کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ولیمہ کے حکم، بکری یا اس سے زائد چیز کے ساتھ اس کے مستحب ہونے اور اس سے کم کسی چیز کے ولیمہ کے جائز ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 7028
عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقِيَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَبِهِ وَضَرٌ مِنْ خَلُوقٍ فَقَالَ لَهُ مَهْيَمْ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ كَمْ أَصْدَقْتَهَا قَالَ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ قَالَ أَنَسٌ لَقَدْ رَأَيْتُهُ قَسَمَ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ مِائَةَ أَلْفِ دِينَارٍ زَادَ فِي رِوَايَةٍ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو ملے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر خلوق خوشبو کا نشان دیکھا تو پوچھا: اے عبد الرحمن! کیا معاملہ ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے انصار کی ایک عورت کے ساتھ شادی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کتنا حق مہر دیاہے ؟ انھوں نے کہا: نواۃ کے وزن کے برابر سونا دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ولیمہ کرو، اگر چہ وہ ایک بکری کی صورت میں ہو۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ ان کی وفات کے بعد ان کی ہر ایک بیوی کوایک ایک لاکھ دینار ملے تھے، ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی شادی کا سن کر ان سے فرمایا تھا : اللہ تعالی تیرے لیے برکت کرے، ولیمہ کر، اگرچہ ایک بکری کی صورت میں ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7028
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5148، ومسلم: 1427، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12685 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12715»
حدیث نمبر: 7029
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَ فَأَوْلَمَ بِشَاةٍ أَوْ ذَبَحَ شَاةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی کسی شادی کے موقع پر اتنا بڑا ولیمہ کیا ہو، جو سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے شادی کے موقع پر کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس موقع پر ایک بکری ذبح کی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7029
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5168، 5171، ومسلم: 1428 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13378 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13411»
حدیث نمبر: 7030
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ أَوْلَمَ فَأَطْعَمَنَا خُبْزًا وَلَحْمًا وَفِي لَفْظٍ فَأَشْبَعَ الْمُسْلِمِينَ خُبْزًا وَلَحْمًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا سے حق زوجیت ادا کیا تو ولیمہ کیا اور ہمیں گوشت اور روٹی کھلائی، ایک روات میں ہے: مسلمانوں کو گوشت اور روٹی سے سیر کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7030
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه بنحوه البخاري: 4791، 5154، 6239، ومسلم: 1428 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12023 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12046»
حدیث نمبر: 7031
عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا خَطَبَ عَلِيٌّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَا بُدَّ لِلْعُرْسِ مِنْ وَلِيمَةٍ قَالَ فَقَالَ سَعْدٌ عَلَيَّ كَبْشٌ وَقَالَ فُلَانٌ عَلَيَّ كَذَا وَكَذَا مِنْ ذُرَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پیغام نکاح بھیجا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شادی کے بعد ولیمہ ضروری ہے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دنبہ میں دوں گا، ایک نے کہا: اتنی اتنی مکئی میں دوں گا۔
وضاحت:
فوائد: … صحابۂ کرام نیکی کے امور کی طرف سبقت لے جانے والے اور ایسے معاملات میں ایک دوسرے کے معاوِن تھے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی} … ’’اور نیکی اور تقوی کے معاملے میں ایک دوسرے کا تعاون کرو۔‘‘ (سورۂ مائدہ: ۲)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7031
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه البزار: 1407، والطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 3018، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 1153، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23035 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23423»
حدیث نمبر: 7032
عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ قَالَ شَهِدْتُ وَلِيمَتَيْنِ مِنْ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَمَا أَطْعَمَنَا فِيهِمَا خُبْزًا وَلَا لَحْمًا قُلْتُ فَمَهْ قَالَ الْحَيْسَ يَعْنِي التَّمْرَ وَالْأَقِطَ بِالسَّمْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں میں سے دو بیویوں کے ولیموں میں حاضر ہوا، آپ نے ہمیں نہ روٹی کھلائی اور نہ گوشت،میں (علی بن زید) نے کہا: پھر کیا تھا؟ انھوں نے کہا: حَیْس یعنی ایک حلوہ سا تھا، جو کھجور، پنیر اور گھی سے تیار کیا گیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … ان دو بیویوں سے مراد سیدہ صفیہ بنت حیی اور سیدہ ام سلمہ d ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7032
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه ابن ماجه: 1910 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11953 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11975»
حدیث نمبر: 7033
عَنْ ثَابِتِ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ وَلِيمَةَ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ التَّمْرَ وَالْأَقِطَ وَالسَّمْنَ قَالَ فُحِصَتِ الْأَرْضُ أَفَاحِيصَ قَالَ وَجِيءَ بِالْأَنْطَاعِ فَوُضِعَتْ فِيهَا ثُمَّ جِيءَ بِالْأَقِطِ وَالتَّمْرِ وَالسَّمْنِ فَشَبِعَ النَّاسُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کا ولیمہ کھجور، پنیر اور گھی سے کیا تھا، زمین کو کھود کر ہموار کیا گیا، پھر دسترخوان بچھائے گئے اور ان پر پنیر، کھجور اور گھی رکھا گیا، لوگوں نے سیر ہو کر کھایا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7033
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1428، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13575 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13610»
حدیث نمبر: 7034
عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ سَهْلًا يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أَتَى أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ فَدَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي عُرْسِهِ فَكَانَتِ امْرَأَتُهُ خَادِمَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَهِيَ الْعَرُوسُ قَالَ تَدْرُونَ مَا سَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْقَعَتْ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ فِي تَوْرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابو اسید ساعدی آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شادی میں آنے کی دعوت دی، اس دن ان کی بیوی ان کی خادمہ تھی، اسی کی شادی ہوئی تھی، کہتے ہیں :اچھا کیا تم جانتے ہو کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا پلایا تھا، اس نے رات کو ایک برتن میں کھجوریں بھگو رکھی تھیں، (وہ نبیذ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پلایا تھا)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7034
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5591، ومسلم: 2006 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16062 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16159»
حدیث نمبر: 7035
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ شَهِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَةً مَا فِيهَا خُبْزٌ وَلَا لَحْمٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ولیمہ میں شمولیت فرمائی، اس میں نہ روٹی تھی اور نہ گوشت تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7035
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13676 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13711»
حدیث نمبر: 7036
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ بِمُدَّيْنِ مِنْ شَعِيرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ایک بیوی کے ولیمہ کے موقع پر دو مُدّ جو کھلائے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ولیمہ وہ دعوت ہے جو دولھا کی طرف سے شادی کی خوشی کے موقع پر پیش کی جاتی ہے، ولیمہ شادی کے بعد دوسرے دن کرنا مسنون ہے، کسی شرعی مجبوری کی بنا پر تاخیر بھی ہو سکتی ہے۔
جمہور اہل علم کے نزدیک ولیمہ مستحب ہے۔
ولیمہ میں کمی بیشی کی کوئی قید نہیں، بلکہ حسب ِ ضرورت اور حسب ِ توفیق ولیمے کا کھانا پکایا جا سکتا ہے، وہ تھوڑا ہو یا زیادہ، لیکن غلو، نمود و نمائش اور فخر و مباہات سے بچنا ضروری ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عصرِ مبارک کی اہم خاصیت سادگی اور پر خلوص باہمی محبت تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے شادی کے موقع پر بکری کا، سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے شادی کے موقع پر کھجور اور ستو کا اور بعض بیویوں سے شادی پر دو مد (تقریبا ایک کلو پچاس گرام) کا ولیمہ کیا۔ لیکن آجکل جہاں ظاہری رکھ رکھاؤ، اور ’’بھرم‘‘ برقرار رکھنے کے لیے تکلف کرتے ہوئے ولیمے کی دعوتوں اور شادی کے دوسرے رسم و رواج پر بے دریغ خرچ کیا جاتا ہے، وہاں مستحقین اور حقدار فقراء و مساکین کو کلی طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ دعوت دیتے وقت قطعی طور پر اس چیز کو مد نظر نہیں رکھا جاتا ہے کہ فلاں آدمی نیک ہے یا فلاں آدمی غریب ہے، بس مسکراہٹوں کے تبادلے ہو رہے ہیں اور دولت کو دولت کھینچ رہی ہے، یہی دعوتیں ہیں جنہیں بدترین کہا گیا۔ بہر حال مسلمان بھائی کی دعوت قبول کرنا ضروری ہے۔
جکل شادی کے موقع پر اتنے تکلفات کیے جاتے ہیں کہ یا تو متعلقہ لوگوں کو کئی سالوں تک تیاری کرنا پڑتی ہے یا پھر برسوں تک مقروض رہتے ہیں۔ یقین مانیئے کہ جب رشتہ داروں کو تین چار ایام پر مشتمل شادی کی دعوت دی جاتی ہے، تو ہمارے مشاہدے کے مطابق لوگوں کی اکثریتکو اس بنا پر پریشان پایا جاتا ہے کہ گھر کے ہر فرد کے لیے اتنے ملبوسات کا اہتمام کرنا ہے اور فلاں فلاں رسم میں اتنی اتنی رقم جمع کروانی ہے، محبت کے ظاہری دعووں اور رواجوں کو برقرار رکھنے کے لیے حیثیت سے بڑھے ہوئے تقاضوں کو پورا کیا جا رہا ہے۔
کیا آپ تسلیم کریں گے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کے موقع پر ان کو لینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے گئے تھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس پروگرام کا علم ہی نہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیموں میں بھی سادگی تھی، سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی شادی کے موقع پر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ جس کے پاس زائد کھجوریں اور ستو ہے، وہ لے آئے، اسے اکٹھا
کر کے ولیمہ کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر صحابۂ کرام کی شادیوں کا علم ہی نہیں ہوتا تھا؟ لیکن اس دور میں ایسا کرنے والے کو موردِ طعن اور رشتہ داروں کا لحاظ نہ کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔
عصرِ حاضر میں حقیقی محبت مفقود ہے، خوشامد، چاپلوسی اور مال و دولت کا ضرورت سے زیادہ اظہار کیا جاتا ہے، مقابلہ بازی ہے، دنیا کو برتری حاصل ہے، …، مستحق، نادار، بے سہارا، لولے لنگڑے اور غریب رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنا تو درکنار، زبانی کلامی ان کے دکھ درد میں شریک ہونے والا کوئی نہیں۔ ایسے میں وہی کچھ ہو گا، جو ہو رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7036
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه البخاري: 5172 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24821 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25332»