کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: کسی عیب کی وجہ سے منکوحہ کو ردّ کر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 7011
عَنْ جَمِيلِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ صَحِبْتُ شَيْخًا مِنَ الْأَنْصَارِ ذَكَرَ أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ يُقَالُ لَهُ كَعْبُ بْنُ زَيْدٍ أَوْ زَيْدُ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي غِفَارٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا وَضَعَ ثَوْبَهُ وَقَعَدَ عَلَى الْفِرَاشِ أَبْصَرَ بِكَشْحِهَا بَيَاضًا فَانْحَازَ عَنِ الْفِرَاشِ ثُمَّ قَالَ خُذِي عَلَيْكِ ثِيَابَكِ وَلَمْ يَأْخُذْ مِمَّا آتَاهَا شَيْئًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا کعب بن زیدیا زید بن کعب رضی اللہ عنہ ، جن کو صحبت کا شرف بھی حاصل تھا، سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی غفار کی ایک عورت سے نکاح کیا، جب اس کے پاس گئے،لباس اتارا اور بستر پر بیٹھے، تو اس کے پہلو میں سفیدی دیکھی، پس آپ بستر سے الگ ہو گئے اور اس سے فرمایا: تو اپنا لباس پہن لے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو جو کچھ دیا تھا، وہ اس سے واپس نہیں لیا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن کسی عیب کی وجہ سے خاوند کو طلاق دینے کا اختیار ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7011
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف جميل بن زيد الطائي، ثم ان في اسناد حديثه ھذا اضطرابا، أخرجه البخاري في ’’التاريخ الكبير‘‘: 7/ 223، والطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 646، والبيھقي: 7/ 256 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16032 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16128»