کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سانڈا کھانے کا بیان
حدیث نمبر: 7288
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُحَرِّمِ الضَّبَّ وَلَكِنْ قَذِرَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سانڈا کو حرام قرار نہیں دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ناپسند کیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7288
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 3239، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 194 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 194»
حدیث نمبر: 7289
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ خَالَتَهُ أُمَّ حُفَيْدٍ أَهْدَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَضُبًّا وَأَقِطًا قَالَ فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ وَمِنَ الْأَقِطِ وَتَرَكَ الْأَضُبَّ تَقَذُّرًا فَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُؤْكَلْ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ مَنْ قَالَ لَوْ كَانَ حَرَامًا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ ان کی خالہ سیدہ ام حفید رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے گھی، سانڈا اور پنیر کا تحفہ بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھی کھایا اور پنیر میں سے بھی کچھ کھایا، البتہ کراہت اور گھن محسوس کرتے ہوئے سانڈا کا گوشت نہ کھایا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستر خوان پر سانڈا کا گوشت کھایا گیا، اگر یہ جانور حرام ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستر خوان پر تو نہ کھایا جاتا۔ ابوبشر کہتے ہیں: میں نے سعید بن جبیر سے پوچھا کہ اگر یہ جانور حرام ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستر خوان پر نہ کھایا جاتا یہ بات کس نے کہی ہے، انہو ں نے کہا: یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7289
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2572، 5402، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2299 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2299»
حدیث نمبر: 7290
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ قَالَ دَعَانَا رَجُلٌ فَأَتَى بِخِوَانٍ عَلَيْهِ ثَلَاثَةَ عَشَرَ ضَبًّا قَالَ وَذَاكَ عِشَاءً فَآكِلٌ وَتَارِكٌ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا غَدَوْنَا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ فَأَكْثَرَ فِي ذَلِكَ جُلَسَاؤُهُ حَتَّى قَالَ بَعْضُهُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِئْسَمَا قُلْتُمْ إِنَّمَا بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُحِلًّا وَمُحَرِّمًا ثُمَّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ وَعِنْدَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَامْرَأَةٌ فَأُتِيَ بِخِوَانٍ عَلَيْهِ خُبْزٌ وَلَحْمُ ضَبٍّ قَالَ فَلَمَّا ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَنَاوَلُ قَالَتْ لَهُ مَيْمُونَةُ إِنَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَحْمُ ضَبٍّ فَكَفَّ يَدَهُ وَقَالَ إِنَّهُ لَحْمٌ لَمْ آكُلْهُ وَلَكِنْ كُلُوا قَالَ فَأَكَلَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْمَرْأَةُ قَالَ وَقَالَتْ مَيْمُونَةُ لَا آكُلُ مِنْ طَعَامٍ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ یزید بن اصم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے ہماری دعوت کی، جب دستر خوان لگایا گیا تو اس پر تیرہ سانڈے سالن کے طور پر رکھے گئے، یہ عشاء کا وقت تھا، بعض نے کھا لیے اور بعض نے نہ کھائے، جب صبح ہوئی تو ہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماکے پاس گئے اورمیں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا، ان کے قریب بیٹھنے والوں نے تو بہت باتیں کیں، یہاں تک کہ بعض نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نہ میں اسے کھاتاہوں اور نہ میں اسے حرام قرار دیتاہوں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے کہا: تم نے اچھی بات نہیں کہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حلال یا حرام قرار دینے والا بنا کر بھیجا گیا ہے، پھر انھوں نے کہا:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ ، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور ایک عورت بھی تھی، ایک دستر خوان لایا گیا، جس میں روٹی اور سانڈے کا گوشت تھا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ کھانا تناول فرمانے لگے تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ سانڈے کا گوشت ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا اور فرمایا: میں اس قسم کا گوشت نہیں کھاتا، البتہ تم لوگ کھا لو۔ سیدنا فضل بن عباس، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہما اور اس عورت نے یہ کھانا کھایا، البتہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے یہ کہتے ہوئے کھانے سے انکار کیا تھا کہ میں وہ کھانا نہیں کھاتی، جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانے سے انکار دیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7290
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1948، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2684 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2684»
حدیث نمبر: 7291
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّبِّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ لَا آكُلُهُ وَلَا أَنْهَى عَنْهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَأْتِيَنَّ الْمَسْجِدَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سانڈا کے گوشت کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت منبر پر تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نہ تو اسے کھاتا ہوں اور نہ میں اس کو کھانے سے منع کرتا ہوں۔ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اس درخت یعنی لہسن میں سے کچھ کھائے ، وہ مسجد میں ہرگز نہ آئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7291
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «الحديث الاول أخرجه مسلم: 1943، والحديث الثاني أخرجه البخاري: 4215، ومسلم: 561 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4619 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4619»
حدیث نمبر: 7292
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَدْ أُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي الضَّبَّ فَلَمْ يَأْكُلْهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماہی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سانڈا کا گوشت لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ کھایا اور نہ اس کو حرام قراردیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7292
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1943، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4497»
حدیث نمبر: 7293
عَنْ ثَابِتِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ وَدَاعَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اصْطَدْنَا ضِبَابًا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ قَالَ فَطَبَخَ النَّاسُ وَشَوَوْا قَالَ فَأَخَذْتُ ضَبًّا فَشَوَيْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَخَذَ عُودًا فَجَعَلَ يُقَلِّبُ بِهِ أَصَابِعَهُ أَوْ يَعُدُّهَا ثُمَّ قَالَ إِنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ دَوَابَّ فِي الْأَرْضِ وَإِنِّي لَا أَدْرِي أَيَّ الدَّوَابِّ هِيَ قَالَ قُلْتُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَوَوْا قَالَ فَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ وَلَمْ يَنْهَهُمْ عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ثابت بن یزید بن وداعۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے سانڈے شکار کیے، جبکہ ہم ایک غزوے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگوں نے ان کو پکایا اور بھون لیا، سیدنا ثابت کہتے ہیں: میں نے بھی ایک سانڈا شکار کیا اور اسے بھون کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لکڑی لی اور اس کی مدد سے سانڈا کی انگلیوں کو الٹ پلٹ کرنے یا ان کو گننے لگ گئے، اور پھر فرمایا: بنی اسرائیل کی ایک امت زمین پر جانوروں کی صورت میں مسخ کر دی گئی تھی، اب مجھے معلوم نہیں کہ وہ کون سا جانور تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں نے تو اسے بھون کرکھانا شروع کر دیا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ اس سے کھایا اور نہ کھانے سے منع کیا۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صحیح ثابت ہے کہ مسخ شدہ قوم کی نسل نہیں ہوتی، سانڈے کے بارے میں یہ تردّد اس وحی سے پہلے تھا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا گیا کہ مسخ شدہ قوم کی نسل نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7293
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 3795، وابن ماجه: 3238 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17931 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18096»
حدیث نمبر: 7294
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَضُبٍّ عَلَيْهَا تَمْرٌ وَسَمْنٌ وَقَالَ كُلُوا فَإِنِّي أَعَافُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سات سانڈے لائے گئے، ان پر کھجوریں اور گھی بھی رکھا گیا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کھا لو میں انہیں پسند نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7294
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار : 4/ 202، والبيھقي: 9/ 324 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8463 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8444»
حدیث نمبر: 7295
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ مَضَبَّةٍ فَمَا تَأْمُرُنَا أَوْ مَا تُفْتِينَا قَالَ ذُكِرَ لِي أَنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ فَلَمْ يَأْمُرْ وَلَمْ يَنْهَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ اللَّهَ لَيَنْفَعُ بِهِ غَيْرَ وَاحِدٍ وَإِنَّهُ لَطَعَامُ عَامَّةِ الرِّعَاءِ وَلَوْ كَانَ عِنْدِي لَطَعِمْتُهُ وَإِنَّمَا عَافَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ایسی سر زمین میں رہتے ہیں، جہاں سانڈے پائے جاتے ہیں،آپ ہمیں اس بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے ذکر کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل کی ایک امت مسخ ہو گئی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ اس کو کھانے کا حکم دیا اور نہ کھانے سے روکا۔ سیدنا ابو سعید کہتے ہیں اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ بہت سے لوگوں کو نفع دیتے ہیں، چرواہوں کا زیادہ ترکھانا یہ سانڈا ہی ہے، اگر میرے پاس ہو تومیں اسے کھاؤں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ناپسند کیا ہے، حرام قرار نہیں دیا۔
وضاحت:
فوائد: … مسند احمد کی ایک روایت (۱۱۱۴۴) کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کے جواب میں فرمایا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ بنو اسرئیل کی ایک امت کو جانوروں کی شکل میں مسخ کیا گیا تھا، لیکن میں یہ نہیں جانتا کہ وہ جانور کون سے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ اس کو کھانے کا حکم دیا اور نہ اس سے منع کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7295
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1951، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11013 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11026»
حدیث نمبر: 7296
(وَعَنْهُ أَيْضًا) يَقُولُ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ فَقَالَ اقْلِبُوهُ لِظَهْرِهِ فَقُلِبَ لِظَهْرِهِ ثُمَّ قَالَ اقْلِبُوهُ لِبَطْنِهِ فَقُلِبَ لِبَطْنِهِ فَقَالَ تَاهَ سِبْطٌ مِمَّنْ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَإِنْ يَكُ فَهُوَ هَذَا فَإِنْ يَكُ فَهُوَ هَذَا فَإِنْ يَكُ فَهُوَ هَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سانڈے پیش کیے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے پشت کے بل الٹا کرو۔ پس اسے پشت کے بل پلٹایا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے پیٹ کے بل پلٹاؤ۔ پس اسے پیٹ کے بل پلٹایا گیا، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل میں سے ایک نسل سرگردان ہو گئی تھی، جس پر اللہ تعالیٰ نے غضب کیا تھا، اگر کوئی ہے تو وہ یہی ہے، اگر کوئی ہے تو وہ یہی ہے، اگر کوئی ہے تو وہ یہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7296
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب الازدي، أخرجه عبد الرزاق: 8679 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11376 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11396»
حدیث نمبر: 7297
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ضَلَّ سِبْطَانِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَأَرْهَبُ أَنْ تَكُونَ الضِّبَابَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل میں سے دو نسلیں بھٹک گئی تھیں، بس مجھے خدشہ ہے کہ وہ یہی سانڈے ہوں گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7297
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11425 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11445»
حدیث نمبر: 7298
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَامَّةُ طَعَامِ أَهْلِي يَعْنِي الضِّبَابَ فَلَمْ يُجِبْهُ فَلَمْ يُجَاوِزْ إِلَّا قَرِيبًا فَعَاوَدَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ فَعَاوَدَهُ ثَلَاثًا فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَعَنَ أَوْ غَضِبَ عَلَى سِبْطٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَمُسِخُوا دَوَابَّ فَلَا أَدْرِي لَعَلَّهُ بَعْضُهَا فَلَسْتُ بِآكِلِهَا وَلَا أَنْهَى عَنْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک دیہاتی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرے گھروالوں کا زیادہ ترکھانا سانڈے ہیں آپ نے کوئی جواب نہیں دیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھوڑا سے گزرے تو اس نے پھر یہی سوال کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا، جب اس نے تین بار یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی ایک نسل پر لعنت و غضب کیا تھا اور وہ جانوروں کی صورت میں مسخ کر دیئے گئے تھے، بس اب میں نہیں جانتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بھی ان میں سے ہو، سو نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ میں اس کے کھانے سے منع کرتاہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7298
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1951، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11599 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11621»
حدیث نمبر: 7299
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَهِيَ خَالَتُهُ فَقَدَّمَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَحْمَ ضَبٍّ جَاءَتْ بِهِ أُمُّ حُفَيْدٍ بِنْتُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ وَكَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي جَعْفَرٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلُ شَيْئًا حَتَّى يَعْلَمَ مَا هُوَ فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ أَلَا تُخْبِرْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا يَأْكُلُ فَأَخْبَرْنَهُ أَنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ فَتَرَكَهُ فَقَالَ خَالِدٌ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَرَامٌ هُوَ قَالَ لَا وَلَكِنَّهُ طَعَامٌ لَيْسَ فِي قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ قَالَ خَالِدٌ فَاجْتَرَرْتُهُ إِلَيَّ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَحَدَّثَهُ الْأَصَمُّ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ مَيْمُونَةَ وَكَانَ فِي حَجْرِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان کو بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے پاس داخل ہوئے، یہ سیدنا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ تھیں، سیدہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بھنا ہوا سانڈے کا گوشت پیش کیا، جو کہ نجد سے سیدہ ام حفید بنت حارث رضی اللہ عنہا لے کر آئیں تھیں،یہ بنو جعفر کے ایک آدمی کی بیوی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو چیز بھی کھاتے تھے، پہلے اس کے بارے پوچھ لیا کرتے تھے، (جب سانڈے کا گوشت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو) ایک بیوی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتاؤ کہ یہ سانڈے کا گوشت ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا: کیا یہ حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ حرام نہیں ہے، بس یہ ایسا کھانا ہے جو میری قوم میں پایا نہیں جاتا اور میں اس سے گھن محسوس کرتا ہوں۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے وہ گوشت اپنی طرف کھینچ لیا اور کھانا شروع کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیکھ رہے تھے۔ابن شہاب کہتے ہیں: مجھ سے اصم نے بیان کیا ہے اور انہوں نے سیدنا میمونہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا ہے یہ سیدنا میمونہ رضی اللہ عنہا کے پروردہ تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7299
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1946، وأخرج بنحوه البخاري: 5400، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16812 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16935»
حدیث نمبر: 7300
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ وَقَالَ لَا أَدْرِي لَعَلَّهُ مِنَ الْقُرُونِ الَّتِي مُسِخَتْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سانڈا لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا: مجھے معلوم نہیں کہ شاید یہ ان قوموں میں سے ہو، جنہیں مسخ کر دیا گیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7300
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1949 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14460 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14514»
حدیث نمبر: 7301
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ فَلَمْ يَأْكُلْهُ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُطْعِمُهُ الْمَسَاكِينَ قَالَ لَا تُطْعِمُوهُمْ مِمَّا لَا تَأْكُلُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سانڈا لایا گیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ اس کو کھایا اور نہ اس سے منع کیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم یہ مسکینوں کو نہ کھلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو خود نہیں کھاتے،وہ ان کو بھی نہ کھلاؤ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7301
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قوله: لاتطعموھم مما لا تاكلون وھذا اسناد اختلف فيه علي حماد بن ابي سليمان، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 267، وابويعلي: 4461 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24736 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25243»
حدیث نمبر: 7302
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَزَلْنَا أَرْضًا كَثِيرَةَ الضِّبَابِ قَالَ فَأَصَبْنَا مِنْهَا وَذَبَحْنَا قَالَ فَبَيْنَا الْقُدُورُ تَغْلِي بِهَا إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فُقِدَتْ وَفِي رِوَايَةٍ مُسِخَتْ وَإِنِّي أَخَافُ أَنْ تَكُونَ هِيَ فَأَكْفِئُوهَا فَأَكْفَأْنَاهَا وَفِي رِوَايَةٍ فَأَكْفَأْنَاهَا وَإِنَّا لَجِيَاعٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد الرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، ہم ایک علاقے میں اترے، وہاں سانڈے بہت زیادہ تھے، ہم نے ان کو حاصل کیا اور ذبح کیا اور پکانا شروع کر دیا، ہماری ہنڈیاں جوش مار رہی تھیں کہ اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اورفرمایا: بنی اسرائیل کی ایک امت گم پائی گئی ، ایک روایت میں ہے کہ مسخ کی گئی، مجھے ڈر ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ امت یہی سانڈے ہو، لہٰذا ہنڈیاں الٹ دو۔ پس ہم نے ہنڈیاں الٹ دیں، حالانکہ ہم سخت بھوک سے دو چار تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ضَبّ (سانڈا)جنگلی چوہے کے مشابہ ایک جانور ہے، لیکن اس سے بڑا ہوتا ہے، اس کی مادہ کو ضَبّۃ کہا جاتا ہے، ہمارے ہاں عموماً اس کا معنی گوہ کیا جاتا ہے، لیکن جو اوصاف ضب کے بیان کیے گئے ہیں، وہ تمام کے تمام سانڈے میں پائے جاتے ہیں، اس لیے درست بات یہی ہے کہ اس سے مراد سانڈا ہے، گوہ نہیں، واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7302
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه البزار: 1217، وابويعلي: 931، وابن حبان: 5266، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17757 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17909»