حدیث نمبر: 7082
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں عزل کرتے تھے اور قرآن پاک نازل ہورہا ہوتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اس کے باوجود ہمیں عزل سے منع نہیں کیا گیا، اگر عزل حرام ہوتا تو یقینا منع کر دیا جاتا۔
صحیح مسلم کی ایک روایت کے درج ذیل الفاظ مذکورہ بالا حدیث سے زیادہ واضح ہیں: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کُنَّا نَعْزِلُ عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِV فَبَلَغَ ذَلِکَ نَبِیَّ اللّٰہِV فَلَمْ یَنْہَنَا۔ … ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عزل کرتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس چیز کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع نہیں کیا۔
صحیح مسلم کی ایک روایت کے درج ذیل الفاظ مذکورہ بالا حدیث سے زیادہ واضح ہیں: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کُنَّا نَعْزِلُ عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِV فَبَلَغَ ذَلِکَ نَبِیَّ اللّٰہِV فَلَمْ یَنْہَنَا۔ … ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عزل کرتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس چیز کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 7083
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ لِي جَارِيَةً وَهِيَ خَادِمُنَا وَسَانِيَتُنَا أَطُوفُ عَلَيْهَا وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ قَالَ اعْزِلْ عَنْهَا إِنْ شِئْتَ فَإِنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا قَالَ فَلَبِثَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ إِنَّ الْجَارِيَةَ قَدْ حَمَلَتْ فَقَالَ قَدْ أَخْبَرْتُكَ أَنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : میری ایک لونڈی ہے، وہ ہماری خادمہ بھی ہے اور پانی بھی لاتی ہے، میں اس سے ہم بستری تو کرتا ہوں، مگر میں اس کاحاملہ ہونا ناپسند کرتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اس سے عزل کرنا چاہتا ہے تو کرلے، مگر جو اس کے مقدر میں ہے، وہ آکر رہے گا۔ وہ آدمی کچھ عرصہ کے بعد آیا اور اس نے کہا: وہ لونڈی تو حاملہ ہو گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے کہہ دیا تھا کہ جو اس کے مقدر میں ہے، وہ آ کر رہے گا۔
حدیث نمبر: 7084
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَصَبْنَا سَبْيًا فِي يَوْمِ حُنَيْنٍ فَكُنَّا نَلْتَمِسُ فِدَاءَهُنَّ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ اصْنَعُوا مَا بَدَا لَكُمْ فَمَا قَضَى اللَّهُ فَهُوَ كَائِنٌ فَلَيْسَ مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے حنین کے دن لونڈیاں حاصل کیں، ہم ان کے عوض مال چاہتے تھے، اس لیے ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک مناسب سمجھو کر لو، لیکن اللہ تعالی نے جو فیصلہ کر دیا ہے، وہ ہو کررہے گا، سارے مادۂ منویہ سے تو اولاد نہیں ہوتی، (وہ تو ایک قطرے سے ہو جاتی ہے)۔
حدیث نمبر: 7085
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِي أَمَةً وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا وَأَنِّي أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ وَإِنَّ الْيَهُودَ تَزْعَمُ أَنَّهَا الْمَوْؤُودَةُ الصُّغْرَى قَالَ كَذَبَتْ يَهُودُ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَهُ لَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَرُدَّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: میری ایک لونڈی ہے، میں چاہتا ہوں کہ وہ حاملہ نہ ہو، اس لیے میں اس سے عزل کرتا ہوں اور ان یہودیوں کا خیال ہے کہ یہ چھوٹا زندہ درگور کرنا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہودی جھوٹ بولتے ہیں، جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو تو اسے روکنے کی طاقت نہیں رکھتا۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث نمبر (۷۰۷۸)کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود عزل کو مخفی انداز میں زندہ درگور کرنا قرار دیا، جبکہ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہودیوں کے اسی خیال کی تردید کر رہے ہیں۔
حافظ ابن قیم نے جمع و تطبیق کییہ صورت بیان کی ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کے جس خیال کی تردید کی ہے، اس سے مراد ان کا یہ نظریہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عزل کی صورت میں حمل کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا اور وہ اس کو قطعِ نسل کے قائم مقام سمجھتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس نظریے کو باطل قرار دیا اور واضح کیا کہ اگر اللہ تعالی چاہے تو عزل کے باوجود حمل کا امکان ہو سکتا ہے، جب اللہ تعالی اس کی تخلیق کو نہیں چاہے گا تو یہ فی الحقیقت زندہ درگور کرنا نہیں ہو گا اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مخفی انداز میں زندہ درگور کرنا اس لیے قرار دیا کہ آدمی حمل سے بچنے کے لیے عزل کرتا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اس ارادے کو زندہ درگور کرنے کے قائم مقام قرار دیا۔
حافظ ابن قیم نے جمع و تطبیق کییہ صورت بیان کی ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کے جس خیال کی تردید کی ہے، اس سے مراد ان کا یہ نظریہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عزل کی صورت میں حمل کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا اور وہ اس کو قطعِ نسل کے قائم مقام سمجھتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس نظریے کو باطل قرار دیا اور واضح کیا کہ اگر اللہ تعالی چاہے تو عزل کے باوجود حمل کا امکان ہو سکتا ہے، جب اللہ تعالی اس کی تخلیق کو نہیں چاہے گا تو یہ فی الحقیقت زندہ درگور کرنا نہیں ہو گا اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مخفی انداز میں زندہ درگور کرنا اس لیے قرار دیا کہ آدمی حمل سے بچنے کے لیے عزل کرتا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اس ارادے کو زندہ درگور کرنے کے قائم مقام قرار دیا۔
حدیث نمبر: 7086
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلَ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّ الْمَاءَ الَّذِي يَكُونُ مِنْهُ الْوَلَدُ أَهْرَقْتَهُ عَلَى صَخْرَةٍ لَأَخْرَجَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهَا أَوْ لَخَرَجَ مِنْهَا وَلَدٌ الشَّكُّ مِنْهُ وَلَيَخْلُقَنَّ اللَّهُ نَفْسًا هُوَ خَالِقُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عزل کے متعلق دریافت کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مادۂ منویہ سے اولاد ہونی ہو، اگر تو اس کو کسی چٹان پر بہا دے تو اللہ تعالی اس سے اولاد پیدا کر دے گا، اللہ تعالی جس نفس کو پیدا کرنے والا ہے، وہ اس کو ضرور ضرور پیدا کر دے گا۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی روایات سے معلوم ہوا کہ عزل جائز ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ نظریہیہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالی کی طرف سے پھر بھی حمل کا حکم ہو سکتا ہے۔