حدیث نمبر: 7117
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نِسَاؤُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ قَالَ حَرْثُكَ ائْتِ حَرْثَكَ أَنَّى شِئْتَ غَيْرَ أَنْ لَا تَضْرِبِ الْوَجْهَ وَلَا تُقَبِّحْ وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ وَأَطْعِمْ إِذَا طَعِمْتَ وَاكْسُ إِذَا اكْتَسَيْتَ كَيْفَ وَقَدْ أَفْضَى بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ إِلَّا بِمَا حَلَّ عَلَيْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بہزبن حکیم اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ہماری بیویاں ہیں، ان کے ساتھ ہمارا کون معاملہ کرنا درست ہے اور کونسا درست نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہاری کھیتی ہے، جیسے چاہو اپنی کھیتی میں آؤ ، البتہ نہ اس کو چہرے پر مارو، نہ اس سے مکروہ باتیں کرو ، (ناراضگی کی وجہ سے) اس کو صرف گھر میں چھوڑنا ہے، جب خود کھاؤ تو اس کو بھی کھلاؤ اور جب خود پہنو تو اس کو بھی پہناؤ، اب تم یہ حقوق کیسے ادا نہیں کرو گے، جبکہ تم ایک دوسرے سے جماع کر چکے ہو، الا یہ کہ کوئی ایسی صورت پیدا ہو جائے، جس میں بیوی کو سزا دی جا سکتی ہو (یا اس کے حق میں کمی کی جا سکتی ہو)۔
وضاحت:
فوائد: … یہ تمہاری کھیتی ہے، جیسے چاہو اپنی کھیتی میں آئو اس سے مراد عورت کو لٹانے کی کیفیت ہے، وگرنہ جماع کے لیے وہی مقام استعمال کیا جائے جو اللہ تعالی نے اس مقصد کے لیے پیدا کیا ہے، پہلے یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ بیوی کو پشت سے استعمال کرنا حرام ہے، البتہ پچھلی طرف سے حق زوجیت ادا کیا جا سکتا ہے۔
اس سے مکروہ باتیں نہ کرو جیسے اللہ تعالی تجھے بدصورت کرے، تیرا برا بنائے، تجھے خیر و بھلائی سے دور کرے۔
اس سے مکروہ باتیں نہ کرو جیسے اللہ تعالی تجھے بدصورت کرے، تیرا برا بنائے، تجھے خیر و بھلائی سے دور کرے۔
حدیث نمبر: 7118
عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَأَلَهُ رَجُلٌ مَا حَقُّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ قَالَ تُطْعِمُهَا إِذَا طَعِمْتَ وَتَكْسُوهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْهَ وَلَا تُقَبِّحْ وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ بیوی کا اپنے خاوند پر کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو کھائے تو اسے بھی کھلائے، جب تو پہنے تو اسے بھی پہنائے، اس کو چہرے پر نہ مار، اس سے مکروہ بات نہ کر، اور (ناراضگی کی صورت میں) اس کو نہ چھوڑ مگر اپنے گھر میں ہی۔
حدیث نمبر: 7119
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ النِّسَاءَ فَوَعَظَ فِيهِنَّ وَقَالَ عَلَامَ يَضْرِبُ وَفِي لَفْظٍ يَجْلِدُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ زَادَ فِي رِوَايَةٍ ضَرْبَ الْعَبْدِ وَلَعَلَّهُ أَنْ يُضَاجِعَهَا مِنْ آخِرِ النَّهَارِ أَوْ آخِرِ اللَّيْلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا آپ عورتوں کے حقوق کے بارے مردوں کو نصیحت کر رہے تھے، بیچ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی اپنی بیوی کو اس طرح کیوں مارتا ہے، جیسے غلام کو مارا جاتا ہے، پھر ممکن ہے کہ دن کے آخر میں یا رات کے آخر میں اس کو ہم بستری بھی کرنی ہو۔
وضاحت:
فوائد: … ایسا افراط و تفریط والا معاملہ نہیں ہونا چاہیے کہ پہلے بیوی کی خوب پٹائی کر دی جائے اور پھر رات کو اس سے ہم بستری بھی کی جائے۔ اگر کسی جرم کی وجہ سے بیوی کو سزا دینا پڑ ہی جائے تو ایسا معمولی طریقہ اختیار کیا جائے کہ بعد میں ہم بستری کے وقت تعجب نہ ہو۔
حدیث نمبر: 7120
عَنْ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي امْرَأَةً فَذَكَرَ مِنْ طُولِ لِسَانِهَا وَإِيذَائِهَا فَقَالَ طَلِّقْهَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا ذَاتُ صُحْبَةٍ وَوَلَدٍ قَالَ فَأَمْسِكْهَا وَأْمُرْهَا فَإِنْ يَكُ فِيهَا خَيْرٌ فَسَتَفْعَلْ وَلَا تَضْرِبْ ظَعِينَتَكَ ضَرْبَكَ أَمَتَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے، وہ بڑی زبان دراز ہے اور مجھے اذیت دیتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے طلاق دے دو ،اس نے کہا: میرا اس کے ساتھ پرانا ساتھ ہے اور اس سے میری اولادبھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر اسے روک لو اور اسے بھلائی کی تلقین کرتے رہو، اگر اس میں بھلائی قبول کرنے کی صلاحیت ہوئی تو وہ قبول کر لے گی، بہرحال تونے اپنی بیوی کو اس طرح نہیں مارنا، جیسے لونڈی کو مارا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 7121
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَفْرَكُ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی ایماندار خاوند اپنی ایمانداری بیوی سے بغض وعداوت نہیں رکھتا، کیونکہ اگر وہ اپنی بیوی کی ایک عادت ناپسند کرتا ہے تو کسی دوسری صفت کی وجہ سے راضی اور خوش ہو جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی سے ایسا کلی بغض نہیں رکھتا جو اس کو طلاق دینے پر مجبور کر دے، بلکہ اس کو چاہیے کہ جہاں وہ اس کے برے پہلو پر نظر رکھتا ہے، وہاں اس کی اچھائیوں کو بھی نظر انداز نہ کرے، ممکن ہے کہ خاتون کا اچھا پہلو اس کے قابل اعتراض پہلو پر غالب ہو اور اس طرح میاں بیوی اچھی زندگی گزار سکیں۔
حدیث نمبر: 7122
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّجُ حَقَّ الضَّعِيفَيْنِ الْيَتِيمِ وَالْمَرْأَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں دو کمزوروں یعنی عورت اور یتیم کے حق کو ممنوع اور حرام قرار دیتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … ویسے تو ہر مسلمان کے حقوق ادا کرنا ضروری ہیں، بہرحال یتیم اور عورت جیسے بے آسرا افراد کے حقوق کی ادائیگی میں زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ قابل غور بات ہے کہ بیوی کو ضعیف کہا گیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ بیشک اس کا تعلق امیر گھرانے سے ہو گا، لیکن شادی کے بعد وہ خاوند کے رحم و کرم پر ہوتی ہے، اگر وہی بد اخلاق ہو تو زندگی اجیرن بن جاتی ہے اور بیوی کے والدین اور بھائیوں کی محبت اور دولت کی وجہ سے اس کی بے سکونی میں کمی نہیں آتی۔ ایسی بیچاری خاتون کو نہ طلاق لینے میں فائدہ نظر آتا ہے اور نہ نکاح میں سکون ملتا ہے۔ ہم نے کئی عورتوں کو دیکھا کہ وہ اپنے خاوندوں کے غریب ہونے کی وجہ سے بچوں کا خرچہ بھی اپنے والدین سے لاتی ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کے خاوند کا رویہ کسی ظالم و جابر سے کم نہیں ہوتا۔ کیا ایسی بناتِ آدم کا یہی قصور ہے کہ انھوں نے نکاح کے وقت ان ناعاقبت اندیشوں کو اپنا خاوند تسلیم کر لیا تھا؟ کیا ہے کوئی ترس کھانے والا؟
حدیث نمبر: 7123
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناسعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسافر آدمی کو نمازِ عشاء کے بعداپنے اہل کے پاس آنے سے منع کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حکم کا تعلق زیادہ دیر گھر سے باہر رہنے والے مسافر کے ساتھ ہے، جیساکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا أَطَالَ أَحَدُکُمْ الْغَیْبَۃَ فَـلَا یَطْرُقْ أَہْلَہُ لَیْلًا۔)) … جب کوئی آدمی زیادہ عرصہ باہر رہے تو وہ رات کو اپنے گھر واپس نہ آئے۔ (صحیح بخاری: ۳۸۴۳، صحیح مسلم: ۳۵۵۸)
میاں بیوی کے مابین تعلقات کا خوشگوار ہونا مطلوبِ شریعت ہے، اس مقصد کی تکمیل کے لیے شریعت نے عورت کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ خاوند کے لیے زینت و آرائش اختیار کرے۔ اس حدیث کا مقصد نفرت اور سوئے ظن کا باعث بننے والے اسباب کو ختم کرنا ہے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوے سے مدینہ واپس پہنچ کر جب اپنے گھروں کو جانے لگے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذرا ٹھہر جاؤ، تاکہ تمہاری بیویاں پراگندہ بالوں میں کنگی کر لیں اور فاضل بالوں کی صفائی کر لیں۔ (بخاری، مسلم)
اس حدیث میں میاں بیوی کے مابین مودت و محبت پیدا کرنے کی رغبت دلائی گئی ہے، قابل غور بات یہ ہے کہ میاں بیوی کا کوئی وصف یا بات ایک دوسرے سے مخفی نہیں ہوتی، لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو آنے سے منع کیا تاکہ کوئی نفرت والا معاملہ پیش نہ آ سکے، ممکن ہے کہ بیوی اچھی حالت میں نہ ہو یا اس کے گھر میں کوئی ایسا فرد آیا
ہوا ہو، جس کی آمد خاوند کو ناگوار گزرے، لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ برا ہو گا، لیکن اس معاملے میں خاوند کی ترجیحات کو مد نظر رکھا جائے گا۔ سیدنا عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رات کو اپنی بیوی کے گھر گیا، میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک عورت اس کی کنگھی کر رہی تھی، لیکن میں نے سمجھا کہ یہ کوئی مرد ہے، سو میں نے اس کی طرف تلوار کو سیدھا کیا، لیکن اتنے میں اس کا عورت ہونا واضح ہو گیا، جب یہ ماجرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردوں کو اس سے منع کر دیا کہ وہ رات کو اپنی بیویوں کے پاس آئیں۔ (صحیح ابی عوانہ، بحوالہ فتح الباری: ۹/ ۴۲۶) اگر اس باب کی تمام احادیث اور ان کے مقاصد کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آج کے دور میں فون کے ذریعے مطلع کر کے رات کو آیا جا سکتا ہے، ہاں اس سلسلے میں عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے خاوند کا مزاج سمجھے۔
آج کل بیویاں اپنے گھروں میں سادہ ملبوسات پر اکتفا کرتی ہیں اور صفائی کا بھی کوئی خاص خیال نہیں رکھتیں، لیکن جب وہ دوسرے رشتہ داروں کے پاس جانے یا گھر سے باہر کسی دوسری مجلس میں جانے لگتی ہیں، تو حسن و جمال کے جو انداز اختیار کئے جاتے ہیں، ان کے سامنے دلہن بھی شرما جاتی ہے۔ ایسا کرنا مقصودِ شریعت نہیں ہے۔
میاں بیوی کے مابین تعلقات کا خوشگوار ہونا مطلوبِ شریعت ہے، اس مقصد کی تکمیل کے لیے شریعت نے عورت کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ خاوند کے لیے زینت و آرائش اختیار کرے۔ اس حدیث کا مقصد نفرت اور سوئے ظن کا باعث بننے والے اسباب کو ختم کرنا ہے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوے سے مدینہ واپس پہنچ کر جب اپنے گھروں کو جانے لگے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذرا ٹھہر جاؤ، تاکہ تمہاری بیویاں پراگندہ بالوں میں کنگی کر لیں اور فاضل بالوں کی صفائی کر لیں۔ (بخاری، مسلم)
اس حدیث میں میاں بیوی کے مابین مودت و محبت پیدا کرنے کی رغبت دلائی گئی ہے، قابل غور بات یہ ہے کہ میاں بیوی کا کوئی وصف یا بات ایک دوسرے سے مخفی نہیں ہوتی، لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو آنے سے منع کیا تاکہ کوئی نفرت والا معاملہ پیش نہ آ سکے، ممکن ہے کہ بیوی اچھی حالت میں نہ ہو یا اس کے گھر میں کوئی ایسا فرد آیا
ہوا ہو، جس کی آمد خاوند کو ناگوار گزرے، لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ برا ہو گا، لیکن اس معاملے میں خاوند کی ترجیحات کو مد نظر رکھا جائے گا۔ سیدنا عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رات کو اپنی بیوی کے گھر گیا، میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک عورت اس کی کنگھی کر رہی تھی، لیکن میں نے سمجھا کہ یہ کوئی مرد ہے، سو میں نے اس کی طرف تلوار کو سیدھا کیا، لیکن اتنے میں اس کا عورت ہونا واضح ہو گیا، جب یہ ماجرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردوں کو اس سے منع کر دیا کہ وہ رات کو اپنی بیویوں کے پاس آئیں۔ (صحیح ابی عوانہ، بحوالہ فتح الباری: ۹/ ۴۲۶) اگر اس باب کی تمام احادیث اور ان کے مقاصد کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آج کے دور میں فون کے ذریعے مطلع کر کے رات کو آیا جا سکتا ہے، ہاں اس سلسلے میں عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے خاوند کا مزاج سمجھے۔
آج کل بیویاں اپنے گھروں میں سادہ ملبوسات پر اکتفا کرتی ہیں اور صفائی کا بھی کوئی خاص خیال نہیں رکھتیں، لیکن جب وہ دوسرے رشتہ داروں کے پاس جانے یا گھر سے باہر کسی دوسری مجلس میں جانے لگتی ہیں، تو حسن و جمال کے جو انداز اختیار کئے جاتے ہیں، ان کے سامنے دلہن بھی شرما جاتی ہے۔ ایسا کرنا مقصودِ شریعت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 7124
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَتْ عَلَيَّ خُوَيْلَةُ بِنْتُ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ الْأَوْقَصِ السُّلَمِيَّةُ وَكَانَتْ تَحْتَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ قَالَتْ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَذَاذَةَ هَيْئَتِهَا فَقَالَ لِي يَا عَائِشَةُ مَا أَبَذَّ هَيْئَةَ خُوَيْلَةَ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ امْرَأَةٌ لَا زَوْجَ لَهَا يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ فَهِيَ كَمَنْ لَا زَوْجَ لَهَا فَتَرَكَتْ نَفْسَهَا وَأَضَاعَتْهَا قَالَتْ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَجَاءَ فَقَالَ يَا عُثْمَانُ أَرَغْبَةٌ عَنْ سُنَّتِي قَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَكِنْ سُنَّتَكَ أَطْلُبُ وَقَالَ فَإِنِّي أَنَامُ وَأُصَلِّي وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأُنْكِحُ النِّسَاءَ فَاتَّقِ اللَّهَ يَا عُثْمَانُ فَإِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِضَيْفِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَنَمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:سیدہ خویلہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا میرے پاس آئی،یہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی بیوی تھی، جب رسول اللہ نے اس کی حالت کی پراگندگی دیکھی تو مجھ سے فرمایا: عائشہ! خویلہ کی حالت تو بڑی پراگندہ ہے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بس یوں سمجھیں کہ اس خاتون کا خاوند کوئی نہیں ہے، کیونکہ وہ دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو قیام کرتا ہے، اس لیے خویلہ اس خاتون کی طرح ہے کہ جس کا خاوند نہیں ہوتا ہے، اس لیے اس نے اپنے نفس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی اور اس کو ضائع کر دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، پس وہ آگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے عثمان! کیا میری سنت سے بے رغبتی کررہے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں، اے اللہ کے رسول! میں تو آپ کی سنت کو طلب کرنے والا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ ہے تو میں سوتا بھی ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں اور روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، میں نے عورتوں سے شادی بھی کر رکھی ہے، اے عثمان! اللہ سے ڈرو، تم پر تیری بیوی کا حق ہے، تم پر تیرے مہمان کا حق ہے اور تجھ پر تیرے نفس کا حق ہے، اس لیے روزے بھی رکھا کر اور ان کو ترک بھی کیا کر اور نماز بھی پڑھا کر اور سویا بھی کرو۔
وضاحت:
فوائد: … تم پر تیری بیوی کا حق ہے اس سے مراد یہ ہے کہ بیوی کو باقاعدہ ٹائم دیا جائے اور اس کے جسم اور زندگی کے تقاضوں کو سمجھ کر ان کو پورا کیا جائے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: { وَعَاشِرُوْہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ}(سورۂ نسائ: ۱۹) … اپنی بیویوں کے ساتھ حسنِ معاشرت اختیار کرو۔
عورت سب سے زیادہ خاوند کے حسنِ اخلاق کی محتاج ہے، مختلف احادیث میں اس کی بہت زیادہ تلقین کی گئی ہے، علاوہ ازیں عورت کے کھانے پینے، لباس اور رہائش کے اخراجات کا ذمہ دار خاوند ہے۔
اسلام ہی واحد مذہب ہے کہ جس نے بیوی کے ساتھ سب سے زیادہ حسن سلوک کرنے کا سبق دیا ہے، اس کی وجہ بالکل واضح ہے کہ شادی اور بالخصوص اولاد ہو جانے کے بعد عورت کا واحد سہارا اس کا خاوند ہو تا ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ وہ شادی کے بعد اپنے والدین، بھائیوں اور دوسرے رشتہ داروں کے گھر جچتی ہی نہیں۔ اس لیے خاوند حضرات کو چاہیے کہ وہ اپنی رفیقۂ حیات کی بے بسی کا خیال رکھیں اور اس کی خدمت کو شرف انسانیت سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے ہاں ماجور ٹھہریں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: { وَعَاشِرُوْہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ}(سورۂ نسائ: ۱۹) … اپنی بیویوں کے ساتھ حسنِ معاشرت اختیار کرو۔
عورت سب سے زیادہ خاوند کے حسنِ اخلاق کی محتاج ہے، مختلف احادیث میں اس کی بہت زیادہ تلقین کی گئی ہے، علاوہ ازیں عورت کے کھانے پینے، لباس اور رہائش کے اخراجات کا ذمہ دار خاوند ہے۔
اسلام ہی واحد مذہب ہے کہ جس نے بیوی کے ساتھ سب سے زیادہ حسن سلوک کرنے کا سبق دیا ہے، اس کی وجہ بالکل واضح ہے کہ شادی اور بالخصوص اولاد ہو جانے کے بعد عورت کا واحد سہارا اس کا خاوند ہو تا ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ وہ شادی کے بعد اپنے والدین، بھائیوں اور دوسرے رشتہ داروں کے گھر جچتی ہی نہیں۔ اس لیے خاوند حضرات کو چاہیے کہ وہ اپنی رفیقۂ حیات کی بے بسی کا خیال رکھیں اور اس کی خدمت کو شرف انسانیت سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے ہاں ماجور ٹھہریں۔