کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: لہسن اور پیاز اور ان جیسی چیز کھانے کا بیان
حدیث نمبر: 7315
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْكُرَّاثِ وَالْبَصَلِ وَالثُّومِ فَقُلْنَا أَحَرَامٌ هُوَ قَالَ لَا وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گندنے، پیاز اور لہسن سے منع فرمایا ہے، ہم نے کہا: کیا یہ حرام ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، حرام نہیں ہیں، البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے منع کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … گندنا: ایک بدبودار قسم کی ترکاری جو پیاز کے مشابہ ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ اگر ان بدبودار چیزوں کو پکا کر ان کی بدبو ختم کر دی جائے تو ان کا کھانا جائز ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7315
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب الازدي ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11805 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11827»
حدیث نمبر: 7316
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ فَغَلَبَتْنَا الْحَاجَةُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیازاور گندنا کھانے سے منع فرمایا ہے، لیکن ہم پر ہماری حاجت مندی غالب آ گئی اور ہم نے یہ کھا لیے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اس بدبودار درخت میں سے کھایا ہو، وہ ہماری مسجد کے قریب تک نہ آئے، کیونکہ فرشتے اس چیز سے اذیت محسوس کرتے ہیں، جس سے انسان اذیت محسوس کرتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7316
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 564، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15014 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15078»
حدیث نمبر: 7317
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا آكُلُهُ وَلَا آمُرُ بِهِ وَلَا أَنْهَى عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ میں (پیاز اور لہسن) کھاتا ہوں، نہ ان کا حکم دیتا ہوں اور نہ ان سے منع کرتاہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7317
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه مسلم من فعله صلي الله عليه وآله وسلم : 1943، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5026 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5026»
حدیث نمبر: 7318
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ الْخَبِيثَتَيْنِ وَقَالَ مَنْ أَكَلَهُمَا فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا وَقَالَ إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ آكِلِيهِمَا فَأَمِيتُوهُمَا طَبْخًا قَالَ يَعْنِي الْبَصَلَ وَالثُّومَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا قرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دو خبیث درختوں (پیاز اور لہسن) سے منع کیا اور فرمایا: جو یہ دونوں چیزیں کھائے، وہ ہر گز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اور اگر تم نے ضرورکھانا ہی ہو تو انہیں پکا کر کھا لیا کرو (تاکہ بد بو ختم ہو جائے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد پیاز اور لہسن تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7318
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 3827 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16247 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16355»
حدیث نمبر: 7319
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَصْعَةٍ فِيهَا بَصَلٌ فَقَالَ كُلُوا وَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ وَقَالَ إِنِّي لَسْتُ كَمِثْلِكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک پیالہ لایا گیا، اس میں پیاز تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: تم کھا لو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا: میں اس معاملے میں تمہاری طرح نہیں ہوں، (کیونکہ میرے پاس فرشتہ وحی لے کر آتا ہے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7319
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه مطولا مسلم: 2053، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23504 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23900»
حدیث نمبر: 7320
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ أَكَلَ مِنْهُ وَبَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَيَّ وَإِنَّهُ بَعَثَ يَوْمًا بِقَصْعَةٍ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا فِيهَا ثُومٌ فَسَأَلْتُهُ أَحَرَامٌ هُوَ قَالَ لَا وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ مِنْ أَجْلِ رِيحِهِ قَالَ فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا كَرِهْتَ وَفِي لَفْظٍ فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ بِأَبِي وَأُمِّي هَذَا الطَّعَامُ لَمْ تَأْكُلْ مِنْهُ آكُلُ مِنْهُ قَالَ فِيهِ تِلْكَ الثُّومَةُ فَيَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ فَآكُلُ مِنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ فَكُلْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے جب کھانا پیش کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے کھاتے اورباقی مجھے عنایت فرما دیتے، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھانے کا ایک پیالہ پیش کیا گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کچھ نہ کھایا، اس میں لہسن تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا: کیا یہ حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، حرام نہیں ہے، بس میں اس کی بدبو کی وجہ سے اسے ناپسند کرتا ہوں۔ ایک روایت میں ہے: سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، یہ کھانا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو کھایا نہیں اور میں کھاؤں؟ یہ نہیں ہو سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس میں لہسن ہے اورمیرے پاس جبریل علیہ السلام اجازت لے کر وحی لایا کرتے ہیں، اس لیے میں نہیں کھاتا۔ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا پس میں اس سے کھاؤں؟ اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، تو کھا لے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7320
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2053، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23525 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23922»
حدیث نمبر: 7321
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ أَخْبَرَهُ أَبُوهُ قَالَ نَزَلْتُ عَلَى أُمِّ أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا الَّذِي نَزَلَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَزَلْتُ عَلَيْهَا فَحَدَّثَتْنِي بِهَذَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ تَكَلَّفُوا طَعَامًا فِيهِ بَعْضُ هَذِهِ الْبُقُولِ فَقَرَّبُوهُ فَكَرِهَهُ وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ كُلُوا إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ إِنِّي أَخَافُ أَنْ أُوذِيَ صَاحِبِي يَعْنِي الْمَلَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ یزید سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں سیدہ ام ایوب انصاری رضی اللہ عنہا ، جن کے گھر ہجرت کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہوئے تھے، کے ہاں ٹھہرا، انھوں نے مجھے بیان کیا کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے پرتکلیف کھانا دیا، جس میں یہ سبزیاں پیاز اور لہسن بھی تھیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کھانا پسند نہ کیا اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا: تم کھا لو، میں تمہاری مانند نہیں ہوں، میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اپنے ہم نشیں فرشتے کو تکلیف میں مبتلا نہ کر دوں۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ اَکَلَ ثُوْمًا اَوْ بَصَلًا فَلْیَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا وَلْیَقْعُدْ فِیْ بَیْتِہٖ۔)) (بخاری، مسلم) … جو آدمی (کچا) لہسن اور (کچا) پیاز کھائے وہ ہماری مسجد سے دور رہے اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے۔ اس حدیث کی روشنی میں مذکورہ بالا حدیث کا یہ مفہوم بیان کیا جائے گا کہ مسجد میں جانے کا وقت اتنا دور تھا کہ اس وقت تک صحابہ کرام کے منہ سے لہسن کی بو ختم ہو چکی ہو گی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر بھی ایسی چیز کھانا مناسب نہ سمجھی اور وجہ بھی بیان کر دی۔اگر مسجد میں جانے کا وقت قریب ہو تو اس قسم کی چیز کھانا منع ہے۔ دراصل وہ لہسن پکا ہوا تھا جس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں مگر آپ کے پاس چونکہ فرشتہ آتا تھا اس لیے آپ پکے ہوئے لہسن سے بھی بچتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7321
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن في الشواھد، أخرجه الترمذي: 1810، وابن ماجه: 3364، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27442 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27988»
حدیث نمبر: 7322
عَنْ أَبِي زَيَادٍ خَيَارِ بْنِ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ الْبَصَلِ فَقَالَتْ إِنَّ آخِرَ طَعَامٍ أَكَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَعَامٌ فِيهِ بَصَلٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو زیاد خیار بن سلمہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پیاز کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے کہا: آخری کھانا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھایا تھا، اس میں پیاز موجود تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7322
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، بقية بن الوليد يدلس ويسوي، ومثله ينبغي ان يصرح بالسماع في جميع طبقات السند، أخرجه ابوداود: 3829 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24585 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25092»
حدیث نمبر: 7323
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَوَجَدَ مِنِّي رِيحَ الثُّومِ فَقَالَ مَنْ أَكَلَ الثُّومَ قَالَ فَأَخَذْتُ يَدَهُ فَأَدْخَلْتُهَا فَوَجَدَ صَدْرِي مَعْصُوبًا قَالَ إِنَّ لَكَ عُذْرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے لہسن کی بدبو محسوس کی اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لہسن کس نے کھایا ہے، میں نے جواباً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دست مبارک اپنے سینہ پر رکھ دیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سینے پر بندھی ہوئی پٹی پائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا آپ معذور ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ عذر کی صورت میں اس قسم کی چیزیں استعمال کی جا سکتی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7323
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 3826 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18176 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18360»
حدیث نمبر: 7324
عَنْ أَبِي الرَّبَابِ قَالَ سَمِعْتُ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ فَنَزَلْنَا فِي مَكَانٍ كَثِيرِ الثُّومِ وَإِنَّ أُنَاسًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَصَابُوا مِنْهُ ثُمَّ جَاءُوا إِلَى الْمُصَلَّى يُصَلُّونَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُمْ عَنْهَا ثُمَّ جَاءُوا بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى الْمُصَلَّى فَنَهَاهُمْ عَنْهَا ثُمَّ جَاءُوا بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى الْمُصَلَّى فَنَهَاهُمْ عَنْهَا ثُمَّ جَاءُوا بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى الْمُصَلَّى فَوَجَدَ رِيحَهَا مِنْهُمْ فَقَالَ مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَقْرَبْنَا فِي مَسْجِدِنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے،ہم ایک ایسی جگہ پر اترے، وہاں لہسن بہت زیادہ تھا، مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں نے اسے کھایا اور پھر نماز کی جگہ پر آگئے تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کر لیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اس سے روکا، وہ اس کے بعد پھر نماز کی جگہ پرلہسن کھا کر آئے، آپ نے انہیں روکا، لیکن اس کے بعد وہ پھر نماز کی جگہ پر لہسن کھا کر آگئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بعد ان کو روکا، اس کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بو پائی کہ یہ لہسن وغیرہ کھا کر آئے ہیں تو فرمایا: جس نے اس درخت سے کھایا ہو، وہ ہماری مسجد کے قریب تک نہ آئے۔
وضاحت:
فوائد: … موجودہ دور میں انسان کی خواہشات، چاہتیں اور زبان کے چسقے اس کے مذہب پر غالب ہیں، ہمارے ہاں کھانے کے ساتھ پیاز اور مولی وغیرہ بطور سلاد استعمال کئے جاتے ہیں۔ روکنے ٹوکنے کے باوجود کھانے والوں کی توجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان عالی شان کی طرف جھکاؤ ہی اختیار نہیں کرتی اور بعض احباب اتنا کہہ دیتے ہیں کہ پیاز وغیرہ کے بعد گڑ یا چینی وغیرہ کا استعمال کیا جائے تو بدبو ختم ہو جاتی ہے، لیکن وہ خود یہ نسخہ استعمال کئے بغیر مساجد کی طرف چل دیتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7324
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 510، 8/ 302 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20302 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20568»