کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: غیلہ کی کراہت اور اس کی وجہ سے عزل کی رخصت کا بیان¤غیلہ: دودھ پلانے کی مدت میں بیوی سے مباشرت کرنا غیلہ کہلاتا ہے۔
حدیث نمبر: 7087
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ سِرًّا فَإِنَّ الْغَيْلَ يُدْرِكُ الْفَارِسَ فَيُدَعْثِرُهُ مِنْ فَوْقِ رَأْسِهِ قَالَ عَلِيٌّ أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةُ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ اسماء بنت یزید انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی اولاد کو خفیہ طور پر قتل نہ کرو، بے شک غیلہ شہسوار پر اثر انداز ہوتا ہے اور اسے سر کے بل گرا دیتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7087
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، مهاجر بن ابي مسلم الانصاري لايحتمل تفرده، ثم انه معارَض بحديث صحيح ، وھو الحديث الآتي بعده، أخرجه ابوداود: 3881، وابن ماجه: 2012 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27590 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28142»
حدیث نمبر: 7088
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي أَعْزِلُ عَنِ امْرَأَتِي قَالَ لِمَ قَالَ شَفَقَةً عَلَى وَلَدِهَا أَوْ عَلَى أَوْلَادِهَا فَقَالَ إِنْ كَانَ لِذَلِكَ فَلَا مَا ضَارَّ ذَلِكَ فَارِسَ وَلَا الرُّومَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ غیلہ سے روک دوں، حتیٰ کہ مجھے یہ بات یاد آئی کہ فارس اورروم والے غیلہ کرتے ہیں اور اس سے ان کی اولاد کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادے کی وجہ یہ تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دودھ پینے والے بچے کو اس سے نقصان ہو جائے۔
طبیب لوگ کہتے ہیں کہ ایسا دودھ بیماری ہوتا ہے اور عرب لوگ اس عمل کو ناپسند کرتے تھے اور اس سے بچتے تھے، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ غیلہ سے اہل فارس اور اہل روم کو کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو ایسا کرنے سے نہیں روکا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7088
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1442 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27035 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22113»
حدیث نمبر: 7089
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الزُّرَقِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَشْجَعَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي تُرْضِعُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مَا يُقَدَّرُ فِي الرَّحِمِ فَسَيَكُونُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا : میں اپنی بیوی سے عزل کرتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں؟ اس نے کہا: اس کی اولاد پر شفقت کرتے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ بات ہے تو بیشک عزل نہ کر، کیونکہ اس چیز نے فارس اور روم کو کوئی نقصان نہیں دیا۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا یہ مطلب ہے کہ اگر تو بچے کے نقصان کے نظریے کو سامنے رکھ کر عزل کرتا ہے تو بیشک نہ کیا کر، کیونکہ فارسی اور رومی لوگ ایسا عمل کرتے ہیں، جبکہ ان کے شیر خوار بچوں کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7089
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1443، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21770 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15824»
حدیث نمبر: 7090
۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الزُّرَقِیِّ اَنَّ رَجُلًا مِنَ اَشْجَعَ سَأَلَ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: اِنَّ امْرَأَتِیْ تُرْضِعُ، فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((اِنَّ مَا یُقَدَّرُ فِی الرَّحِمِ فَسَیَکُوْنُ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید زرقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اشجع قبیلے کے ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال کیا اور کہا: میری بیوی دودھ پلاتی ہے (اور میں ڈرتا ہوں کہ وہ حاملہ نہ ہو جائے)، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو رحم کی تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے، وہ ہو کر رہے گا۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ جب خاتون بچے کو دودھ پلا رہی ہو، اس وقت اس سے ہم بستری کی جا سکتی ہے، اس سے دودھ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا کہ بچے کی صحت پر اثر پڑے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7090
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح بشواهده، أخرجه النسائي: 6/ 108 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15732 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»