کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس چیز کا بیان کہ تمام اشیاء کا اصل حکم اباحت کا ہے، جب تک منع نہ کر دیا جائے¤یا فرض نہ قرار دیا جائے
حدیث نمبر: 7281
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا رَجُلًا سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ وَنَقَّرَ عَنْهُ حَتَّى أُنْزِلَ فِي ذَلِكَ الشَّيْءِ تَحْرِيمٌ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ آدمی ہے، جو کسی چیز کے متعلق سوال کرتا ہے اور اس کے بارے میں اتنا کریدتا ہے کہ اس کے سوال کی وجہ سے اس چیز کو حرام کر دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7281
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7289، ومسلم: 2358، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1520 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1520»
حدیث نمبر: 7282
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْظَمُ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ يَحْرُمْ فَحُرِّمَ عَلَى النَّاسِ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں وہ مسلمان سب سے بڑا مجرم ہے، جو کسی ایسے معاملہ کے بارے میں سوال کرتاہے، جو کہ حرام نہ تھا، لیکن اس کے سوال کی وجہ سے حرام کر دیا گیا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … سوال کی دو اقسام ہیں: (۱) وہ سوال جو ان امورِ دین سے متعلقہ ہو جو عام ضرورت ہونے کی وجہ سے توضیح طلب ہوتے ہیں، ایسا سوال کرناجائزہے، جیسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اور دوسرے صحابہ کا شراب کے بارے میں سوال کرتے رہنا، یہاں تک اسے حرام قرار دیا گیا، کیونکہ ضرورت کا تقاضا یہ تھا کہ اسے حرام قرار دیا جائے۔ اسی طرح ظالم امراء کی اطاعت کرنے، کلالہ، جوا، حیض، شکار اور حرمت والے مہینوں میں قتال کرنے کے بارے میں سوال کرنا، کیونکہ یہ ضروریات ہیں۔
(۲) وہ سوال جو محض تکلف اور تعنت کی بنا پر کیا جائے، مثلا ایسی چیز کے بارے میں پوچھنا جو ابھی واقع نہ ہوئی ہو یا جس کی کوئی ضرورت نہ ہو۔ مثلا: عذاب ِ قبر جیسے غیبی امور کی حقیقت کے بارے میں سوال کرنا، اسی طرح قیامت کے بارے میں، روح کی حقیقت اور اس امت کی مدت کے بارے میں سوال کرنا یا کوئی ایسا سوال کرنا جس کا عمل سے کوئی تعلق نہ ہو۔ اس اور دیگر احادیث میں ایسے سوالات سے منع کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7282
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1545»
حدیث نمبر: 7283
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَمَا أَمَرْتُكُمْ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس وقت تک چھوڑ دو، جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کی ہلاکت کا سبب ہی یہ چیز بنی تھی کہ وہ اپنے انبیاء سے کثرت سے سوال کرتے تھے اور پھر ان پر اختلاف کیا کرتے تھے، پس میں جس چیز سے تمہیں منع کر دوں، اس سے باز آ جاؤ اور جس چیز کا تمہیں حکم دے دوں، اپنی طاقت کے مطابق اسے پورا کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7283
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الشافعي: 1/ 199، والحميدي: 1125، وابن حبان: 18، وابويعلي: 6676، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7367 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7361»
حدیث نمبر: 7284
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا [آل عمران: 97] قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفِي كُلِّ عَامٍ فَسَكَتَ فَقَالُوا أَفِي كُلِّ عَامٍ فَسَكَتَ فَقَالُوا أَفِي كُلِّ عَامٍ فَقَالَ لَا وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ [المائدة: 101] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیْلًا} (سورۂ آل عمران: ۹۷) یعنی: جو شخص بیت اللہ تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہو اس پر بیت اللہ کا حج لازم ہے۔ تو صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہر سال حج فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے۔ انہوں نے پھر کہا: کیا ہر سال یہ فرض ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے۔ انھوں نے تیسری مرتبہ کہا: کیا ہر سال یہ عبادت فرض ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا ۔پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَسْأَلُوْا عَنْ أَشْیَائَ إِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ} (سورۂ مائدۃ: ۱۰۱) یعنی: ایمان والو! تم ایسی باتوں کے متعلق مت پوچھا کرو کہ اگر وہ تمہارے سامنے بیان کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار گزرے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ اصولِ فقہ کا ایک مسلّمہ قانون ہے کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول کا مطلق حکم، محکوم بہ کے تکرار پر دلالت نہیں کرتا، یعنی جب شریعت میں کسی قید کے بغیر کوئی حکم دیا جائے اور بندہ اس پر ایک دفعہ عمل کر لے، تو وہ اس حکم سے بریٔ الذمہ ہو جائے گا اور اس سے دوبارہ اس حکم کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔بالکل یہی مثال اس حدیث ِ مبارکہ میں ہے کہ اللہ تعالی نے مطلق طور پر حج کو فرض قرار دیا، اس اطلاق کا تقاضا یہ ہے کہ جب آدمی ایک دفعہ حج کر لے گا تو وہ بریٔ الذمہ ہو جائے گا، لیکن جب صحابہ نے اس قانون پر اکتفا نہ کیا اور مزید پابندیوں کے بارے میں سوال کرنا شروع کر دیا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناگوار گزرا اور اللہ تعالی نے اس قسم کے سوالات سے منع کر دیا۔ حج کی فرضیت کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۴۰۶۴)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7284
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عبد الاعلي بن عامر الثعلبي ضعيف، ثم ھو منقطع ايضا، ابوالبختري لم يسمع عليا رضي الله عنه ، أخرجه ابن ماجه: 2884، والترمذي: 814، 3055 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 905 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 905»