حدیث نمبر: 6973
عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ قَالَ: فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ شَقَّ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَخِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ میرے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ متغیر ہوگیا، ایسے لگ رہا تھا کہ آپ کو یہ بات سخت ناگوار گزری، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرا رضاعی بھائی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذرا غور کر لو کہ تمہارے بھائی کون ہیں، رضاعت تو بھوک سے ثابت ہوتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث کے آخری جملے کامطلب یہ ہے کہ جب بچہ اتنا چھوٹا ہو کہ اس کی خوراک صرف دودھ بن سکتا ہو تو اس عمر میں دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہوتی ہے اور مدت ِ رضاعت دو سال ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے: {وَالْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَیْنِکَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَاَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَۃَ} … ’’اور مائیں اپنی اولاد کو دو سال کامل دودھ پلائیں، جن کا ارادہ دودھ پلانے کی مدت بالکل پوری کرنے کا ہو۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۲۳۳) مدت رضاعت زیادہ سے زیادہ دو سال ہے۔
حدیث نمبر: 6974
عَنْ أَبِي مُوسَى الْهِلَالِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا كَانَ فِي سَفَرٍ فَوَلَدَتِ امْرَأَتُهُ فَاحْتُبِسَ لَبَنُهَا، فَجَعَلَ يَمُصُّهُ وَيَمُجُّهُ فَدَخَلَ حَلْقَهُ فَأَتَى أَبَا مُوسَى فَقَالَ: حُرِّمَتْ عَلَيْكَ، فَأَتَى ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ إِلَّا مَا أَنْبَتَ اللَّحْمَ وَأَنْشَرَ الْعَظْمَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو موسیٰ ہلالی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی سفر میں تھا، اس کی بیوی نے بچہ جنا، لیکن اس کا دودھ رک گیا، اس لیے اس آدمی نے اس کا دودھ چوسنا اور پھر منہ سے باہر پھینکنا شروع کر دیا، (تاکہ دودھ رواں ہو جائے)، لیکن ہوا یوں کہ کچھ دودھ اس کے حلق میں اتر گیا، پس وہ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور سوال کیا، انھوں نے کہا: تیری بیوی تو تجھ پر حرام ہو چکی ہے، پھر وہ آدمی سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رضاعت اس وقت تک حرام نہیں کرتی، جب تک وہ گوشت نہ اگائے اور ہڈیوں کو مضبوط نہ کرے۔
وضاحت:
فوائد: … بچہ مدت ِ رضاعت میں جو دودھ پیتا ہے، اس سے اس کا گوشت اگتا ہے اور اس کی ہڈیاں بڑتی اور مضبوط ہوتی ہیں، اس طرح سے وہ دودھ پلانے والی کا ایسا جزو بن جاتا ہے، جیسے وہ اپنے والدین کا جزو ہوتاہے اور یہی حرمت کی وجہ ہے۔
حدیث نمبر: 6975
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعِ الرَّضْعَةُ وَالرَّضْعَتَانِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ چوسنے یا دو دفعہ چوسنے سے رضاعت، حرام نہیں کرتی۔
حدیث نمبر: 6976
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا تُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ وَلَا الرَّضْعَتَانِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ پینایا دو دفعہ پینا حرام نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 6977
عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَانَتْ لِي امْرَأَةٌ فَتَزَوَّجْتُ عَلَيْهَا امْرَأَةً أُخْرَى فَزَعَمَتِ امْرَأَتِي الْأُولَى أَنَّهَا أَرْضَعَتْ امْرَأَتِي الْحَدْثَى إِمْلَاجَةً أَوْ إِمْلَاجَتَيْنِ، وَقَالَ مَرَّةً: رَضْعَةً أَوْ رَضْعَتَيْنِ، فَقَالَ: ((لَا تُحَرِّمُ الْإِمْلَاجَةُ وَلَا الْإِمْلَاجَتَانِ)) أَوْ قَالَ: ((الرَّضْعَةُ أَوِ الرَّضْعَتَانِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے، ایک دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیوی تھی، میں نے اس پر ایک اور شادی کر لی ہے، اب میری پہلی بیوی کا کہنا ہے کہ اس نے میری نئی بیوی کو ایک یا دو دفعہ دودھ پلایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک یا دو دفعہ دودھ پلانے سے رشتہ حرام نہیں ہوتا۔
وضاحت:
فوائد: … ’’اَلرَّضْعَۃُ‘‘ (ایک بار دودھ پلانا): جب بچہ ماں کے وجود کو اپنے منہ میں ڈال کر چوستا ہے اور دودھ پیتا ہے اور پھر کسی عارضے کے بغیر اپنی مرضی سے پستان کو چھوڑتا ہے تو یہ ایک بار دودھ پینا شمار ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 6978
وَعَنْهَا أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا تُحَرِّمُ الْإِمْلَاجَةُ وَلَا الْإِمْلَاجَتَيْنِ)).
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک یا دودفعہ دودھ پلانے سے رشتہ حرام نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 6979
وَعَنْهَا أَيْضًا سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي لَفْظٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ) أَتُحَرِّمُ الْمَصَّةُ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا)).
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا اس طرح بھی بیان کرتی ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ کیا ایک دفعہ دودھ پینے سے حرمت ثابت ہو جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، ثابت نہیں ہوتی۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ ایک دو بار دودھ پلانے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی، پچھلے باب کے آخر میں اس مسئلہ کی وضاحت ہو چکی ہے۔