حدیث نمبر: 7325
حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي قَبِيصَةُ بْنُ هُلْبٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ مِنَ الطَّعَامِ طَعَامًا أَتَحَرَّجُ مِنْهُ (وَفِي رِوَايَةٍ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ طَعَامِ النَّصَارَى فَقَالَ لَا يَخْتَلِجَنَّ فِي صَدْرِكَ طَعَامٌ ضَارَعْتَ فِيهِ النَّصْرَانِيَّةَ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ہلب طائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا اور ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ ایک کھانا ایسا ہے، جس سے میں دل میں تنگی محسوس کرتا ہوں، دوسری روایت میں ہے: اس نے کہا: میں نے عیسائیوں کے کھانا کے متعلق آپ سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسے کھانے کے بارے میں تیرے سینے میں کوئی شبہ پیدا نہیں ہونا چاہیے، جس میں عیسائیت سے مشابہت پیدا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ جو چیزیں شریعت کی روشنی میں حلال ہیں، ان کو کسی وسوسے اور شبہے کی بنا پر نہیں چھوڑنا چاہیے، کیونکہ ایسا کرنا اہل نصرانیت کی روش تھی۔
حدیث نمبر: 7326
عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ مُرَيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ قَالَ سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ وَيَفْعَلُ كَذَا وَكَذَا قَالَ إِنَّ أَبَاكَ أَرَادَ أَمْرًا فَأَدْرَكَهُ يَعْنِي الذِّكْرَ قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَسْأَلُكَ عَنْ طَعَامٍ لَا أَدَعُهُ إِلَّا تَحَرُّجًا قَالَ لَا تَدَعْ شَيْئًا ضَارَعْتَ فِيهِ نَصْرَانِيَّةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے باپ حاتم طائی صلہ رحمی کرتے تھے اور کئی نیک کام کرتے تھے؟ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تمہارے والد نے جس کام کا ارادہ کیا تھا، اس نے اس کو پا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد شہرت اور نمود و نمائش تھی،میں نے کہا: اچھا میں آپ سے ایسے کھانے کے متعلق سوال کرتا ہوں، جسے میں شک اور حرج کی بنا پر ہی چھوڑ دیتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ایسی چیز کو نہ چھوڑ، جس میں نصرانیت کی مشابہت ہو رہی ہو۔
وضاحت:
فوائد: … حاتم مذہباً عیسائی تھا، دورِ جاہلیت میں فوت ہو گیا تھا، جود و سخاوت میں عدیم النظیر تھا۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس کی سخاوت اور دوسرے اچھے خصائل کا مقصد شہرت اور تعریف کا حصول تھا، نہ کہ رضائے الہی کی تلاش اور ایسے ہی ہوا۔حافظ ابن کثیر نے اپنی تاریخ میںکہا: حاتم ایک سخی آدمی تھا، دور جاہلیت میں اس کی بڑی تعریف کی جاتی تھی، اس کے بیٹے نے اسلام کو پا لیا تھا۔ حاتم اپنی سخاوت میں عجیب امور اور غریب اخبار والا تھا، لیکن اس کا مقصد شہرت طلبی اور ریاکاری تھا، نہ کہ اللہ تعالی کی ذات اور آخرت۔
حدیث نمبر: 7327
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِجُبْنَةٍ فِي غَزَاةٍ فَقَالَ أَيْنَ صُنِعَتْ هَذِهِ فَقَالُوا بِفَارِسَ وَنَحْنُ نُرَى أَنَّهُ يُجْعَلُ فِيهَا مَيْتَةٌ فَقَالَ اطْعَنُوا فِيهَا بِالسِّكِّينِ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَكُلُوا ذَكَرَهُ شَرِيكٌ مَرَّةً أُخْرَى فَزَادَ فِيهِ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَهَا بِالْعِصِيِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ ایک غزوہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پنیر پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہاں تیار کیا گیا؟ انہوں نے کہا: یہ فارس کے علاقہ میں تیار کیا گیا اور ہمارا خیال ہے کہ اس میں مردار کا گوشت ڈالتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے چھری سے کاٹو اور بسم اللہ پڑھ کر کھا لو۔ دوسری مرتبہ جب شریک نے روایت کی تو یہ اضافہ کیا: لوگوں نے اسے لاٹھیوں کے تیزدھار حصہ کے ساتھ کاٹنا شروع کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اُتِیَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِجُبْنَۃٍ فِیْ تَبُوْکَ، فَدَعَا بِسِکِّیْنٍ فَسَمّٰی وَقَطَعَ۔ … تبوک کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پنیر کا ٹکڑا لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھری منگوائی اور اللہ تعالی کا نام لے کر اس کو کاٹا۔ (ابوداود: ۳۸۱۹)