کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ولیمہ کی دعوت دینے والی کی دعوت قبول کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 7037
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا نُودِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى وَلِيمَةٍ فَلْيَأْتِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو ولیمہ کی دعوت دی جائے تو وہ اس ولیمے میں حاضری دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7037
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5173، ومسلم: 1419 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4712 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4712»
حدیث نمبر: 7038
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى وَلِيمَةِ عُرْسٍ فَلْيُجِبْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو شادی کے ولیمہ کی دعوت دی جائے تو وہ اس دعوت کو قبول کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7038
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4730»
حدیث نمبر: 7039
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُجِبْ عُرْسًا كَانَ أَوْ نَحْوَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی کو دعوت دے، تو وہ یہ دعوت قبول کرے، وہ شادی کی دعوت ہو یا کوئی اور۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7039
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1429، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6337 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6337»
حدیث نمبر: 7040
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کسی کو دعوت دی جائے اوروہ روزے سے ہو تو وہ کہہ دے کہ وہ روزے سے ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7040
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1150 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7304 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7302»
حدیث نمبر: 7041
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ دُعِيَ فَلْيُجِبْ فَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا أَكَلَ وَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُصَلِّ وَلْيَدْعُ لَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو دعوت دی جائے، وہ اسے قبول کرے، اگر اس کا روزہ نہ ہو تو وہ کھائے اور اگر وہ روزے سے ہو تو اس کے لئے دعا کر دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7041
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1431، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7349 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7735»
حدیث نمبر: 7042
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجِبْ فَإِنْ شَاءَ طَعِمَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو وہ اس دعوت کو قبول کرے، پھر اگر چاہے تو کھانا کھا لے اور چاہے تو نہ کھائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7042
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1430، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15219 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15289»
حدیث نمبر: 7043
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الدَّعْوَةِ فَلْيُجِبْ أَوْ قَالَ فَلْيَأْتِهَا قَالَ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُجِيبُ صَائِمًا وَمُفْطِرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی کو دعوت کی دی جائے تو وہ قبول کرے۔ یا فرمایا: وہ دعوت میں آئے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا روزہ ہوتا یا نہ ہوتا، وہ ہر حال میں دعوت قبول کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … دعوت قبول کرتے تھے، روزے کی حالت میں ہوتے یا نہ ہوتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7043
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه البخاري: 5179، ومسلم: 1429، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5766 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5766»
حدیث نمبر: 7044
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى الْغَنِيُّ وَيُتْرَكُ الْمِسْكِينُ وَفِي لَفْظٍ يُدْعَى إِلَيْهَا الْأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ وَهِيَ حَقٌّ وَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ عَصَى وَكَانَ مَعْمَرٌ رُبَّمَا قَالَ وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ولیمے کا کھانا بدترین کھانا ہے، جس میں مالداروں کو بلایا جاتا ہے اور مسکینوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے، جبکہ یہ دعوت حق ہے، جس نے اس کو چھوڑا اس نے نافرمانی کی، معمر راوی کے الفاظ یہ تھے: جس نے دعوت قبول نہ کی، اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت موقوف ہے، صحیح مسلم کی جو روایت مرفوع ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِیمَۃِیُمْنَعُہَا مَنْ یَأْتِیہَا وَیُدْعَی إِلَیْہَا مَنْ یَأْبَاہَا وَمَنْ لَمْ یُجِبِ الدَّعْوَۃَ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ۔)) … ’’بدترین کھانا ولیمے کا کھانا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جو کھانے کے لیے آنا چاہتے ہیں، ان کو روک دیا جاتا ہے اور جو آنے سے انکار
کرتے ہیں، ان کو بلایا جاتا ہے، بہرحال جس نے دعوت قبول نہ کی، اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔‘‘(صحیح مسلم: ۲۵۸۶) امام نووی نے کہا: اس حدیث میں اس چیز کی خبر دی جا رہی ہے، جو لوگوں میں رواج پا چکی ہے، ولیموں میںمالدار لوگوں کو پروٹوکول دیا جاتا ہے، خاص طور پر ان کو دعوت دی جاتی ہے اور ان کے لیے اچھے اچھے کھانے تیار کیے جاتے ہیں اور ان کو دوسرے محتاجوں پر مقدم کیا جاتا ہے، اکثر ولیموں میںیہی کچھ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7044
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1422، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7624 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7613»
حدیث نمبر: 7045
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دعوت قبول نہ کی، اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7045
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 3741 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5263 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5263»
حدیث نمبر: 7046
عَنْ عِكْرَمَةَ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا غَادِيَةَ الْيَمَانِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَجَاءَ رَسُولُ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ فَدَعَاهُمْ فَمَا قَامَ إِلَّا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَخَمْسَةٌ مِنْهُمْ أَنَا أَحَدُهُمْ فَذَهَبُوا فَأَكَلُوا ثُمَّ جَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَغَسَلَ يَدَهُ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ يَا أَهْلَ الْمَسْجِدِ إِنَّكُمْ لَعُصَاةٌ لِأَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو غادیہ یمانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مدینہ میں آیا، کثیر بن صلت کا قاصد آیا اور اس نے مسجد والوں کو دعوت دی، صرف سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور مزید پانچ آدمی کھڑے ہوئے، میں ان میں ایک تھا، پس یہ لوگ گئے اور کھانا کھایا، جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ واپس آئے تو انھوں نے ہاتھ دھوئے اور کہا: اللہ کی قسم! اے اہل مسجد! بیشک تم ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نافرمان ہو۔
وضاحت:
فوائد: … مسلمان کی دعوت قبول کرنا حق ہے، خاص طور پر ولیمہ کی دعوت، اس لیے باہتمام اس حق کو ادا کرنا چاہیے، وگرنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی ہو گی۔
بعض احادیث سے معلوم ہوا کہ نفلی روزے کی وجہ سے دعوت قبول نہ کی جائے، لیکن دعوت کی وجہ سے نفلی روزہ توڑنا بھی جائز ہے، جیسا کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا، جب کھانا (دسترخوان پر) رکھا گیا تو ایک آدمی نے کہا: میں تو روزے دار ہوں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((دَعَاکَ اَخُوْکَ وَ تَکَلَّفَ لَکَ فَصُمْ مَکَانَہٗاِنْشِئْتَ۔)) … ’’تیرے بھائی نے تجھے دعوت دی اور تیرے لیے تکلف کیا، (اس لیے روزہ توڑ دے) اور اگر چاہے تو اس کی جگہ پر ایک اور روزہ رکھ لینا۔‘‘ (سنن بیہقی، قال الحافظ ابن حجر: اسنادہ حسن)
اگر واقعی نظر آ رہا ہے کہ داعی نے بڑے تکلف اور رغبت سے کھانا تیار کیا ہے تو نفلی روزہ توڑ دینا چاہیے، اگر اجر و ثواب ہی مطلوب ہو تو دوبارہ روزہ رکھ لیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7046
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابو غادية اليمامي، جھله ابو زرعة العراقي وابن حجر ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7884 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7871»