کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس عورت کا بیان کہ جو مسلمان ہو کر شادی کر لے اور پھر اس کا خاوند اسلام قبول کرے، تو وہ اسی کی طرف لوٹائی جائے گی
حدیث نمبر: 7020
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَسْلَمَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَزَوَّجَتْ فَجَاءَ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَعَلِمَتْ بِإِسْلَامِي فَنَزَعَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا الْآخَرِ وَرَدَّهَا عَلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں مسلمان ہوئی اور اس نے آگے شادی کرلی، لیکن اس کا پہلا خاوند نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں بھی مشرف باسلام ہوا ہوں اور اس میری بیوی کو معلوم تھا کہ میں اسلام لا چکا ہوں، پھر بھی اس نے آگے شادی کر لی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خاتون کو دوسرے خاوند سے واپس لے کر اس کو اس کے پہلے خاوند کی طرف لوٹا دیا۔
وضاحت:
فوائد: … تاہم مسئلہ یہ ہے کہ عدت کے اندر اندر پہلا خاوند مستحق ہے، عدت کے بعد خاتون کو اختیار مل جاتا ہے، لیکن پہلے خاوند کا انتظار کرنا درست ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7020
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، سماك بن حرب في روايته عن عكرمة اضطراب، أخرجه ابوداود: 2239، وابن ماجه: 2008، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2972 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2972»