کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نکاح کے اعلان اور اس میں کھیل کود اور دف بجانے کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 7058
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَعْلِنُوا النِّكَاحَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نکاح کا اعلان کیا کرو۔
حدیث نمبر: 7059
عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ عَنْ جَدِّهِ أَبِي حَسَنٍ الْمَازِنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ نِكَاحَ السِّرِّ حَتَّى يُضْرَبَ بِدُفٍّ وَيُقَالَ أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيُّونَا نُحَيِّيكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو الحسن مازنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوشیدہ نکاح کو ناپسند کرتے تھے، آپ چاہتے تھے کہ دف بجائی جائے اور یہ کہاجائے: ہم تمہارے پاس آئے،ہم تمہارے پاس آئے، تم ہمیں سلام کہو، ہم تمہیں سلام کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 7060
عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ عَنْ جَدِّهِ أَبِي حَسَنٍ الْمَازِنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ نِكَاحَ السِّرِّ حَتَّى يُضْرَبَ بِدُفٍّ وَيُقَالَ أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيُّونَا نُحَيِّيكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو الحسن مازنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوشیدہ نکاح کو ناپسند کرتے تھے، آپ چاہتے تھے کہ دف بجائی جائے اور یہ کہاجائے: ہم تمہارے پاس آئے،ہم تمہارے پاس آئے، تم ہمیں سلام کہو، ہم تمہیں سلام کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 7061
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ أَوْ عُمَيْرَةَ قَالَ حَدَّثَنِي زَوْجُ ابْنَةِ أَبِي لَهَبٍ قَالَ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَزَوَّجْتُ ابْنَةَ أَبِي لَهَبٍ فَقَالَ هَلْ مِنْ لَهْوٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد اللہ بن عمیریا عمیرہ کہتے ہیں: ابو لہب کے داماد نے مجھے بیان کرتے ہوئے کہا: جب میں نے ابو لہب کی بیٹی سے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس آئے اور فرمایا: تھوڑے بہت شغل کا اہتمام نہیں کیا تم لوگوں نے؟
حدیث نمبر: 7062
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ فِي حِجْرِي جَارِيَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَزَوَّجْتُهَا قَالَتْ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عُرْسِهَا فَلَمْ يَسْمَعْ لَعِبًا فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنَ الْأَنْصَارِ يُحِبُّونَ كَذَا وَكَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میری پرورش میں انصار کی ایک لڑکی تھی، میں نے اس کی شادی کی اور اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی شغل نہ سنا تو فرمایا: اے عائشہ! انصاریوں کا یہ قبیلہ تو شغل وغیرہ کو بڑا پسند کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک عورت کی ایک انصاری آدمی کے ساتھ شادی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یَاعَائِشَۃُ! مَاکَانَ مَعَکُمْ لَھْوٌ؟ اَنَّ الْاَنْصَارِیَّیُعْجِبُھُمُ اللَّھْوُ۔)) … ’’’اے عائشہ! تمہارے پاس کوئی شغل وغیرہ نہیں تھا، کیونکہ انصاری لوگ شغل وغیرہکو بڑا پسند کرتے ہیں۔‘‘ (صحیح بخاری: ۵۱۶۲)
حدیث نمبر: 7063
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ أَهْدَيْتُمُ الْجَارِيَةَ إِلَى بَيْتِهَا قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَهَلَّا بَعَثْتُمْ مَعَهَا مَنْ يُغَنِّيهِمْ يَقُولُ أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيُّونَا نُحَيِّيكُمْ فَإِنَّ الْأَنْصَارَ قَوْمٌ فِيهِمْ غَزَلٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: کیا تم نے بچی کو اس کے گھر کی طرف رخصت کر دیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کے ساتھ ایسے لوگوں کو کیوں نہیں بھیجا، جو گا کر اس طرح کہتے: ہم تمہارے پاس آئے ہیں، ہم تمہارے پاس آئے ہیں، پس تم ہم کو سلام کہو، ہم تم کو سلام کہتے ہیں، کیونکہ انصاری ایسے لوگ ہیں جو اس قسم کی غزل کو پسند کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 7064
عَنْ أَبِي بَلْجٍ قَالَ قُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْجُمَحِيِّ إِنِّي قَدْ تَزَوَّجْتُ امْرَأَتَيْنِ لَمْ يُضْرَبْ عَلَيَّ بِدُفٍّ قَالَ بِئْسَمَا صَنَعْتَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فَصْلَ مَا بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ الصَّوْتُ يَعْنِي الضَّرْبَ بِالدُّفِّ وَفِي رِوَايَةٍ فَصْلُ مَا بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ الدُّفُّ وَالصَّوْتُ فِي النِّكَاحِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو بلج کہتے ہیں: میں نے محمد بن حاطب جمحی سے کہا: میں نے دو عورتوں سے شادی کی ہے اور میرے لئے کوئی دف نہیں بجائی گئی، انہوں نے کہا: تو نے برا کیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حلال اور حرام کے درمیان فرق آواز ہے۔ یعنی دف بجانا،ایک روایت میں ہے: حلال اور حرام کے درمیان فرق کرنے والی چیز دف بجانا اور آواز نکالنا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ہماری شریعت میں نکاح کے موقع پر ولی اور دولہا دلہن کی رضامندی کے بعد کم از کم دو گواہوں کی شرط لگائی گئی ہے، باقی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس حدیث میں جو چیز بیان کر رہے ہیں،یہ استحبابی امور ہیں،یعنی بہتر یہ ہے کہ شادی کے موقع پر تھوڑا بہت شغل لگ جائے، دف بجایا جائے اور جائز کلام گا کر پڑ لیا جائے، تاکہ دور دور تک نکاح کی خبر بھی پہنچ جائے اور لوگ بھی خوش ہو جائیں۔
حدیث نمبر: 7065
عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ قَالَ حَدَّثَنِي الرُّبَيِّعُ بِنْتُ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ بْنِ مُعَوِّذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عُرْسِي فَقَعَدَ فِي مَوْضِعِ فِرَاشِي هَذَا وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِالدُّفِّ وَتَنْدُبَانِ آبَائِي الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَتَا فِيمَا تَقُولَانِ وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا يَكُونُ فِي الْيَوْمِ وَفِي غَدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَّا هَذَا فَلَا تَقُولَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری شادی کے موقع پر میرے پاس تشریف لائے اور میرے بستر پر یہاں بیٹھ گئے، میرے پاس دو بچیاں تھیں، جو دف بجارہی تھیں اور بدر میں شہید ہونے والے میرے آباء کے اوصاف بیان کررہی تھیں، انہوں نے بیچ میں اس طرح بھی کہہ دیا: اور ہم میں ایک ایسا نبی ہے جو کل کی بات بھی جانتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح یہ نہ کہو۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ کے مطابق شادی کے موقع پر کوئی شغل وغیرہ لگ جانا چاہیے، مثلا دف بجا کر یا گاہ کر جائز کلام پڑھنا یا جائز کھیل کود کا اہتمام کرنا۔
لیکنیہ ضروری ہے کہ شغل اور لطف اندوزی کی آڑ میں شرعی حدود کو پامال نہ کیا جائے، مثلا: مرد وزن کا اختلاط اور بے پردگی، ایسا کلام پڑھنا جو بے حیائی اور فحاشی پر مشتمل ہو، موسیقی بجانا، بینڈ باجے کا اہتمام کرنا
لیکنیہ ضروری ہے کہ شغل اور لطف اندوزی کی آڑ میں شرعی حدود کو پامال نہ کیا جائے، مثلا: مرد وزن کا اختلاط اور بے پردگی، ایسا کلام پڑھنا جو بے حیائی اور فحاشی پر مشتمل ہو، موسیقی بجانا، بینڈ باجے کا اہتمام کرنا