کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: آزاد ہونے کے بعد لونڈی کو اختیار مل جانے کا بیان، جب وہ کسی غلام کی بیوی ہو
حدیث نمبر: 7021
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رِجَالًا يَتَحَدَّثُونَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا عُتِقَتِ الْأَمَةُ فَهِيَ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَطَأْهَا إِنْ شَاءَتْ فَارَقَتْهُ وَإِنْ وَطِئَهَا فَلَا خِيَارَ لَهَا وَلَا تَسْتَطِيعُ فِرَاقَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کچھ لوگوں کو سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لونڈی کو آزاد کر دیا جاتا ہے تو اس کو اختیار مل جاتا ہے، جب تک اس کا خاوند اس سے جماع نہ کر لے، اگر وہ چاہے تو اس سے جدا ہو سکتی ہے اور اگر اس نے اس سے جماع کر لیا تو اس کا اختیار ختم ہو جائے گا اور اس کو اس سے جدا ہونے کی طاقت نہیں رہے گی۔
حدیث نمبر: 7022
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أُعْتِقَتِ الْأَمَةُ وَهِيَ تَحْتَ الْعَبْدِ فَأَمْرُهَا بِيَدِهَا فَإِنْ هِيَ أَقَرَّتْ حَتَّى يَطَأَهَا فَهِيَ امْرَأَتُهُ لَا تَسْتَطِيعُ فِرَاقَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سنا،انھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لونڈی کو آزادی کر دیا جاتا ہے، جبکہ وہ پہلے کسی غلام کی بیوی ہو تو اس کو اختیار مل جاتا ہے، اگر وہ اسی کے گھر برقرار رہی،یہاں تک کہ اس نے اس سے جماع کر لیا تو وہ اسی کی بیوی رہے گی اور اس سے جدا نہیں ہو سکے گی۔
حدیث نمبر: 7023
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَاءَهَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ قَالَتْ فَاشْتَرَيْتُهَا فَأَعْتَقْتُهَا قَالَتْ فَدَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے بریرہ کوآزاد کرنا چاہا، لیکن اس کے مالکوں نے یہ شرط لگا دی کہ ولاء ان کی رہے گی، جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو بیشک اس کو خرید کر آزاد کر دے، ولاء تو صرف اس کی ہوتی ہے، جو چاندی (یعنی قیمت) خرچ کر تا ہے۔ پس میں نے اس کو خرید کر آزاد کر دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بلایا اور اس کو اس کے خاوند کے بارے میں اختیار دے دے، اس نے یہ اختیار قبول کیا، اس کا خاوند آزاد تھا۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث کے آخری الفاظ ’’اس کا خاوند آزاد تھا‘‘ اسود راوی کے کلام سے مدرج ہیں، اگر اس کو موصول بھی سمجھ لیا جائے تو کثرت ِ طرق کی بنا پر وہ روایت راجح ہو گی، جس میں سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے خاوند کے غلام ہونے کا ذکر ہے۔
حدیث نمبر: 7024
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِثْلُ حَدِيثِ مَنْصُورٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ كَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا وَلَوْ كَانَ حُرًّا لَمْ يُخَيِّرْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، … یہ حدیث منصور کی حدیث کی طرح ہے، البتہ اس میں ہے : اور اس کا خاوند غلام تھا، اگر وہ آزاد ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو اختیار نہ دیتے۔
حدیث نمبر: 7025
عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ عَنْ عَائِشَةَ أَيْضًا قَالَتْ وَكَانَتْ أَيْ بَرِيرَةُ تَحْتَ عَبْدٍ فَلَمَّا أَعْتَقْتُهَا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اخْتَارِي فَإِنْ شِئْتِ أَنْ تَمْكُثِي تَحْتَ هَذَا الْعَبْدِ وَإِنْ شِئْتِ أَنْ تُفَارِقِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، یہ ایک طویل حدیث ہے، بیچ میں ایک بات یہ تھی: سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا ایک غلام کی بیوی تھی، جب میں (عائشہ) نے اس کو آزاد کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تجھے اختیار مل گیا ہے، اگر تو چاہے تو اس غلام کے ماتحت رہ سکتی ہے اور چاہے تو علیحدہ ہو سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 7026
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ بَرِيرَةَ كَانَتْ مُكَاتَبَةً وَكَانَ زَوْجُهَا مَمْلُوكًا فَلَمَّا أُعْتِقَتْ خُيِّرَتْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس طرح بھی مروی ہے کہ سیدہ بریرہ نے مکاتبت کی ہوئی تھی اور ان کا خاوند غلام تھا، جب اس کو آزاد کر دیا گیا تو اس کو اختیار دے دیا گیا۔
حدیث نمبر: 7027
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا خُيِّرَتْ بَرِيرَةُ رَأَيْتُ زَوْجَهَا يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ فَكُلِّمَ الْعَبَّاسُ لِيُكَلِّمَ فِيهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِبَرِيرَةَ إِنَّهُ زَوْجُكِ فَقَالَتْ تَأْمُرُنِي بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّمَا أَنَا شَافِعٌ قَالَ فَخَيَّرَهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا وَكَانَ عَبْدًا لِآلِ الْمُغِيرَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب بریرہ کو اختیار ملا تو میں نے دیکھا کہ اس کا خاوند مدینہ کی گلیوں میں اس کے پیچھے پیچھے پھرتا تھا اور اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہتے تھے، کسی نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے بات کی کہ بریرہ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کریں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کہا: بریرہ! یہ تیرا خاوند ہے۔ سیدہ بریرہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تو سفارش کر رہا ہوں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اختیار دیا اور اس نے یہ اختیار قبول کر لیا، ان کا خاوند آل مغیرہ کا غلام تھا۔
وضاحت:
فوائد: … لِیُکَلِّمَ فِیْہِ النَّبِیَّV لِبَرِیْرَۃَ: ((إِنَّہُ زَوْجُکِ۔))، ان الفاظ کی ترکیب صحیح نہیںبن رہی، اگر سنن ابو داود کے الفاظ کو سامنے رکھا جائے معلوم ایسے ہوتا ہے کہ اصل ترکیب اس طرح یا اس سے ملتی جلتی تھی: قَالَ النَّبِیَّV لِبَرِیْرَۃَ: ((إِنَّہُ زَوْجُکِ۔))، ہم نے اسی ترکیب کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔
اس باب سے ثابت ہوا کہ جب غلام اور لونڈی شادی والی زندگی گزار رہے ہوں اور لونڈی کو آزاد کر دیا جائے تو اس کو اس غلام خاوند کے پاس رہنے یا نہ رہنے کا اختیار مل جاتاہے، جب سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو یہ اختیار ملا تو انھوں نے جدائی کو ترجیح دی۔
اس باب سے ثابت ہوا کہ جب غلام اور لونڈی شادی والی زندگی گزار رہے ہوں اور لونڈی کو آزاد کر دیا جائے تو اس کو اس غلام خاوند کے پاس رہنے یا نہ رہنے کا اختیار مل جاتاہے، جب سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو یہ اختیار ملا تو انھوں نے جدائی کو ترجیح دی۔