کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: حلالہ کرنے والے اور احرام والے آدمی کے نکاح کا حکم
حدیث نمبر: 6996
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لئے حلالہ کیا جا رہا ہو، دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 6996
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه النسائي: 6/ 149، وابن ماجه: 2277 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4283»
حدیث نمبر: 6997
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَاحِبَ الرِّبَا وَآكِلَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَالْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان افراد پر لعنت کی ہے: سود والا (یعنی دینے والا)، سود کھانے والا، اس کے دو گواہ،حلالہ کرنے والا اور جس کے لئے حلالہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 6997
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه ابن ماجه: 1935، والترمذي: 1119 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 721 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 721»
حدیث نمبر: 6998
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لئے کیا جائے دونوں پر لعنت کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … حلال کرنے والا وہ شخص ہوتا ہے جو تین طلاق والی عورت سے نکاح اور پھر مباشرت کر کے اس کو اس کے پہلے خاوند کیلئے حلال کرتاہے۔ اس کاروائی میں عورت کی ذلت و توہین ہے، غیرت و حمیت کی کمی ہے اور اس میں شریک ہونے والوں کے مزاج کا گھٹیا اور کمینہ پن ہے، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کو کرائے کا سانڈ قرار دیا ہے۔
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِالتَّیْسِ الْمُسْتَعَارِ؟)) قَالُوا: بَلٰییَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((ہُوَ الْمُحَلِّلُ لَعَنَ اللّٰہُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَہُ۔)) … ’’کیا میںتمہیں کرائے پر لیے سانڈ کی خبرد نہ دے دوں؟‘‘ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ حلالہ کرنے والا ہے، اللہ تعالی حلالہ کرنے والے پر اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے، دونوں پر لعت کی ہے۔‘‘ (ابن ماجہ: ۱۹۲۶)
معلوم ہوا کہ یہ حلالہ حرام فعل ہے، اس لیے جمہور اہل علم کی رائے یہ ہے کہ جو نکاح حلالہ کی نیت سے کیا جائے گا، وہ فاسد ہو گا۔
جس خاتون کو تین طلاقیں دے دی جائیں، اس کا شریعت ِ اسلامیہ میں حل یہ ہے کہ وہ سابق خاوند سے ناامید ہو جائے اور گھر بسانے کی نیت سے آگے کسی اور آدمی سے شادی کر لے، اگر اتفاق سے وہ آدمی بھی اس کو طلاق دے دے تو وہ عدت کے بعد سابقہ خاوند سے نیا نکاح کر سکتیہے، اللہ تعالی کے اس فرمان میں اسی مسئلہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: {فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗمِنْبَعْدُحَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْھِمَآ اَنْ یَّتَرَاجَعَآ اِنْ ظَنَّآ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ} … ’’پھر اگر اس کو (تیسری بار) طلاق دے دے تو اب اس کے لیے حلال نہیں، جب تک کہ وہ عورت اس کے سوا دوسرے سے نکاح نہ کرے، پھر اگر وہ بھی طلاق دے دے تو ان دونوں کو میل جول کر لینے میں کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ وہ یہ جان لیں کہ وہ اللہ کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۲۳۰)
لیکنیہ ضروری ہے کہ دوسرا خاوند نکاح کے بعد حق زوجیت بھی ادا کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 6998
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه البزار: 1442، والبيھقي: 7/ 208 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8287 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8270»
حدیث نمبر: 6999
عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُحْرِمُ لَا يَنْكِحُ وَلَا يُنْكِحُ وَلَا يَخْطُبُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: احرام والا نہ خود نکاح کرے،نہ کسی دوسرے کا نکاح کرائے اور نہ منگنی کا پیغام بھیجے۔
وضاحت:
فوائد: … محرم نہ نکاح کر سکتا ہے، نہ کروا سکتا ہے اور نہ منگنی کا معاملہ طے کر سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 6999
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1409 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 401 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 401»