کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ولیمہ میں کھجوروں وغیرہ کو بکھیرنے اور پھر ان کو لوٹنے کا بیان
حدیث نمبر: 7052
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ النُّهْبَةِ وَالْخُلْسَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوٹ مار کرنے اور مال اچکنے سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ’’اَلنُّہْبَۃ‘‘ (لوٹ مار، ڈاکہ): آدمی کا لوگوں کے سامنے اور زبر دستی کسی سے کوئی ایسی چیز چھین لینا، جو قیمت والی ہو۔
’’اَلْخُلْسَۃ‘‘ (اچکنا): کسی کی غفلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جلدی اور چالاکی سے کوئی چیز اٹھا لینا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7052
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 7/ 59، والطبراني: 5265 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21685 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22027»
حدیث نمبر: 7053
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:جس نے لوٹ مار کی،وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7053
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15254 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15325»
حدیث نمبر: 7054
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النُّهْبَةِ وَالْمُثْلَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوٹ مار سے اور مُثلہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7054
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2474، 5516 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18742 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18949»
حدیث نمبر: 7055
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النُّهْبَةِ وَمَنِ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوٹ مار کرنے سے منع کیا اور فرمایا: جس نے لوٹ مار کی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث میں جس لوٹ مار سے روکا گیا ہے، وہ تو معروف ہے اور باب کی پہلی حدیث کے فوائد میں اس کی وضاحت کر دی گئی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پرمسرت تقریبات اور دعوتوں پر جو مٹھائی اور نقدی ہوا میں بکھیر دی جاتی ہے، پھر بالخصوص غریب بچے اور لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں، اس چیز کا کیا حکم ہو گا۔
اس موضوع سے متعلقہ خاص احادیث ضعیف ہیں، البتہ امام مالک اور امام شافعی سمیت بعض اہل علم نے اس کو مکروہ قرار دیا ہے اور امام ابو حنیفہ شادی کے موقع پر اس کے جواز کے قائل ہیں۔
معلوم ایسے ہوتا ہے کہ اسلامی تہذیب و تمدن کا تقاضا یہ ہے کہ کھانے کی کوئی چیز اس طرح نہ بکھیری جائے، اس میں رزق کی بے حرمتی ہے اور اٹھانے والے بچوں اور لوگوں کی ذلت ہے، بہتر یہ ہے کہ خوشی کے موقع پر کوئی چیز تقسیم کر دی جائے اور اگر نقدی دینی ہو تو غریب بچوں اور مستحق افراد میں تقسیم کر دی جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7055
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 7/ 57 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12422 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12449»