کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مچھلی اور ٹڈی کابیان
حدیث نمبر: 7310
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ أَبِي عُبَيْدَةَ بَعَثَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ فِي سَفَرٍ فَنَفَدَ زَادُنَا فَمَرَرْنَا بِحُوتٍ قَذَفَهُ الْبَحْرُ فَأَرَدْنَا أَنْ نَأْكُلَ مِنْهُ فَمَنَعَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ ثُمَّ إِنَّهُ قَالَ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ كُلُوا قَالَ فَأَكَلْنَا مِنْهُ أَيَّامًا فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنْ كَانَ بَقِيَ مَعَكُمْ شَيْءٌ فَابْعَثُوا بِهِ إِلَيْنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ ایک سفر پر روانہ کیا، ہمارا زادِ سفر ختم ہو گیا، اتنے میں ہم نے ایک مچھلی پائی، جسے دریا نے باہر پھینک دیا تھا، ہم نے اسے کھانا چاہا، لیکن سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں ایسا کرنے سے روک دیا اور پھر کہا: کوئی بات نہیں ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قاصد ہیں، کھا لو، پس ہم کچھ دنوں تک اس کو کھاتے رہے، پھر جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے بارے میں بتلایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس مچھلی کا کچھ حصہ تمہارے پاس ہے تو ہمارے لیے بھیج دو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7310
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1935، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14256 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14306»
حدیث نمبر: 7311
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَصَبْنَا جَرَادًا فَأَكَلْنَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر جہاد کیا، ہم نے ٹڈیاں پائیں اور ان کو کھایا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7311
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14700»
حدیث نمبر: 7312
عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ قَالَ سَأَلَ شَرِيكِي وَأَنَا مَعَهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْجَرَادِ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِهِ وَقَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ فَكُنَّا نَأْكُلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو یعفور سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے ساجھی نے سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے ٹڈی کے بارے میں دریافت کیا گیا، جبکہ میں بھی اس کے ساتھ تھا، انہوں نے جواباً کہا: اس میں کوئی حرج نہیں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر سات غزوات کئے ہیں، ہم ٹڈی کھایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7312
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5495، ومسلم: 1952، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19150 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19363»
حدیث نمبر: 7313
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ فَكُنَّا نَأْكُلُ فِيهَا الْجَرَادَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں سات غزوات کئے، ہم ان میں مکڑی کھایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7313
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19322»
حدیث نمبر: 7314
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ فَأَمَّا الْمَيْتَتَانِ فَالْحُوتُ وَالْجَرَادُ فَأَمَّا الدَّمَانِ فَالْكَبِدُ وَالطِّحَالُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے لیے دو مردار اور دو خون حلال کئے گئے ہیں، دو مردار مچھلی اور ٹڈی ہیں دو خون جگر اور تلی ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مچھلی اور ٹڈی نہ صرف حلال ہیں، بلکہ ان کا مردار بھی حلال ہے، یہ اللہ تعالی کی طرف سے بہت بڑی رخصت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7314
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه ابن ماجه: 3218 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5723 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5723»