کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ان کافر میاں بیوی کا بیان کہ جب ان میں سے ایک دوسرے سے پہلے مسلمان ہو جائے
حدیث نمبر: 7017
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ ابْنَتَهُ عَلَى زَوْجِهَا أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالنِّكَاحِ الْأَوَّلِ وَلَمْ يُحْدِثْ شَيْئًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو پہلے نکاح کے ساتھ ہی ان کے خاوند سیدنا ابو عاص بن ربیع کے سپرد کر دیا تھا اور کوئی نیا نکاح نہیں کیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7017
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 2240، والترمذي: 1143 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1876 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1876»
حدیث نمبر: 7018
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَدَّ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ إِسْلَامُهَا قَبْلَ إِسْلَامِهِ بِسِتِّ سِنِينَ عَلَى النِّكَاحِ الْأَوَّلِ وَلَمْ يُحْدِثْ شَهَادَةً وَلَا صَدَاقًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو پہلے نکاح کے ساتھ ہی ان کے خاوند سیدنا ابو عاص بن ربیع کی طرف لوٹا دیا، حالانکہ سیدہ اپنے خاوند سے چھ سال پہلے مسلمان ہوئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ نئی گواہی پیش کی اور نہ نئے مہر کا مطالبہ کیا۔
وضاحت:
فوائد: … جب کوئی خاتون مسلمان ہو جائے، جبکہ اس کا خاوند ابھی تک کافر ہو تو اس کی عدت ایک حیض ہو گی، اس عدت کے بعد وہ کسی سے شادی کر سکتی ہے، لیکن اگر شادی کرنے سے پہلے اس کا شوہر بھی مسلمان ہو جائے تو ان کو سابق نکاح اور مہر کی بنیاد پر ہی میاں بیوی سمجھا جائے گا، نئے نکاح کی ضرورت نہیں ہو گی، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ کیا، اگر ایسی خاتون عدت گزانے کے بعد اور خاوند کے مسلمان ہونے سے پہلے شادی کر لیتی ہے تو پہلے خاوند کا حق ختم ہو جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7018
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2366»
حدیث نمبر: 7019
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَدَّ ابْنَتَهُ إِلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمَهْرٍ جَدِيدٍ وَنِكَاحٍ جَدِيدٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نئے مہر اور نئے نکاح کے ساتھ اپنی بیٹی کو سیدنا ابو العاص کی طرف لوٹایا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … لیکنیہ روایت ضعیف ہے، سابقہ حدیث میں مسئلہ کی وضاحت ہو چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7019
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، الحجاج بن ارطاة كثير الخطأ والتدليس، أخرجه الترمذي: 1142، وابن ماجه: 2010 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6938 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6938»