کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مجبوراً مردارکھانے کی رخصت کی کا بیان
حدیث نمبر: 7347
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَهْلَ بَيْتٍ كَانُوا بِالْحَرَّةِ مُحْتَاجِينَ قَالَ فَمَاتَتْ عِنْدَهُمْ نَاقَةٌ لَهُمْ أَوْ لِغَيْرِهِمْ فَرَخَّصَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أَكْلِهَا قَالَ فَعَصَمَتْهُمْ بَقِيَّةَ شِتَائِهِمْ أَوْ سَنَتِهِمْ وَفِي رِوَايَةٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِصَاحِبِهَا أَمَا لَكَ مَا يُغْنِيكَ عَنْهَا قَالَ لَا قَالَ اذْهَبْ فَكُلْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مدینہ میں حرّہ مقام پر ایک گھر کے لوگ تھے، وہ بڑے محتاج تھے، ان کی یا کسی اور کی ایک اونٹنی مر گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں وہ مردار کھانے کی رخصت دے دی، اس سے ان کا باقی موسم سرما یا قحط سالی محفوظ ہو گئی۔ ایک روایت میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس اونٹنی کے مالک سے پوچھا: کیا تیرے پاس اس مردار کے لیے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر جا اور اس کو کھا لے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7347
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن الاسناد، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 3816، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20815 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21100»
حدیث نمبر: 7348
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ وَالِدِهِ بِالْحَرَّةِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ إِنَّ نَاقَةً لِي ذَهَبَتْ فَإِنْ أَصَبْتَهَا فَأَمْسِكْهَا فَوَجَدَهَا الرَّجُلُ فَلَمْ يَجِئْ صَاحِبُهَا حَتَّى مَرِضَتْ فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ انْحَرْهَا حَتَّى نَأْكُلَهَا فَلَمْ يَفْعَلْ حَتَّى نَفَقَتْ فَقَالَتْ امْرَأَتُهُ اسْلُخْهَا حَتَّى نُقَدِّدَ لَحْمَهَا وَشَحْمَهَا قَالَ حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ يُغْنِيكَ عَنْهَا قَالَ لَا قَالَ كُلْهَا فَجَاءَ صَاحِبُهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ هَلَّا نَحَرْتَهَا قَالَ اسْتَحْيَيْتُ مِنْكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ ایک آدمی حرہ زمین میں اپنے والد کے ساتھ رہتا تھا، اس سے ایک آدمی نے کہا: میری اونٹنی کہیں چلی گئی ہے، جب تو اسے پا لے تو اپنے پاس روک لینا، وہ اونٹنی تو واقعی اس نے پا لی، مگر اس کا مالک نہ آیا، یہاں تک وہ اونٹنی بیمار پڑ گئی، اس آدمی سے اس کی بیوی نے کہا: اسے ذبح کر لو تاکہ ہم اس کو کھا لیں، لیکن اس آدمی نے ایسا نہ کیا، حتیٰ کہ وہ خود مر گئی، اس کی بیوی نے کہا: اب اس کی کھال اتارو، ہم اس کے گوشت اور چربی کے ٹکڑے اور پارچے کرتے ہیں اور کھاتے ہیں، اس آدمی نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا، جب تک کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہ پوچھ لوں، پس اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے پاس کوئی چیز اس مردہ اونٹنی کے علاوہ ہے، جو کھانے میں تجھے کفایت کرے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اسے کھا لو۔ بعد میں جب اس اونٹنی کا مالک آیا تو اس نے اس آدمی سے کہا: تونے اسے ذبح کیوں نہیں کر لیا تھا، اس نے کہا:بس مجھے تجھ سے شرم آئی تھی (کہ اجازت کے بغیر کیسے ذبح کروں)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7348
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21209»
حدیث نمبر: 7349
عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ تُصِيبُنَا بِهَا مَخْمَصَةٌ فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنَ الْمَيْتَةِ قَالَ إِذَا لَمْ تَصْطَبِحُوا وَلَمْ تَغْتَبِقُوا وَلَمْ تَحْتَفِئُوا بَقْلًا فَشَأْنُكُمْ بِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو واقدلیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ایک ایسے علاقے میں رہتے ہیں کہ وہاں بھوک کا غلبہ رہتا ہے، ہمارے لیے مردار میں سے کیا کیا حلال ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب نہ تمہیں صبح کو کچھ کھانے کو ملے،نہ شام کو کچھ ملے اور نہ تمہیں کوئی ترکاری ملے تو پھر تم مردار کھا سکتے ہو۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیَتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَمَا اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَا اِثْمَ عَلَیْہِ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔} … تم پر مردہ اور (بہایا ہوا) خون اور سور کا گوشت اور ہر وہ چیز جس پر اللہ کے سوادوسروں کا نام پکارا گیا ہو، حرام ہے، پھر جو مجبور ہو جائے، اس حال میں کہ وہ سرکشی کرنے والا اور زیادتی کرنے والا نہ ہو تو اس پر ان کے کھانے میں کوئی گناہ نہیں، بیشک اللہ تعالی بہت بخشش کرنے والا بہت مہربان ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۱۷۳)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7349
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن بطرقه وشواھده، أخرجه البيھقي: 9/ 356، والدارمي: 1996، والحاكم: 4/ 125 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21898 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22243»