کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس امر کا بیان کہ جو آدمی مسلمان ہو اور اس کے عقد میں دو بہنیںیا چار سے زائد بیویاں ہوں، نیز آزاد اور غلام کے لیے بیویوں کی جائز تعداد اور اس معاملے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاصے کا بیان
حدیث نمبر: 7012
عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ الثَّقَفِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَسْلَمَ وَتَحْتَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب سیدنا غیلان بن سلمہ ثقفی دائرہ اسلام میں داخل ہوئے تو ان کے عقد میں دس بیویاں تھیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ان میں سے چار پسند کر لو (اور باقی چھوڑ دو)۔
وضاحت:
فوائد: … ترمذی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: اَسْلَمَ وَلَہٗعَشْرُنِسْوَۃٍ فِی الْجَاھِلِیَّۃٍ فَاَسْلَمْنَ مَعَہٗ۔ … جب وہ مسلمان ہوئے تو ان کی دس بیویاں تھیں، وہ بھی ان کے ساتھ مسلمان ہو گئیں۔ اس میں اس طرح کوئی پابندی نہیں ہے کہ وہ ان چار بیویوں کو اپنے عقد میں رکھے، جن سے پہلے نکاح کیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7012
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح بطرقه وشواهده، أخرجه ابن ماجه: 1953، والترمذي: 1128، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4609 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4609»
حدیث نمبر: 7013
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ فِي السَّاعَةِ الْوَاحِدَةِ مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَهُنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ وَهَلْ كَانَ يُطِيقُ ذَلِكَ قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ أُعْطِيَ قُوَّةَ ثَلَاثِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات اور دن کی ایک گھڑی میں اپنی تمام بیویوں کے پاس جا کر (حق زوجیت ادا) کر لیتے تھے، اس وقت ان کی تعداد گیارہ تھی، میں نے سیدنا انس سے کہا: کیا آپ کو اتنی طاقت تھی، انہوں نے کہا: ہم آپس میں بیان کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تیس آدمیوں کی قوت عطا کی گئی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان گیارہ میں سے دو لونڈیاں تھیں، سیدہ ماریہ اور سیدہ ریحانہd۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7013
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 268، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14109 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14155»
حدیث نمبر: 7014
عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ عَلَى تِسْعِ نِسْوَةٍ فِي ضَحْوَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن میں نو بیویوں پر چکر لگاتے (جماع کرتے) تھے۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث نمبر (۷۱۴۲) کی شرح میں ان امہات المومنین کے نام پیش کیے گئے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7014
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 268، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14109 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13539»
حدیث نمبر: 7015
عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ فَيْرُوزَ أَنَّ أَبَاهُ فَيْرُوزَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامُ وَتَحْتَهُ أُخْتَانِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَلِّقْ أَيَّتَهُمَا شِئْتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ضحاک کہتے ہیں: میرے باپ فیروز نے جب اسلام قبول کیا تو ان کے نکاح میں دو بہنیں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ان میں سے جس ایک کوچاہتا ہے، چھوڑ دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7015
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه ابوداود:2243، والترمذي: 1129، وابن ماجه: 1951، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18203»
حدیث نمبر: 7016
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَسْلَمْتُ وَعِنْدِي امْرَأَتَانِ أُخْتَانِ فَأَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُطَلِّقَ إِحْدَاهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: جب میں اسلام لایا تو میری دو بیویاں تھیں اور وہ دونوں بہنیں تھیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ان میں سے ایک کو طلاق سے دوں۔
وضاحت:
فوائد: … دو بہنوں کو ایک آدمی کے نکاح میں جمع نہیں کیا جا سکتا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے: {وَأَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْأُخْتَیْنِ} … ’’(اور تم پر حرام کیا گیا ہے کہ) تم دو بہنوں کو جمع کرو۔‘‘ (سورۂ نسائ: ۲۳)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ خاوند اپنی مرضی کے مطابق کسی ایک کو اختیار کر سکتا ہے، یہ شرط نہیں ہے کہ اس نے دو بہنوں میں سے جس سے پہلے نکاح کیا تھا، اس کو ہی اپنے عقد میں برقرار رکھے۔
امام ابو حنیفہiکا نظریہیہ ہے کہ دو بہنوں کی صورت میں اس بہن کو جدا کر دیا جائے گا، جس سے بعد میں نکاح ہوا تھا اور چار سے زائد بیویوں کی صورت میں ان بیویوں کو الگ کر دیا جائے گا، جن سے چار کی تعداد کی تکمیل کے بعد نکاح ہوا تھا۔
لیکن مذکورہ بالا روایات میںیہ قید اور شرط نہیں پائی جاتی، لہذا خاوند کو اختیار حاصل ہے، وہ جسے چاہے اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7016
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18205»