کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: حرام کرنے والی رضعات کی تعداد اور بڑے آدمی کی رضاعت کا بیان
حدیث نمبر: 6967
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ تَبَنَّى سَالِمًا وَهُوَ مَوْلَى لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ كَمَا تَبَنَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ دَعَاهُ النَّاسُ ابْنَهُ وَوَرِثَ مِنْ مِيرَاثِهِ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ [الأحزاب: 5] فَرُدُّوا إِلَى آبَائِهِمْ فَمَنْ لَمْ يُعْلَمْ لَهُ أَبٌ فَمَوْلًى وَأَخٌ فِي الدِّينِ فَجَاءَتْ سَهْلَةُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا يَأْوِي مَعِي وَمَعَ أَبِي حُذَيْفَةَ وَيَرَانِي فُضُلًا وَفِي لَفْظٍ وَقَدْ بَلَغَ مَا يَبْلُغُ الرِّجَالُ وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ مَا قَدْ عَلِمْتَ فَقَالَ أَرْضِعِيهِ خَمْسَ رَضَعَاتٍ وَفِي لَفْظٍ أَرْضِعِيهِ تَحْرُمِي عَلَيْهِ فَكَانَ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِهَا مِنَ الرَّضَاعِ زَادَ فِي رِوَايَةٍ فَأَرْضَعْتُهُ خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَكَانَ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ فَبِذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ تَأْمُرُ أَخَوَاتِهَا وَبَنَاتِ أَخَوَاتِهَا أَنْ يُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ عَائِشَةُ أَنْ يَرَاهَا وَيَدْخُلَ عَلَيْهَا وَإِنْ كَانَ كَبِيرًا خَمْسَ رَضَعَاتٍ ثُمَّ يَدْخُلُ عَلَيْهَا وَأَبَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَسَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ حَتَّى يَرْضَعَ فِي الْمَهْدِ وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ وَاللَّهِ مَا نَدْرِي لَعَلَّهَا كَانَتْ رُخْصَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِسَالِمٍ مِنْ دُونِ النَّاسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کو منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا، سالم انصار کی ایک عورت کا غلام تھا، اس نے اس کو آزاد کر دیا تھا اورسیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس کو منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا، جس طرح کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو متبنی بیٹا بنا لیا تھا، دورِجاہلیت میں لوگ ایسا کرتے تھے، پھر جو منہ بولا بیٹا بناتا تھا اس کو بیٹا کہہ کر ہی آواز دیتا تھا اور وہ وراثت کا حقدار بننا تھا، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے یہ حکم اتار دیا: {اُدْعُوْھُمْ لِآبَائِہِمْ … … فِی الدِّیْنِ وَمَوَالِیْکُمْ} انہیں ان کے باپوں کے نام سے پکارو، اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بات زیادہ انصا ف والی ہے اور اگر تم ان کے باپوں کو نہیں جانتے تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں۔ (سورۂ احزاب:۵)اس آیت کے بعد منہ بولے بیٹے اصلی باپ کے نام کی جانب پھیر دئیے گئے، جن کے باپوں کے نام معلوم نہ تھے، ان کو دوست یا بھائی کہہ کر پکارا جاتا، سیدنا ابو حذیفہ کی اہلیہ سیدہ سہلہ رضی اللہ عنہا ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے تو سالم کو بیٹا بنا رکھا تھا، وہ میرے اور ابو حذیفہ کے پاس آتا تھا اور کام کاج کے عام کپڑوں میں دیکھتا رہتا تھا، اب وہ بڑا ہو چکا ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ اللہ تعالی نے ان کے بارے میں یہ حکم بھی اتار دیا ہے کہ منہ بولا بیٹا، حقیقی نہیں ہوتا، انہیں ان کے باپوں کے نام سے پکارو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اس کو پانچ مرتبہ دودھ پلا دے، اس وجہ سے تو اس پر حرام ہو جائے گی اور وہ رضاعی بیٹا بن جائے گا۔ ایک روایت میں ہے: پس سہلہ نے اسے پانچ مرتبہ دودھ پلایا اور یہ ان کے رضاعی بیٹا بن گیا۔ اس واقعہ سے استدلال کرتے ہوئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جن افراد کو دیکھنا چاہتی تھیں، اپنی بہنوں کو اور بھانجیوں کو حکم دیتیں کہ وہ ان کو دودھ پلا دیں، اگرچہ وہ بڑی عمر کے ہوتے، جب وہ اسے پانچ مرتبہ دودھ پلا دیتیں تو وہ داخل ہو سکتا تھا، مگر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دوسری ازواج مطہرات کسی کو اس رضاعت کی وجہ سے داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتی تھیں، وہ اس رضاعت کو معتبر سمجھتی تھیں، جو دودھ کی عمر میں ہوتی تھی، اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہتی تھیں کہ ممکن ہے یہ رخصت دوسرے لوگوں کے لیے نہ ہو، بلکہ صرف سیدنا سالم کے لئے ہو کہ انہوں نے بڑی عمر میں بھی دودھ پی لیا تو رضاعت ثابت ہوگئی۔
وضاحت:
فوائد: … دودھ کی کتنی مقدار سے رضاعت ثابت ہو گی؟ اس باب کے آخر میں وضاحت کی جائے گی۔
’’کام کاج کے عام کپڑوں میں دیکھتا رہتا تھا‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ اس قسم کے کپڑوں سے نہ مکمل پردہ ہوتا ہے اور کام کاج کے دوران وجود کو چھپانا بھی مشکل ہوتا ہے، اور اُدھر سیدنا سالم رضی اللہ عنہ دیکھ رہے ہوتے تھے، اس چیز کو سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ محسوس کرنے لگ گئے۔
’’کام کاج کے عام کپڑوں میں دیکھتا رہتا تھا‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ اس قسم کے کپڑوں سے نہ مکمل پردہ ہوتا ہے اور کام کاج کے دوران وجود کو چھپانا بھی مشکل ہوتا ہے، اور اُدھر سیدنا سالم رضی اللہ عنہ دیکھ رہے ہوتے تھے، اس چیز کو سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ محسوس کرنے لگ گئے۔
حدیث نمبر: 6968
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَتَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَالِمًا كَانَ مِنَّا حَيْثُ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّا كُنَّا نَعُدُّهُ وَلَدًا فَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيَّ كَيْفَ شَاءَ وَلَا نَحْتَشِمُ مِنْهُ فَلَمَّا أَنْزَلَ فِيهِ وَفِي أَشْبَاهِهِ مَا أَنْزَلَ أَنْكَرْتُ وَجْهَ أَبِي حُذَيْفَةَ إِذَا رَآهُ يَدْخُلُ عَلَيَّ قَالَ فَأَرْضِعِيهِ عَشْرَ رَضَعَاتٍ ثُمَّ لِيَدْخُلْ عَلَيْكِ كَيْفَ شَاءَ فَإِنَّمَا هُوَ ابْنُكِ فَكَانَتْ عَائِشَةُ تَرَاهُ عَامًّا لِلْمُسْلِمِينَ وَكَانَ مَنْ سِوَاهَا مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرَى أَنَّهَا كَانَتْ خَاصَّةً لِسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ الَّذِي ذَكَرَتْ سَهْلَةُ مِنْ شَأْنِهِ رُخْصَةً لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ سہلۃ بنت سہیل رضی اللہ عنہا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ جانتے ہیں کہ سالم کا ہمارے ہاں کیا مقام تھا، بس ہم اس کو بیٹا ہی سمجھتے تھے، وہ میرے پاس جیسے چاہتا، آجاتا تھا، ہم اس کی کوئی پرواہ نہ کرتے تھے، اب اس کے بارے میں اور اس قسم کے لے پالک لڑکوں کے بارے میں نیا حکم نازل ہو چکا ہے، اب جب سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ اس کو دیکھتے ہیں تو ان کا چہرہ متغیرہو جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اسے دس مرتبہ دودھ پلادے، پھر وہ جیسے چاہے، تیرے پاس آ جائے، وہ تیرا بیٹا بن جائے گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس حکم کو عام سمجھتی تھیں، لیکن دوسری ازواج مطہرات کا خیال تھا کہ یہ حکم مولائے ابی حذیفہ سالم کے ساتھ خاص تھا، کیونکہ سیدہ سہلہ رضی اللہ عنہا نے اس کی ایک خاص صورت ذکر کی تھی۔
حدیث نمبر: 6969
عَنْ سَهْلَةَ امْرَأَةِ أَبِي حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ يَدْخُلُ عَلَيَّ وَهُوَ ذُو لِحْيَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْضِعِيهِ فَقَالَتْ كَيْفَ أُرْضِعُهُ وَهُوَ ذُو لِحْيَةٍ فَأَرْضَعَتْهُ فَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ سہلہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! سیدنا ابوحذیفہ کا آزاد شدہ غلام میرے پاس آتا ہے، جبکہ اب تو وہ داڑھی والا جوان ہو چکا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اسے دودھ پلا دے۔ اس نے کہا: میں اسے کیسے دودھ پلا ؤں وہ تو داڑھی والا ہے؟ پھر انھوں نے اس کو دودھ پلا دیا تھا اور وہ ان کے پاس آتا جاتا تھا۔
حدیث نمبر: 6970
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَتْ تَقُولُ أَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ أَحَدًا بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ وَاللَّهِ مَا نَرَى هَذَا إِلَّا رُخْصَةً أَرْخَصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِسَالِمٍ خَاصَّةً فَمَا هُوَ بِدَاخِلٍ عَلَيْنَا أَحَدٌ بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ وَلَا رَائِينَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی تھیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ باقی تمام ازواجِ مطہرات نے اس سے انکار کر دیا تھا کہ سالم جیسی رضاعت کی وجہ سے کوئی آدمی ان کے پاس آئے، اور انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ہماری تو صرف یہ رائے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دی ہوئی یہ رخصت سالم کے ساتھ خاص ہے، لہٰذا ایسی رضاعت کی وجہ سے نہ کوئی ہم پر داخل ہو اور نہ ہمیں دیکھے۔
حدیث نمبر: 6971
عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ لِعَائِشَةَ: إِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْكِ الْغُلَامُ الْأَيْفَعُ الَّذِي مَا أُحِبُّ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: أَمَا لَكِ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ؟ قَالَتْ: إِنَّ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ سَالِمًا يَدْخُلُ عَلَيَّ وَهُوَ رَجُلٌ، وَفِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْهُ شَيْءٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَرْضِعِيهِ حَتَّى يَدْخُلَ عَلَيْكِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: عائشہ! آپ کے پاس بلوغت کے قریب ایک لڑکا آتا ہے، میں پسند نہیں کرتی کہ وہ میرے پاس آئے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : کیا آپ کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بہترین نمونہ نہیں ہے؟ ابو حذیفہ کی بیوی نے کہا: اے اللہ کے رسول! سالم میرے پاس آتا ہے اور اب وہ مرد بن چکا ہے اور ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ اس کے آنے کو اچھا نہیں سمجھتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اسے دودھ پلا دے تاکہ وہ تیرے پاس آ سکے۔
حدیث نمبر: 6972
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ شَيْئًا مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ عَلَيَّ، فَقَالَ: ((أَرْضِعِيهِ))، فَقَالَتْ: كَيْفَ أُرْضِعُهُ وَهُوَ رَجُلٌ كَبِيرٌ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: ((أَلَسْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ رَجُلٌ كَبِيرٌ؟)) ثُمَّ جَاءَتْ فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ شَيْئًا أَكْرَهُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! جب سالم میرے پاس داخل ہوتا ہے تو مجھے اپنے خاوند سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر تبدیلی نظر آتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تواسے دودھ پلا دے۔ اس نے کہا: میں اس کو کیسے دودھ پلاؤں، وہ اتنا بڑا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنسنے لگے اور فرمایا: کیا میں نہیں جانتا کہ وہ بڑا ہے۔ پھر جب وہ آئی تو اس نے کہا:اب حذیفہ کے چہرے میں کوئی کراہت نظر نہیں آتی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ بڑا اہم مسئلہ ہے اور اس میں غورو فکر کی ضرورت ہے۔سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کو متبنّٰی (منہ بولا بیٹا) بنا رکھا تھا، وہ گھر میں بیٹوں کی طرف رہتا اور آتا جاتا تھا، جب یہ حکم اترا کہ منہ بولے بیٹے حقیقی بیٹوں کی طرح نہیں ہیں اور نہ ان پر حقیقی بیٹوں کے احکام لاگو ہوتے ہیں، تو اب اس سے پردہ فرض ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مشکل کو یوں حل کیا کہ سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ سہلہ رضی اللہ عنہا، سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کو پانچ بار دودھ پلا دے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا نظریہیہ تھا کہ جہاں ضرورت پڑے، وہاں اس رخصت پر عمل کیا جا سکتا ہے، جبکہ دوسری امہات المؤمنین ان کے اس نظریے سے متفق نہیں تھیں۔
اگر رضاعت سے متعلقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قولی اور عمومی ارشادات کو دیکھا جائے تو ان میں صغرِ سنییعنی مدتِ رضاعت کو معتبر اور مشروط قرار دیا گیا ہے، بلکہ اگلے باب کی پہلی حدیث میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدت ِ رضاعت کے بعد دودھ پلانے کی تردید کی ہے۔
صحابہ کی اکثریت اس رخصت کو سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص سمجھتے تھے، لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا موقف یہ تھا کہ اشد ضرورت کے موقع پر اس رخصت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، امام ابن تیمیہ اور امام شوکانی وغیرہ کے نزدیک بھی اس رخصت پر عمل کی گنجائش موجود ہے۔
لیکن ہمارا نظریہ امہات المومنین اور صحابہ کی اکثریت والا ہے، اس رائے کی تائید کی دو وجوہات ہیں: (۱) اب لے پالک اور منہ بولے بیٹوں کے احکام واضح کیے جا چکے ہیں کہ ان کی شریعت میں کوئی حقیقت نہیں ہے، لہذا اب وہ مجبوری کہاں پیدا ہو سکتی ہے، جو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے گھر کا مسئلہ بنی تھی، اب جو آدمی متبنیٰ بیٹے کو حقیقی بیٹے کے احکام دے گا، وہ پہلے سے ہی حرام امور کا مرتکب ہو رہا ہو گا، اس کو مزید کیا رخصت دی جائے۔
(۲) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعت کے بارے عام قوانین اور ارشادات، جن میں سے بعض احادیث میں مدت ِ رضاعت کے بعد دودھ پینے کو غیر معتبر سمجھا گیا ہے۔
جو آدمی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نظریے کا حامل ہو، اس کو از راہِ احتیاط اس پر عمل نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کے لیے خصوصیت کا امکان ہے، اگرچہ خصوصیت کا کوئی دلیل نہیںہے، لیکن رجحان کا میلان ضرور ہے اور اس میں زیادہ احتیاط بھی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
یہ کوئی ضروری نہیں کہ یہ مسئلہ لے پالک کے حوالہ سے پیش آئے۔ بعض دفعہ اس کے علاوہ بھی پیش آسکتا ہے۔ عورت بعض حالات کے تحت ایک بچے کو اس کے بچپن میں کھلاتی ہے، دیکھتی ہے، وہ بھی اس کے پاس بلا جھجک آتا جاتا ہے پھر بعد وہ وہ جوان ہو جاتا ہے اوراس سے پردہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے تو اس کے لیےیہ سالم اور سعلہ والی صورت پیش آجائے گی۔ ایسے حالات میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے نظریے کے مطابق رخصت حاصل کی جاسکتی ہے جس کی اصل بنیاد حدیث نبوی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
امکان سے تو مسئلہ ثابت نہیں ہوگا۔ خصوصیت کے لیے تو دلیل کی ضرورت ہے عمومی دلائل سے یہ خاص شکل منع نہیں ہوگی۔ بلکہ حالات کے تحت یہ خصوصی شکل مستثنیٰ سمجھی جائے گی۔ (عبداللہ رفیق)
کس قدر دودھ پینے سے حرمت ثابت ہو گی؟
اگلے باب کی احادیث میں دو امور بیان کیے گئے ہیں: (۱) مدت ِ رضاعت دو سال ہے، رضاعت کے ثبوت کے لیے اس مدت کے اندر اندر دودھ پلانا ضروری ہے، اور (۲) ایک دو دفعہ دودھ پینے سے رضاعت ثابت نہیں ہو گی۔
اس موضوع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت مفصل ہے، وہ کہتی ہیں: کَانَ فِیمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ یُحَرِّمْنَ، ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ فَتُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِV وَہُنَّ فِیمَایُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ۔ … جو قرآن مجید میںپہلے حکم نازل ہوا تھا، اس کے مطابق بچے کے دس بار واضح طور پر دودھ پی لینے سے حرمت ثابت ہوتی تھی، پھر یہ حکم منسوخ ہو گیا اور پانچ دفعہ واضح طور پر دودھ پینے کا حکم لاگو کر دیا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے یہ حکم قرآن مجید میں پڑھا جاتا تھا۔ (صحیح مسلم: ۱۴۵۲)
قرآن مجید میںپڑھے جانے کا مطلب یہ ہے کہ پانچ رضعات کا حکم بالکل آخری دور میں نازل ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک سب لوگوں کو اس کی تلاوت کے منسوخ ہو جانے کا علم نہ ہو سکا، اس لیے بعض صحابہ کچھ دیر تک اس کو قرآن سمجھ کر پڑھتے رہے، آہستہ آہستہ سب کو پتہ چل گیا اور پھر سب نے اس کی تلاوت چھوڑ دی، البتہ حکم باقی ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب بچہ پانچ بار کسی کا دودھ پی لے تو تب رضاعت ثابت ہو گی، ایک دو بار دودھ پینے سے رضاعت کا ثابت نہ ہونا، یہ اسلام کا حسن ہے۔
اب ایک بار دودھ پینے کی کیفیت کیا ہو گی، تو گزارش ہے کہ جب بچہ ماں کے وجود کو اپنے منہ میں ڈال کر چوستا ہے اور دودھ پیتا ہے اور پھر کسی عارضے کے بغیر اپنی مرضی سے پستان کو چھوڑتا ہے تو یہ ایک بار دودھ پینا شمار ہوتا ہے، اس کو ایک ’’رَضْعَۃ‘‘ کہتے ہیں۔ جب بچہ پانچ بار اس انداز میں دودھ پی لے گا تو اس کی رضاعت ثابت ہو جائے گی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا نظریہیہ تھا کہ جہاں ضرورت پڑے، وہاں اس رخصت پر عمل کیا جا سکتا ہے، جبکہ دوسری امہات المؤمنین ان کے اس نظریے سے متفق نہیں تھیں۔
اگر رضاعت سے متعلقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قولی اور عمومی ارشادات کو دیکھا جائے تو ان میں صغرِ سنییعنی مدتِ رضاعت کو معتبر اور مشروط قرار دیا گیا ہے، بلکہ اگلے باب کی پہلی حدیث میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدت ِ رضاعت کے بعد دودھ پلانے کی تردید کی ہے۔
صحابہ کی اکثریت اس رخصت کو سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص سمجھتے تھے، لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا موقف یہ تھا کہ اشد ضرورت کے موقع پر اس رخصت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، امام ابن تیمیہ اور امام شوکانی وغیرہ کے نزدیک بھی اس رخصت پر عمل کی گنجائش موجود ہے۔
لیکن ہمارا نظریہ امہات المومنین اور صحابہ کی اکثریت والا ہے، اس رائے کی تائید کی دو وجوہات ہیں: (۱) اب لے پالک اور منہ بولے بیٹوں کے احکام واضح کیے جا چکے ہیں کہ ان کی شریعت میں کوئی حقیقت نہیں ہے، لہذا اب وہ مجبوری کہاں پیدا ہو سکتی ہے، جو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے گھر کا مسئلہ بنی تھی، اب جو آدمی متبنیٰ بیٹے کو حقیقی بیٹے کے احکام دے گا، وہ پہلے سے ہی حرام امور کا مرتکب ہو رہا ہو گا، اس کو مزید کیا رخصت دی جائے۔
(۲) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعت کے بارے عام قوانین اور ارشادات، جن میں سے بعض احادیث میں مدت ِ رضاعت کے بعد دودھ پینے کو غیر معتبر سمجھا گیا ہے۔
جو آدمی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نظریے کا حامل ہو، اس کو از راہِ احتیاط اس پر عمل نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کے لیے خصوصیت کا امکان ہے، اگرچہ خصوصیت کا کوئی دلیل نہیںہے، لیکن رجحان کا میلان ضرور ہے اور اس میں زیادہ احتیاط بھی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
یہ کوئی ضروری نہیں کہ یہ مسئلہ لے پالک کے حوالہ سے پیش آئے۔ بعض دفعہ اس کے علاوہ بھی پیش آسکتا ہے۔ عورت بعض حالات کے تحت ایک بچے کو اس کے بچپن میں کھلاتی ہے، دیکھتی ہے، وہ بھی اس کے پاس بلا جھجک آتا جاتا ہے پھر بعد وہ وہ جوان ہو جاتا ہے اوراس سے پردہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے تو اس کے لیےیہ سالم اور سعلہ والی صورت پیش آجائے گی۔ ایسے حالات میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے نظریے کے مطابق رخصت حاصل کی جاسکتی ہے جس کی اصل بنیاد حدیث نبوی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
امکان سے تو مسئلہ ثابت نہیں ہوگا۔ خصوصیت کے لیے تو دلیل کی ضرورت ہے عمومی دلائل سے یہ خاص شکل منع نہیں ہوگی۔ بلکہ حالات کے تحت یہ خصوصی شکل مستثنیٰ سمجھی جائے گی۔ (عبداللہ رفیق)
کس قدر دودھ پینے سے حرمت ثابت ہو گی؟
اگلے باب کی احادیث میں دو امور بیان کیے گئے ہیں: (۱) مدت ِ رضاعت دو سال ہے، رضاعت کے ثبوت کے لیے اس مدت کے اندر اندر دودھ پلانا ضروری ہے، اور (۲) ایک دو دفعہ دودھ پینے سے رضاعت ثابت نہیں ہو گی۔
اس موضوع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت مفصل ہے، وہ کہتی ہیں: کَانَ فِیمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ یُحَرِّمْنَ، ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ فَتُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِV وَہُنَّ فِیمَایُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ۔ … جو قرآن مجید میںپہلے حکم نازل ہوا تھا، اس کے مطابق بچے کے دس بار واضح طور پر دودھ پی لینے سے حرمت ثابت ہوتی تھی، پھر یہ حکم منسوخ ہو گیا اور پانچ دفعہ واضح طور پر دودھ پینے کا حکم لاگو کر دیا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے یہ حکم قرآن مجید میں پڑھا جاتا تھا۔ (صحیح مسلم: ۱۴۵۲)
قرآن مجید میںپڑھے جانے کا مطلب یہ ہے کہ پانچ رضعات کا حکم بالکل آخری دور میں نازل ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک سب لوگوں کو اس کی تلاوت کے منسوخ ہو جانے کا علم نہ ہو سکا، اس لیے بعض صحابہ کچھ دیر تک اس کو قرآن سمجھ کر پڑھتے رہے، آہستہ آہستہ سب کو پتہ چل گیا اور پھر سب نے اس کی تلاوت چھوڑ دی، البتہ حکم باقی ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب بچہ پانچ بار کسی کا دودھ پی لے تو تب رضاعت ثابت ہو گی، ایک دو بار دودھ پینے سے رضاعت کا ثابت نہ ہونا، یہ اسلام کا حسن ہے۔
اب ایک بار دودھ پینے کی کیفیت کیا ہو گی، تو گزارش ہے کہ جب بچہ ماں کے وجود کو اپنے منہ میں ڈال کر چوستا ہے اور دودھ پیتا ہے اور پھر کسی عارضے کے بغیر اپنی مرضی سے پستان کو چھوڑتا ہے تو یہ ایک بار دودھ پینا شمار ہوتا ہے، اس کو ایک ’’رَضْعَۃ‘‘ کہتے ہیں۔ جب بچہ پانچ بار اس انداز میں دودھ پی لے گا تو اس کی رضاعت ثابت ہو جائے گی۔