کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: بیویوں کے درمیان واجبی اور غیر واجبی عدل کا بیان
حدیث نمبر: 7140
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ يَمِيلُ لِإِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَحَدُ شِقَّيْهِ سَاقِطٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کی طرف زیادہ میلان رکھتا ہو تو وہ قیامت کے روز اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو فالج زدہ ہوگا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7140
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن ماجه: 1969، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10090 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10092»
حدیث نمبر: 7141
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ فَيَعْدِلُ وَيَقُولُ هَذِهِ قِسْمَتِي ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ هَذَا فِعْلِي فِيمَا أَمْلِكُ فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں کے درمیان عادلانہ تقسیم کرتے اور پھر فرماتے: یہ میری تقسیم ہے، اے اللہ! یہ میری تقسیم ہے اور یہ میرے بس میں ہے، لہذا مجھے اس تقسیم میں ملامت نہ کرنا، جس کا تو مالک ہے اور میں مالک نہیں ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … کسی ایک بیوی کی طرف دلی میلان تو زیادہ ہو سکتا ہے، لیکن بظاہر ہر ایک کے ساتھ برابری کرنی چاہیے۔
عطاء کہتے ہیں: ہم سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازہ کے موقع پر سرف مقام پر سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، انھوں نے کہا: یہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں، جب ان کی میت کی چارپائی اٹھائو تو اسے زیادہ حرکت نہ دینا (بلکہ نرمی سے میت کو
اٹھانا، تاکہ ان کی کرامت متأثر نہ ہو)، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نو (۹) بیویاں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے آٹھ کی باری مقرر کر رکھی تھی اور ایک کی نہیں کی تھی۔عطاء کہتے ہیں: جس کی باری مقرر نہیں کی تھی، وہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ فوائد: … جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو درج ذیل امہات المؤمنین زندہ تھیں:
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7141
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «ضعيف، لكن قوله كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صلي الله عليه وآله وسلم يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِةِ فَيَعْدِلُ صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 2143، والترمذي: 1140،و ابن ماجه: 1971، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25111 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25624»
حدیث نمبر: 7142
عَنْ عَطَاءٍ قَالَ حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَذِهِ مَيْمُونَةُ إِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا فَلَا تُزَعْزِعُوهَا وَلَا تُزَلْزِلُوهَا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهُ تِسْعُ نِسْوَةٍ وَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ وَوَاحِدَةٌ لَمْ يَكُنْ يَقْسِمُ لَهَا قَالَ عَطَاءٌ الَّتِي لَمْ يَكُنْ يَقْسِمُ لَهَا صَفِيَّةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔عطا کہتے ہیں: ہم سیدہ میمونہ عضی اللہ عنہا کے جنازے کے موقع پر سرف مقام پر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھے ، انھوں نے کہا: یہ میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں، جب ان کی میت کی چارپائی اٹھاؤ تو زیادہ حرکت نہ دینا (بلکہ نرمی سے میت کو اٹھانا ، تاکہ ان کی کرامت متاثر نہ ہو)، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نو (9) بیویاں تھیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی باری مقرر کر رکھی تھی اور ایک کی نہیں کی تھی۔ عطا کہتے ہیں: جس کی باری مقرر نہیں کی تھی ، وہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7142
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5067، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2044»
حدیث نمبر: 7143
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ يَوْمٍ إِلَّا وَهُوَ يَطُوفُ عَلَيْنَا جَمِيعًا امْرَأَةً امْرَأَةً فَيَدْنُو وَيَلْمِسُ مِنْ غَيْرِ مَسِيسٍ حَتَّى يُفْضِيَ إِلَى الَّتِي هُوَ يَوْمُهَا فَيَبِيتُ عِنْدَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر روز ایک ایک کر کے اپنی تمام بیویوں کے پاس تشریف لے جاتے تھے، پھر ہر ایک کے قریب ہوتے اور اس کو مسّ کرتے، البتہ جماع نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ اس بیوی کے پاس پہنچ جاتے تھے، جس کی باری ہوتی تھی، پھر اس کے پاس رات گزارتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7143
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابن ابي الزناد،و ھو عبد الرحمن، قد تفرد به، وھو ممن لا يحتمل تفرده، أخرجه ابوداود: 2135، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24764 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25274»
حدیث نمبر: 7144
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ فِي السَّاعَةِ الْوَاحِدَةِ مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَهُنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ وَهَلْ كَانَ يُطِيقُ ذَلِكَ قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ أُعْطِيَ قُوَّةَ ثَلَاثِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات اور دن میں ایک گھڑی میں اپنی تمام بیویوں سے جماع کر لیتے تھے، ان کی تعداد گیارہ تھی، قتادہ کہتے ہیں میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ میں اتنی قوت تھی؟ انھوں نے کہا: ہم یہ بات کیا کرتے تھے کہ آپ کو تیس آدمیوں کی قوت دی گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7144
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 268، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14109 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14155»
حدیث نمبر: 7145
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَدَّ وَجْعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي فَأَذِنَّ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکلیف شدت اختیار کر گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں سے اجازت طلب کی کہ آپ بیماری کے دن میرے گھر میں گزارنا چاہتے ہیں، پس انھوں نے اجازت دے دی۔
وضاحت:
فوائد: … جس آدمی نے ایک سے زائد شادیاں کر رکھی ہوں، اس پر فرض ہے کہ وہ ان کے درمیان عدل کرے، ارشادِ باری تعالی ہے: {وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ مَثْنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ذٰلِکَ اَدْنٰٓی اَلَّا تَعُوْلُوْا} (النسائ:۳) اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کر کے تم انصاف نہ رکھ سکو گے تو اور عورتوں میں سے جو بھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو، دو دو، تین تین، چار چار سے، لیکن اگر تمہیں برابری نہ کر سکنے کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے یا تمہاری ملکیت کی لونڈی،یہ زیادہ قریب ہے کہ (ایسا کرنے سے ناانصافی اور) ایک طرف جھک پڑنے سے بچ جاؤ۔ زیادہ بیویوں میں انصاف کرنا اتنا اہم مرحلہ ہے کہ اللہ تعالی برابری نہ کرسکنے کے خوف کی وجہ سے ایک بیوییا لونڈی کا حکم دے رہے ہیں۔ کسی ایک بیوی کی طرف طبعی میلان زیادہ ہو سکتا ہے، لیکن اس سے عدل و انصاف کے تقاضے متأثر نہیں ہونے چاہئیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7145
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3099، 5714 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24858 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25370»