کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: حرام کھانوں کا بیان
حدیث نمبر: 7328
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ فَأَخَذُوا الْحُمُرَ الْإِنْسِيَّةَ فَذَبَحُوهَا وَمَلَئُوا مِنْهَا الْقُدُورَ فَبَلَغَ ذَلِكَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَابِرٌ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَفَأْنَا الْقُدُورَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيَأْتِيكُمْ بِرِزْقٍ هُوَ أَحَلُّ لَكُمْ مِنْ ذَا وَأَطْيَبُ مِنْ ذَا قَالَ فَكَفَأْنَا يَوْمَئِذٍ الْقُدُورَ وَهِيَ تَغْلِي فَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ الْحُمُرَ الْإِنْسِيَّةَ وَلُحُومَ الْبِغَالِ وَكُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَكُلَّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ وَحَرَّمَ الْمُجَثَّمَةَ وَالْخِلْسَةَ وَالنُّهْبَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ خیبر کے دن لوگوں کو بہت بھوک لگی ہوئی تھی، پس انہوں نے گھریلو گدھے پکڑ کر ذبح کئے اور ہنڈیاں بھر بھر کر انہیں پکانا شروع کر دیا، جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ ہنڈیاں الٹ دو، سو ہم نے ہنڈیاں الٹ دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ عنقریب تمہیں اس سے زیادہ بہتر اور حلال رزق عنایت فرمائیں گے۔ ہم نے اس دن ہنڈیاں الٹ دیں، جبکہ وہ جوش مار رہی تھیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن گھریلو گدھوں،خچروں کا گوشت، ہر کچلی والا درندہ، پنجے سے شکار کرنے والا ہر پرندہ، وہ جانور جسے گاڑھ کر اس پر نشانہ باندھا گیا ہو، جس جانور کو درندہ چھین کر لے جائے اور وہ مر جائے اور لوٹا ہوا مال، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب چیزوں کو حرام قرار دیا۔
وضاحت:
فوائد: … ذِی نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ سے مراد ایسا درندہ ہے جو کچلیوں کے ساتھ شکار کرکے کھائے، مثلا شیر، بھیڑیا، چیتا، گیدڑ اور لومڑ وغیرہ۔ یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقوال و افعال کے حجت ہونے پر قطعی اور واضح دلیل ہے، کیونکہ قرآن مجید کی رو سے ان جانوروں کا حرام ہونا ثابت نہیں ہوتا، لیکن ہر مسلمان ان کو حرام سمجھتا ہے۔ ایسے تمام جانوروں کی حرمت احادیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7328
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه مختصرا الترمذي: 1478، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14463 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14517»
حدیث نمبر: 7329
عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ كُلَّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ وَلُحُومَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ وَالْخَلِيسَةَ وَالْمُجَثَّمَةَ وَأَنْ تُوطَأَ السَّبَايَا حَتَّى يَضَعْنَ مَا فِي بُطُونِهِنَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے دن پنجے سے شکار کرنے والا ہر پرندہ،گھریلو گدھے کا گوشت، جس جانور کو درند ہ چیر پھاڑ کر مار دے، جس جانور کو باندھ کر نشانہ بازی سے مارا گیا ہو اور حاملہ لونڈیوں سے جماع کرنا، جب تک وہ حمل وضع نہ کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب چیزوں کو حرام قرار دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7329
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 1474،1564، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17153 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17284»
حدیث نمبر: 7330
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ كُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَالْمُجَثَّمَةَ وَالْحِمَارَ الْإِنْسِيَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبیر کے دن ہر ایک کچلی والا درندہ، نشانہ لگا کر مارا گیا جانور اور گھریلو گدھے کو حرام قرار دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7330
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، أخرجه الترمذي: 1795، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8789 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8775»
حدیث نمبر: 7331
عَنْ صَالِحٍ يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ عَنْ جَدِّهِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ الصَّائِفَةَ فَقَرِمَ أَصْحَابُنَا إِلَى اللَّحْمِ فَسَأَلُونِي فَقَالُوا أَتَأْذَنُ لَنَا أَنْ نَذْبَحَ رَمْكَةً لَهُ فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِمْ فَحَبَلُوهَا ثُمَّ قُلْتُ مَكَانَكُمْ حَتَّى آتِيَ خَالِدًا فَأَسْأَلَهُ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ خَيْبَرَ فَأَسْرَعَ النَّاسُ فِي حَظَائِرِ يَهُودَ فَأَمَرَنِي أَنْ أُنَادِيَ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُسْلِمٌ ثُمَّ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ قَدْ أَسْرَعْتُمْ فِي حَظَائِرِ يَهُودَ أَلَا لَا تَحِلُّ أَمْوَالُ الْمُعَاهَدِينَ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحَرَامٌ عَلَيْكُمْ لُحُومُ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ وَخَيْلِهَا وَبِغَالِهَا وَكُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر گرمیوں میں غزوہ کیا، ہمارے ساتھیوں کو گوشت کھانے کی بہت چاہت ہوئی، انہوں نے کہا: کیا آپ ہمیں اجازت دیتے ہیں کہ ہم گھوڑی ذبح کر لیں، انہوں نے انہیں دیئے اور رسیوں میں باندھ دیئے، پھر میں نے کہا: ٹھہر جائیں، میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے پاس جاتا ہوں اور ان سے پوچھتا ہوں، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر غزوہ خیبرکیا، لوگوں نے بہت ہی تیز رفتاری سے یہودیوں کے باڑوں کی طرف پیش قدمی کی، آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں لوگوں کو جمع کرنے کے لیے یہ آواز دوں: اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ اور کہوں کہ جنت میں صرف مسلمان داخل ہو گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! تم نے یہودیوں کے باڑوں کی جانب بڑھنے میں بہت زیادہ تیز رفتاری کا مظاہرہ کیا ہے، خبردار! ذمیوں کا مال تمہارے لیے حلال نہیں ہے، مگر حق کے ساتھ اور تم پر گھریلو گدھوں، گھوڑوں اور خچروں کا گوشت، ہر کچلی والا درندہ اور پنجے سے شکار کرنے والا ہر پرندہ تم پر حرام ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7331
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لاضطرابه، علي نكارة في بعض الفاظه، أخرجه ابوداود: 3806، والنسائي: 7/ 202، وابن ماجه: 3198، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16816 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16940»
حدیث نمبر: 7332
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ وَالْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7332
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16941»
حدیث نمبر: 7333
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ الصَّائِفَةَ فَذَكَرَ نَحْوَ الطَّرِيقِ الْأُولَى سَوَاءً بِسَوَاءٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، میں نے موسم گرما میں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر غزوہ کیا، پھر پہلے سند والے متن کی طرح کا متن بیان کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7333
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16942»
حدیث نمبر: 7334
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ وَعَنْ ثَمَنِ الْمَيْتَةِ وَعَنْ لَحْمِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ وَعَنْ مَهْرِ الْبَغِيِّ وَعَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ وَعَنِ الْمَيَاثِرِ الْأُرْجُوَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے، پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے، مردار کی قیمت ، گھریلو گدھوں کے گوشت اور زانی خاتون کی کمائی، سانڈ کی جفتی کا عوض لینے اور سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب میںمختلف حرام چیزوں کا ذکر ہوا ہے، البتہ گھوڑے کی حرمت پر دلالت کرنے والی حدیث ضعیف ہے، گھوڑا حلال جانور ہے، جیسا کہ پہلے وضاحت ہو چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7334
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، حسن بن ذكوان ضعيف، وھو لم يسمع من حبيب بن ابي ثابت، بينھما عمرو بن خالد القرشي المتھم بالكذب، أخرجه الدارقطني: 2/ 121 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1254 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1254»