کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: بیویوں کے درمیان تقسیم اور کنواری اور بیوہ بیوی کے پاس خاوند کے قیام کی مدت کا بیان
حدیث نمبر: 7137
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْبِكْرَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی کسی کنواری عورت سے شادی کرے تو وہ اس کے پاس تین دن ٹھہرے۔
حدیث نمبر: 7138
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا وَكَانَتْ ثَيِّبًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو ان کے پاس تین دن ٹھہرے تھے، کیونکہ وہ بیوہ تھیں۔
حدیث نمبر: 7139
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تَزَوَّجَهَا أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ وَإِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي وَفِي لَفْظٍ قَالَ إِنَّ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ كَرَامَةً قَالَ الرَّاوِي فَأَقَامَ عِنْدَهَا إِلَى الْعَشِيِّ ثُمَّ قَالَ إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِسَائِرِ نِسَائِي وَإِنْ شِئْتِ قَسَمْتُ لَكِ قَالَتْ لَا بَلِ اقْسِمْ لِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مجھ سے شادی کی تو میرے پاس تین دن تک ٹھہرے اور فرمایا: بیشک اس میں نہ تیرے اہل کی توہین ہے اور نہ تیری حق تلفی ہے،اگر تمہاری مرضی ہے تو میں سات دن پورے کر دیتا ہوں، لیکن پھرمیں اپنی دیگر بیویوں کے ہاں بھی سات سات دن رہوں گا۔ ایک روایت میں ہے: تیری وجہ سے تیرے اہل کی کرامت اور عزت ہے۔ ایک راوی نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شام تک ان کے پاس ٹھہرے اور فرمایا: اگر تم چاہتی ہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں، لیکن پھر اپنی دیگر بیویوں کے لئے بھی سات دن مقرر کروں گا اور اگر تم چاہتی ہو تو میں تیرے لیے تقسیم کر دیتا ہوں۔ انھوں نے کہا: نہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے لیے تقسیم کر دیں۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیوہ تھیں، اس لیے ان کا حق تین دن بنتا تھا، اگر ان کو سات دن دیئے جاتے تو پھر باقی بیویوں کو بھی اتنے دن دینے پڑتے، صحیح مسلم کی روایت کے مطابق سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے تین دنوں کو ترجیح دی، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دوبارہ لوٹنا جلدی ہو، سات دنوں کی صورت میں تو لمبا انتظار کرنا پڑے گا۔