کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: بانجھ خاتون سے نکاح کرنے کا حکم
حدیث نمبر: 7010
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مِقْسَمٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي سَارَةُ بِنْتُ مِقْسَمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ وَأَنَا مَعَ أَبِي وَبِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دِرَّةٌ كَدِرَّةِ الْكُتَّابِ فَسَمِعْتُ الْأَعْرَابَ وَالنَّاسَ يَقُولُونَ الطَّبْطَبِيَّةَ فَدَنَا مِنْهُ أَبِي فَأَخَذَ بِقَدَمِهِ فَأَقَرَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَمَا نَسِيتُ فِيمَا نَسِيتُ طُولَ إِصْبَعِ قَدَمِهِ السَّبَّابَةِ عَلَى سَائِرِ أَصَابِعِهِ قَالَتْ فَقَالَ لَهُ أَبِي إِنِّي شَهِدْتُ جَيْشَ عِثْرَانَ قَالَتْ فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الْجَيْشَ فَقَالَ طَارِقُ بْنُ الْمُرَقَّعِ مَنْ يُعْطِينِي رُمْحًا بِثَوَابِهِ قَالَ فَقُلْتُ وَمَا ثَوَابُهُ قَالَ أُزَوِّجُهُ أَوَّلَ بِنْتٍ تَكُونُ لِي قَالَ فَأَعْطَيْتُهُ رُمْحِي ثُمَّ تَرَكْتُهُ حَتَّى وُلِدَتْ لَهُ ابْنَةٌ وَبَلَغَتْ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ لَهُ جَهِّزْ لِي أَهْلِي فَقَالَ لَا وَاللَّهِ لَا أُجَهِّزُهَا حَتَّى تُحْدِثَ صَدَاقًا غَيْرَ ذَلِكَ فَحَلَفْتُ أَنْ لَا أَفْعَلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَدْرِ أَيِّ النِّسَاءِ هِيَ قُلْتُ قَدْ رَأَتِ الْقَتِيرَ قَالَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعْهَا عَنْكَ لَا خَيْرَ لَكَ فِيهَا قَالَ فَرَاعَنِي ذَلِكَ وَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَأْثَمُ وَلَا يَأْثَمُ صَاحِبُكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مکہ میں اونٹنی پر سوار تھے اور میں اپنے باپ کے ساتھ تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں ایک کوڑا تھا، جیسے کتابت سکھانے والے کے ہاتھ میں ہوتا ہے،میں نے دیہاتیوں اور دیگر لوگوں کوسنا وہ کہہ رہے تھے: کوڑے کی آواز طب طب سے بچو (یعنی کوڑے سے بچو)، میرے باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوئے اور آپ کے قدم مبارک کو پکڑ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قدم برقرار رکھا،میں آپ کے پاؤں کی سبابہ انگلی کی لمبائی دیگر انگلیوں کے مقابلہ میں کبھی نہیں بھولوں گی، میرے باپ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: میں عشران کے لشکر میں حاضر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لشکر کو پہچان لیا، طارق بن مرقع نے کہا: کون ہے جو مجھے کپڑے کے عوض نیزہ دے گا، میں اسے اس کی جزا دوں گا۔ میں نے کہا:اس کی جزا کیا چیز ہو گی؟ اس نے کہا:میں اپنی پیدا ہونے والی سب سے پہلی بیٹی کی اس سے شادی کروں گا، میں نے اسے نیزہ دے دیا اور اس کے پاس ہی چھوڑے رکھا، یہاں تک کہ اس کے ہاں بیٹی ہوئی اور پھر وہ بالغ بھی ہوگئی، میں اس کے پاس گیااور اس سے کہا: میری اہلیہ کو میرے لئے تیار کرو، اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں اسے تیار نہیں کروں گا تاوقتیکہ تو اس نیزے کے علاوہ بھی اس کا کوئی مہر بتائے، میں نے قسم اٹھائی کہ میں ایسا نہیں کروں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی عمر کتنی ہے؟ میں نے کہا: بڑھاپے کو پہنچ گئی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، اس میں خیر نہیں۔ اس بات نے مجھے گھبراہٹ میں ڈال دیا، میں نے اس کی طرف دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ تو قسم کی وجہ سے گنہگار ہوا اور نہ تیرا ساتھی ہوا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنامعقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جَاء َ رَجُلٌ إِلٰی رَسُولِ اللَّہِV فَقَالَ إِنِّی أَصَبْتُ امْرَأَۃً ذَاتَ حَسَبٍ وَمَنْصِبٍ إِلَّا أَنَّہَا لَا تَلِدُ، أَفَأَتَزَوَّجُہَا فَنَہَاہُ ثُمَّ أَتَاہُ الثَّانِیَۃَ فَنَہَاہُ ثُمَّ أَتَاہُ الثَّالِثَۃَ فَنَہَاہُ فَقَالَ: ((تَزَوَّجُوا الْوَلُودَ الْوَدُودَ فَإِنِّی مُکَاثِرٌ بِکُمْ۔)) … ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: مجھے ایک خاندانی اور مرتبے والی عورت ملی ہے، البتہ وہ ہے بانجھ، تو کیا میں اس سے شادی کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منع فرمایا، پھر دوسری بار آگیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو روکا، جب وہ تیسری بار آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منع کیا اور فرمایا: ’’ایسی عورتوں سے شادی کرو، جو زیادہ بچے جننے والی اور خوب محبت کرنے والی ہوں، یقینا میں تمہاری کثرت کی وجہ سے فخر کروں گا۔‘‘ (ابوداود: ۲۰۵۰، نسائی: ۳۲۲۹)
نکاح کا مقصد صرف شہوت رانی نہیں، بلکہ اولاد ہے، البتہ ایک دوسرے کا سہارا بننے کے لیے نکاح جائز ہے، لیکنیہ عام طور پر بڑی عمر میں ہوتا ہے، نوجوان آدمی کو تندرست خاتون سے شادی کرنی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7010
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة حال سارة بنت مقسم، أخرجه ابوداود: 3314 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27064 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27604»