَخْتُهَا فِي الْقِدْرِ فَقَالَ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ يَا أَبَا رَافِعٍ فَنَاوَلْتُهُ الذِّرَاعَ ثُمَّ قَالَ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ الْآخَرَ فَنَاوَلْتُهُ الذِّرَاعَ الْآخَرَ ثُمَّ قَالَ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ الْآخَرَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا لِلشَّاةِ ذِرَاعَانِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَكَتَّ لَنَاوَلْتَنِي ذِرَاعًا فَذِرَاعًا مَا سَكَتَّ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ فَاهُ وَغَسَلَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ثُمَّ عَادَ إِلَيْهِمْ فَوَجَدَ عِنْدَهُمْ لَحْمًا بَارِدًا فَأَكَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے رسول سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:مجھے ایک بکری کا تحفہ دیا گیا، اسے ذبح کرکے اس کا گوشت ہنڈیا میں رکھ کر پکایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو رافع! اس کی دستی مجھے پکڑا دو۔ پس میں نے پکڑا دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: اس کی دوسری دستی بھی مجھے دے دو۔ میں نے دوسری دستی بھی پکڑا دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: مجھے ایک اور دستی دو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بکری کی دو ہی دستیاں تھیں، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو خاموش رہتا تو جب تک خاموش رہتا تو مجھے دستیاں پکڑاتا ہی رہتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگواکر اپنے منہ مبارک میں گھمایا اور انگلیاں دھوئیں پھرکھڑے ہوئے اور نماز ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لائے اور ہمارے پاس ٹھنڈا گوشت پایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کھایا اور پھر مسجد میں داخل ہوئے اور دوسری نماز پڑھی اور پانی کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7354
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره في قصة مناولة الذراع، وھذا اسناد ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد، وابو جعفر الرازي مختلف فيه، وقد اختلف عنه في ھذا الاسناد، أخرجه بن حبان: 1149، 5244، والطبراني في الكبير : 986 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27195 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27737»
حدیث نمبر: 7355
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ صُنِعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ فَأُتِيَ بِهَا فَقَالَ لِي يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ فَنَاوَلْتُهُ فَقَالَ يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ فَنَاوَلْتُهُ ثُمَّ قَالَ يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ لِلشَّاةِ إِلَّا ذِرَاعَانِ فَقَالَ لَوْ سَكَتَّ لَنَاوَلْتَنِي مِنْهَا مَا دَعَوْتُ بِهِ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الذِّرَاعُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بکری کا گوشت بھونا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے لایا گیا، سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابو رافع! مجھے دستی پکڑاؤ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکڑا دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو رافع! مجھے ایک اور دستی پکڑاؤ۔ میں نے وہ بھی پکڑا دی، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو رافع! مجھے ایک اور دستی پکڑاؤ۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بکری کی صرف دو ہی دستیاں ہوتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو خاموش رہتا تو جب تک میں دستی طلب کرتا رہتا، تو مجھے پکڑاتا رہتا۔ دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دستی کا گوشت بہت پسند تھا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ تھا کہ ہنڈیا سے دو سے زیادہ دستیاں نکالی جاتیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7355
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه ابن سعد: 1/ 393، والطبراني في الكبير : 970 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23859 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24360»
حدیث نمبر: 7356
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الذِّرَاعَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دستی کا گوشت بہت پسند تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7356
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، أخرجه بنحوه الترمذي: 1837، وابن ماجه: 3307 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8377 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8359»
حدیث نمبر: 7357
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ صَنَعْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَّارَةً فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَوَضَعْتُهَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَاطَّلَعَ فِيهَا فَقَالَ حَسِبْتُهُ لَحْمًا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَهْلِي فَذَبَحُوا لَهُ شَاةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے سنگریزوں کا ایک برتن بنایا ہوا تھا، میں وہ برتن آپ کے پاس لایا اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں جھانکا اور فرمایا: میرا خیال ہے کہ اس میں گوشت ہے۔ میں نے اس چیز کا ذکر گھر والوں سے کیا (اور ہم سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گوشت کھانے کی خواہش ہے) پس انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بکری ذبح کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7357
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابويعلي: 2079، 2080، وابن حبان: 7020، والحاكم: 4/111 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14581 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14635»
حدیث نمبر: 7358
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تُعْجِبُهُ الْفَاغِيَةُ وَكَانَ أَعْجَبُ الطَّعَامِ إِلَيْهِ الدُّبَّاءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فاغیہ بہت پسند تھا اور کھانوں میں سے سب سے زیادہ پسندیدہ کھانا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کدو کا سالن تھا۔
وضاحت:
فوائد: … فاغیہ کے تین معانی ہیں: خوشبو، حنا کی کلی، ہر خوشبودار پودے کی کلی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7358
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12574»
حدیث نمبر: 7359
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ قُدِّمَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةٌ فِيهَا قَرْعٌ قَالَ وَكَانَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ قَالَ فَجَعَلَ يَلْتَمِسُ الْقَرْعَ بِإِصْبَعَيْهِ أَوْ قَالَ بِأَصَابِعِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ایک پیالہ پیش کیا گیا، جس میں کدو تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کدو بہت پسند فرماتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیوں کے ساتھ پیالے میں سے کدو تلاش کرنا شروع کر دیئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7359
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12630 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12657»
حدیث نمبر: 7360
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ فَكَانَ إِذَا جِيءَ بِمَرَقَةٍ فِيهَا قَرْعٌ جُعِلَتِ الْقَرْعُ مِمَّا يَلِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایسا شوربا لایا جاتا، جس میں کدو ہوتا تو برتن کی کدو والی جانب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب کر دی جاتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7360
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12818»
حدیث نمبر: 7361
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرُّطَبِ وَالْخِرْبِزِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا آپ تر کھجوروں اورتربوز کو ملا کرکھا رہے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: کَانَ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَأْکُلُ الْبِطِّیْخَ بِالرُّطَبِ، فَیَقُوْلُ: ((نُکَسِّرُ حَرَّ ھٰذَا بِبَرْدِ ھٰذَا وَبَرْدَ ھٰذَا بِحَرِّ ھٰذَا))۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تازہ کھجوروں کے ساتھ تربوز کھاتے اور فرماتے تھے: ہم اس (تربوز) کی ٹھنڈک کے ذریعے اس (کھجور) کی گرمائش کو اور اس کی گرمائش کے ذریعے اس کی ٹھنڈک کے اثر کو ختم کر رہے ہیں۔ (ابوداود: ۳۸۳۵، ترمذی: ۱/۳۳۸،صحیحہ:۵۷)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7361
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن حبان: 5248، والترمذي في الشمائل : 200، والنسائي في الكبري : 6726 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12449 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12476»
حدیث نمبر: 7362
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ مَا أَقْفَرَ بَيْتٌ فِيهِ خَلٌّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سرکہ بہترین سالن ہے، وہ گھر (سالن سے) خالی نہیں ہے، جس میں سرکہ ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7362
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 336، والنسائي في الكبري : 6689 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14807 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14867»
حدیث نمبر: 7363
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَلَبَ أَوْ سَأَلَ أَهْلَهُ الْإِدْمَ قَالُوا مَا عِنْدَنَا إِلَّا خَلٌّ قَالَ فَدَعَا بِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ بِهِ وَيَقُولُ نِعْمَ الْإِدْمُ الْخَلُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن طلب کیا، انہوں نے کہا: سالن تو نہیں، البتہ سرکہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرکہ منگوایا اور اس کے ساتھ کھانا کھانا شروع کر دیا اور فرمایا: سرکہ توبہترین سالن ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7363
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2052، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14925 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14987»
حدیث نمبر: 7364
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ إِلَى مَنْزِلِهِ فَلَمَّا انْتَهَى قَالَ مَا مِنْ غَدَاءٍ أَوْ عَشَاءٍ شَكَّ طَلْحَةُ قَالَ فَأَخْرَجُوا فَلْقًا مِنْ خُبْزٍ قَالَ مَا مِنْ إِدْمٍ قَالُوا لَا إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ قَالَ أَدْنِيهِ فَإِنَّ الْخَلَّ نِعْمَ الْإِدْمُ هُوَ قَالَ جَابِرٌ مَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ طَلْحَةُ مَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنْ جَابِرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے لے کر اپنے گھر کی جانب چل دیئے، جب گھرپہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کوئی دوپہر کا یا شام کا کھانا ہے؟ انہوں نے روٹی کے چند ٹکڑے دیئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سالن نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، البتہ سرکہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے میرے پاس لاؤ، سرکہ تو بہترین سالن ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سنا ہے کہ سرکہ بہترین سالن ہے اس وقت سے لے کر میں نے سرکہ پسند کرنا شروع کر دیا اور سیدنا طلحہ بن نافع رحمہ اللہ نے کہا: جب سے میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سرکہ کے بارے میں یہ بات سنی، اس وقت سے میں نے بھی سرکہ پسند کرنا شروع کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … سالن سے مراد وہ چیز ہے، جس کے ذریعے روٹی کو چبانا اور اس کو گلے سے اتارنا آسان ہو جاتا ہے، وہ سرکہ ہو یا اچار وغیرہ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7364
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه مختصرا مسلم: 2052 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15293 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15367»
حدیث نمبر: 7365
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ يَعْنِي إِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَتَمَجَّعُ لَبَنًا بِتَمْرٍ فَقَالَ ادْنُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُمَا الْأَطْيَبَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ اسماعیل اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں: وہ کہتے ہیں:میں ایک آدمی کے پاس داخل ہوا، وہ کھجور اور دودھ ملا کر کھا رہا تھا، اس نے مجھے کہا: قریب ہو جا اور کھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں چیزوں کو افضل اورعمدہ قرار دیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … بہرحال دودھ اور کھجور میں بے شمار خاصیات پائی جاتی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7365
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابو خالد والد اسماعيل، لم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15893 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15988»
حدیث نمبر: 7366
عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو اسید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زیتون کا تیل کھاؤ اور بدن پر بھی لگاؤ، کیونکہ یہ مبارک درخت سے پیدا ہوتاہے۔
وضاحت:
فوائد: … حافظ ابن قیم نے کہا: حجاز جیسے گرم علاقوں میں بسنے والے کے لیے صحت کی حفاظت اور بدن کی اصلاح کے لیے یوں سمجھیں کہ زیتون کے تیل کا استعمال ضروری ہے، لیکن ٹھنڈے علاقوں میں اس کا استعمال نقصان دہ ہوتا ہے، بلکہ سر میں اس کا کثرت ِ استعمال سے آنکھوں کے لیے کسی خطرہ سے کم نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7366
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، أخرجه الترمذي: 1852، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16055 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16151»
حدیث نمبر: 7367
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی دیگر عورتوں پر اتنی فضیلت ہے، جس طرح تمام کھانوں پر ثرید کی فضیلت ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ثرید عربوں کی عمدہ اور افضل ڈش تھی، یہ روٹی، گوشت اور شوربے سے مرکب ہوتا ہے، یہ کھانا انتہائی مبارک،زود ہضم اور لذیذ ہوتا ہے، یہ آسانی سے کھایا جا سکتا ہے، اس پر زیادہ خرچ بھی نہیں ہوتا اور اس کی تھوڑی مقدار سے کھانے والا سیر ہو جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7367
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2446، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13785 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13821»
حدیث نمبر: 7368
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَطْعَمَهُ اللَّهُ طَعَامًا فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ وَمَنْ سَقَاهُ اللَّهُ لَبَنًا فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ فَإِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ يُجْزِئُ مَكَانَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ غَيْرَ اللَّبَنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے اللہ تعالیٰ کھانا نصیب کرے، وہ کہے: اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَاَطْعِمْنَا خَیْرًا مِنْہُ۔ ( اے میرے اللہ! اس میں ہمارے لیے برکت کر دے اور ہمیں اس سے بہتر کھلا) اور جسے اللہ تعالیٰ دودھ پینا نصیب کرے، وہ یہ دعا پڑھے: اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَزِدْنَا مِنْہ۔ (اے اللہ! ہمارے لیے اس میں برکت کر دے اور اس میں اضافہ فرما۔)، دودھ ہی ہے جو کھانے اور پینے دونوں کی جگہ پر کفایت کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … دودھ ایسی غذا ہے جو کھانے کا کھانا اور مشروب کا مشروب ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7368
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 3730، والترمذي: 3455، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1978 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1978»