کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جب دو داعی جمع ہو جائیں تو کیا کیا جائے، نیز دوسرے اور تیسرے دن کی دعوت قبول کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 7047
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اجْتَمَعَ الدَّاعِيَانِ فَأَجِبْ أَقْرَبَهُمَا بَابًا فَإِنَّ أَقْرَبَهُمَا بَابًا أَقْرَبَهُمَا جِوَارًا فَإِذَا سَبَقَ أَحَدُهُمَا فَأَجِبِ الَّذِي سَبَقَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حمید بن عبد الرحمن، ایک صحابی رسول سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب دو دعوت دینے والے اکٹھے آجائیں، تو ان میں سے جو زیادہ قریبی دروازے والا ہو، اس کی دعوت قبول کرو، کیونکہ زیادہ قریبی دروازے والا زیادہ قریبی پڑوسی ہے، اور اگر ان میں سے ایک پہلے پہنچ جائے تو پہلے آ جانے والی کی دعوت قبول کر۔
وضاحت:
فوائد: … قریبی داعی کو ترجیح دی جائے۔
اگر دو اکٹھے دعوت دیں تو قریبی کو ترجیح دی جائے اور اگر کوئی پہلے آجائے تو پھر اس کی دعوت قبول کی جائے خواہ وہ دور کا کیوں نہ ہو۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7047
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 3756، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23466 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23860»
حدیث نمبر: 7048
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ثَنَا هَمَّامٌ ثَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ أَعْوَرَ مِنْ ثَقِيفٍ قَالَ قَتَادَةُ وَكَانَ يُقَالُ لَهُ مَعْرُوفٌ إِنْ لَمْ يَكُنْ اسْمُهُ زُهَيْرَ بْنَ عُثْمَانَ فَلَا أَدْرِي مَا اسْمُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَلِيمَةُ أَوَّلِ يَوْمٍ حَقٌّ وَالثَّانِي مَعْرُوفٌ وَالْيَوْمِ الثَّالِثِ سُمْعَةٌ وَرِيَاءٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بنو ثقیف کا ایک کانا آدمی تھا، امام قتادہ کہتے ہیں: اس کو معروف کہا جاتا ہے اور اگر اس کا نام زہیر بن عثمان نہیں تھا تو میں نہیں جانتا کہ پھر اس کا نام کیا تھا، بہرحال اس آدمی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پہلے دن کاولیمہ حق ہے، دوسرے دن کا معروف رواج ہے اور تیسرے دن کا ولیمہ شہرت اور نمود ونمائش ہے۔
وضاحت:
فوائد: … معروف سے مراد وہ طریقہ ہے، جو لوگوں کے ہاں رواج پا چکا ہے۔
یہ روایت تو ضعیف ہے، بہرحال دعوتوں کا سلسلہ تکلف اور ریاکاری سے پاک ہونا چاہیے اور ان پر مذہبی رنگ
غالب ہونا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7048
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة عبد الله بن عثمان الثقفي، وزھير بن عثمان مختلف في صحبته، أخرجه ابوداود: 3745 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20325 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20591»