کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: بیوی کو پیچھے سے استعمال کرنے کی ممانعت اور تجبیب کے جواز کا بیانیعنی پچھلی سمت سے عورت کی قبل میں جماع کرنے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 7095
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَكُونُ بِالْبَادِيَةِ فَتَخْرُجُ مِنْ أَحَدِنَا الرُّوَيْحِيَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ إِذَا فَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ وَلَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ وَقَالَ مَرَّةً فِي أَدْبَارِهِنَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی بن طلق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک دیہاتی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہم دیہات میں ہوتے ہیں اور ہم میں سے کسی کی ہوا خارج ہو جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا، جب کسی کے ساتھ ایسا ہو جائے تو وہ وضو کرے اور عورتوں کو پیچھے سے استعمال نہ کیا کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7095
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، مسلم بن سلام لم يرو عنه غير واحد ولم يوثقه غير ابن حبان، وادراج ھذا الحديث في مسند علي بن ابي طالب B خطأ، فانه من مسند علي بن طلق، أخرجه ابوداود: 205، 1005، والترمذي: 1164، 1166، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 655 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 655»
حدیث نمبر: 7096
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى رَجُلٍ يَأْتِي امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اس آدمی کی جانب نہیں دیکھے گا جو اپنی بیوی کو پشت سے استعمال کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7096
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه ابن ماجه: 1923، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7684 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7670»
حدیث نمبر: 7097
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَلْعُونٌ مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی ملعون ہے، جو اپنی بیوی کو پشت سے استعمال کرتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7097
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 2162 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9733 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9731»
حدیث نمبر: 7098
عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَدْبَارِهِنَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناخزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالی حق سے نہیں شرماتا، تم عورتوں کو پشت سے استعمال نہ کیا کرو (یعنی ان سے غیر فطری جماع نہ کیا کرو)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7098
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 8990، والطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘: 3/ 44، والطبراني: 3739 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21865 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22209»
حدیث نمبر: 7099
- عَنْ هَمَّامٍ قَالَ: سُئِلَ قَتَادَةُ عَنِ الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا؟ فَقَالَ قَتَادَةُ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِهِ أَنَّ النَّبِيَّ قَالَ: هِيَ اللُّوْطِيَّةُ الصُّغْرَى ، قَالَ قَتَادَةُ: وَحَدَّثَنِي ابْنُ وَسَّاجِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : وَهَلْ يَفْعَلُ ذَالِكَ إِلَّا كَافِرٌ (مسند احمد : 6968)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ہمام سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ امام قتادہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو اپنی بیوی کو پشت سے استعمال کرتا ہے،انھوں نے کہا: ہمیں عمرو بن شعیب نے اپنے باپ سے اور انھوں نے اپنے دادے سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ چھوٹے درجے کی لواطت ہے۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کام تو صرف کافر ہی کر سکتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … بیویوں کی پشت کو استعمال کرنا حرام ہے، اس کو غیر فطری جماع کہتے ہیں، دراصل مسئلہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے جماع کے لیے بیوی کے جس عضو کو وجود دیا ہے، اسی کو ہی استعمال کرنا چاہیے، لٹانے کی صورت کوئی بھی ہو سکتی ہے۔ نیز دیکھیں حدیث نمبر (۷۱۱۷)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7099
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 8997، والطيالسي: 2266، والبزار: 1455، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6968 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»