حدیث نمبر: 7100
عَنْ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ عَنْ عَمِّهِ قَالَ كُنْتُ آخِذًا بِزِمَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا وَفِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَاتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّهُنَّ عِنْدَكُمْ عَوَانٌ لَا يَمْلِكْنَ لِأَنْفُسِهِنَّ شَيْئًا وَإِنَّ لَهُنَّ عَلَيْكُمْ وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ حَقَّانِ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا غَيْرَكُمْ وَلَا يَأْذَنَّ فِي بُيُوتِكُمْ لِأَحَدٍ تَكْرَهُونَهُ فَإِنْ خِفْتُمْ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ قَالَ حُمَيْدٌ قُلْتُ لِلْحَسَنِ مَا الْمُبَرِّحُ قَالَ الْمُؤَثِّرُ وَلَهُنَّ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَإِنَّمَا أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللَّهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو حرہ رقاشی اپنے چچا سیدنا حذیم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑی ہوئی تھی،یہ ایام تشریق کے درمیان والے دن کی بات ہے، … پھر راوی نے طویل حدیث بیان کی، … ۔ اس میں تھا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! عورتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ، اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارے ماتحت کر دیا ہے، یہ اپنی جانوں پر بھی اختیار نہیں رکھتیں، ان عورتوں کے تمہارے اوپر اور تمہارے ان پر دو حق ہیں،تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر کسی اور کو نہ آنے دیں اور تمہارے گھروں میں اس شخص کو آنے کی اجازت نہ دیں، جس کو تم ناپسند کرتے ہو، اگر تم کو ان کی شرارت کا ڈر ہو تو انہیں نصیحت کرو اور ان سے بستر الگ کر لو،اور ان کو مارو، لیکن وہ مارنا واضح نہ ہو۔ حمید راوی کہتے ہیں: میں نے امام حسن سے کہا: مُبَرّح سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: جسم میں نشان چھوڑنے والی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: تمہاری ذمہ داری یہ ہے کہ تم معروف طریقے سے ان کے رزق اور لباس کا بندوبست کرو، تم نے ان کو اللہ تعالی کی امانت کے ساتھ لیا ہے اور اللہ تعالی کے کلمے کے ساتھ ان کی شرم گاہوں کو حلال کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … مار کا واضح نہ ہونا، اس سے مراد یہ ہے کہ عورت کو ایسی سخت سزا نہ دی جائے، جو اس کے لیے بہت مشقت کا باعث بنے، جیسے اس کی ہڈی ٹوٹ جائے یا زخم ہو جائے، بس کمر وغیرہ پر تھپڑ وغیرہ لگا لیا جائے۔ بہرحال بہترین لوگ وہی ہوں گے جو حسن اخلاق کے ذریعے اپنی بیویوں کے معاملات کو سنوار لیتے ہوں۔
میاں بیوی دونوں کو مصلحت اور حکمت کی راہ کو نہیں چھوڑنا چاہیے اور آپس میں ایک دوسرے کی بغاوت کرنے سے بچنا چاہیے، ہر معاملے کو نرمی سے سلجھا لینے کی اور ایک دوسرے کی اصلاح کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کی جائے۔
میاں بیوی دونوں کو مصلحت اور حکمت کی راہ کو نہیں چھوڑنا چاہیے اور آپس میں ایک دوسرے کی بغاوت کرنے سے بچنا چاہیے، ہر معاملے کو نرمی سے سلجھا لینے کی اور ایک دوسرے کی اصلاح کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کی جائے۔