حدیث نمبر: 7000
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ نِكَاحِ الشِّغَارِ قَالَ قُلْتُ لِنَافِعٍ مَا الشِّغَارُ قَالَ يُزَوِّجُ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ وَيَتَزَوَّجُ ابْنَتَهُ وَيُزَوِّجُ الرَّجُلُ أُخْتَهُ وَيَتَزَوَّجُ أُخْتَهُ بِغَيْرِ صَدَاقٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شغار سے منع فرمایاہے، راوی کہتے ہیں: میں نے نافع سے کہا: شغار کیا ہوتا ہے؟ انھوں نے کہا: ایک آدمی کا دوسرے آدمی سے اپنی بیٹی کا نکاح کرنا اور خود اس کی بیٹی سے نکاح کر لینا، اسی طرح ایک آدمی کا دوسرے آدمی سے اپنی بہن کا نکاح کرنا اور خود اس کی بہن سے نکاح کر لینا، جبکہ بیچ میں مہر نہ ہو۔
حدیث نمبر: 7001
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشِّغَارِ قَالَ مَالِكٌ وَالشِّغَارُ أَنْ يَقُولَ أَنْكِحْنِي ابْنَتَكَ وَأُنْكِحُكَ ابْنَتِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شغار کے نکاح سے منع فرمایا، امام مالک کہتے ہیں:شغار یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کہے: تو اپنی بیٹی کا مجھ سے نکاح کر دے اور میں اپنی بیٹی کا تجھ سے نکاح کر دیتا ہوں۔
حدیث نمبر: 7002
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّغَارِ قَالَ وَالشِّغَارُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ وَأُزَوِّجُكَ ابْنَتِي أَوْ زَوِّجْنِي أُخْتَكَ وَأُزَوِّجُكَ أُخْتِي قَالَ وَنَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ وَعَنِ الْحَصَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا ہے۔ راوی کہتا ہے: شغار یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کہے: تو مجھ سے اپنی بیٹی کی شادی کر دے اور میں اپنی بیٹی کی تجھ سے شادی کر دیتا ہوں، یا تو مجھ سے اپنی بہن کی شادی کر دے اور میں تجھ سے اپنی بہن کی شادی کر دیتا ہوں نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دھوکا کی تجارت اور کنکری کی بیع سے بھی منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 7003
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنْكَحَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَكَمِ ابْنَتَهُ وَأَنْكَحَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنَتَهُ وَقَدْ كَانَا جَعَلَا صَدَاقًا فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ خَلِيفَةٌ إِلَى مَرْوَانَ يَأْمُرُهُ بِالتَّفْرِيقِ بَيْنَهُمَا وَقَالَ فِي كِتَابِهِ هَذَا الشِّغَارُ الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد الرحمن بن ہرمزا عرج سے روایت ہے کہ عباس بن عبد اللہ بن عباس نے عبد الرحمن بن حکم سے اپنی بیٹی کا نکاح کیا اور عبد الرحمن نے اپنی بیٹی کا نکاح ان سے کر دیا، انہوں نے بیچ میں حق مہر کا تعین بھی کیا، سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ ، جو خلیفہ تھے، نے مروان کی طرف خط لکھا اور اس کو حکم دیا کہ ان کے درمیان تفریق کرا دو، انہوں نے اپنے خط میں یہ وضاحت کی کہ یہ وہی شغارہے، جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 7004
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّغَارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شغار کے نکاح سے منع فرمایاہے۔
حدیث نمبر: 7005
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں کوئی شغار نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 7006
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں شغار کا کوئی تصور نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 7007
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں شغار نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … باب کے شروع میں شغار کی تعریف گزر چکی ہے، سمجھنے کی بات یہ ہے کہ شغار میں اصل چیز لڑکی کے بدلے لڑکی لینے کی شرط لگانا ہے، اگر اتفاقی طور پر مہر کا ذکر ہو بھی جائے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، جبکہ ہمارے ملک میں مہر کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی ہے۔
ہاں اگر کسی آدمی نے اپنے زیر ولایت لڑکی کا نکاح کسی دوسرے آدمی سے کر دیا اور جواب میں کسی رشتہ کی شرط نہیں لگائی، پھر بعد میں دوسرے آدمی کا پہلے آدمی کو رشتہ دینے کا پروگرام بن گیا اور دوسری شادی ہو گئی،یہ نہ شغار ہے اور نہ اس کی کوئی ممانعت ہے۔
ہاں اگر کسی آدمی نے اپنے زیر ولایت لڑکی کا نکاح کسی دوسرے آدمی سے کر دیا اور جواب میں کسی رشتہ کی شرط نہیں لگائی، پھر بعد میں دوسرے آدمی کا پہلے آدمی کو رشتہ دینے کا پروگرام بن گیا اور دوسری شادی ہو گئی،یہ نہ شغار ہے اور نہ اس کی کوئی ممانعت ہے۔