کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: کیا دودھ پلانے والی خاتون کے خاوند اور اس کے رشتہ داروں کے لیے بھی رضاعت کا حکم ثابت ہو جائے گا یا نہیں
حدیث نمبر: 6963
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ جَاءَنِي عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ بَعْدَ مَا ضُرِبَ الْحِجَابُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: پردہ کے احکام نازل ہونے کے بعد میرے رضاعی چچا نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، … پھر وہی حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 6964
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ جَاءَنِي أَفْلَحُ بْنُ أَبِي الْقُعَيْسِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ وَالَّذِي أُرْضِعَتْ عَائِشَةُ مِنْ لَبَنِهِ هُوَ أَخُوهُ فَجَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ائْذَنِي لَهُ الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: افلح بن ابی قعیس آیا اور میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، جس خاتون نے عائشہ کو دودھ پلایا تھا، یہ شخص اس کے خاوند کا بھائی تھا، پس اس نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، لیکن میں نے انکار کر دیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو اجازت دے دیا کر۔ … الحدیث۔
حدیث نمبر: 6965
عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ قَالَ قُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ امْرَأَةُ أَبِي أَرْضَعَتْ جَارِيَةً مِنْ عُرْضِ النَّاسِ بِلَبَنِ أَخَوَيَّ أَفَتَرَى أَنِّي أَتَزَوَّجُهَا فَقَالَ لَا أَبُوكِ أَبُوهَا قَالَ ثُمَّ حَدَّثَ حَدِيثَ أَبِي الْقُعَيْسِ فَقَالَ إِنَّ أَبَا الْقُعَيْسِ أَتَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا فَلَمْ تَأْذَنْ لَهُ فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا قُعَيْسٍ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ فَلَمْ آذَنْ لَهُ فَقَالَ هُوَ عَمُّكِ فَلْيَدْخُلْ عَلَيْكِ فَقُلْتُ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ فَقَالَ هُوَ عَمُّكِ فَلْيَدْخُلْ عَلَيْكِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عباد بن منصور کہتے ہیں:میں نے قاسم بن محمد سے کہا: میرے باپ کی بیوی نے میرے بھائیوں کا دودھ عوام میں سے کسی لڑکی کو پلایا، اب کیا میں اس لڑکی سے شادی کر سکتا ہوں؟ انھوں نے کہا: نہیں، کیونکہ اب تیرا اور اس لڑکی کاباپ ایک ہے، پھر اس نے ابو قعیس کی حدیث بیان کی اور وہ اس طرح کہ ابو قعیس، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان سے اندر جانے کی اجازت طلب کی، لیکن انہوں نے اس کو اجازت نہ دی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابو قعیس آیا تھا، اس نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، لیکن میں نے اس کو اجازت نہیں دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تو تمہارا چچا ہے، اس کو تمہارے پاس آ جانا چاہیے۔ میں نے کہا: مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے، نہ کہ مردنے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کہہ رہا ہوں وہ آپ کا چچا ہے،وہ تمہارے پاس آ سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 6966
عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرَاهُ فُلَانًا لِعَمٍّ لِحَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ كَانَ فُلَانٌ حَيًّا لِعَمِّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ دَخَلَ عَلَيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف فرما تھے، میں نے ایک آدمی کی آواز سنی، وہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر داخل ہونے کی اجازت مانگ رہاتھا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آدمی، آپ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگ رہا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ حفصہ کا فلاں رضاعی چچا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میرا فلاں رضاعی چچا زندہ ہوتا تو وہ مجھ پر داخل ہو سکتا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل، بیشک رضاعت ان رشتوں کو حرام کر دیتی ہے، جو نسب اور ولادت کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … جیسے رضاعت کی وجہ سے خواتین کی حرمت ثابت ہوتی ہے، اسی طرح اگر دودھ پینے والی بچی ہو تو وہ بھی رضاعت کی وجہ سے بعض مردوں پر حرام ہو گی، اگر دودھ پلانے والی رضاعی ماں ہے، تو اس کا خاوند رضاعی باپ ہوگا، اس کا بیٹا رضاعی بھائی ہو گا، اس کا بھائی رضاعیماموں ہو گا، اس کا باپ رضاعی نانا ہو گا، رضاعی باپ کے والدین رضاعی دادا دادی ہوں گے، علی ہذا لقیاس، اسی طرح آگے علاتی اور اخیافی بہن بھائیوں کا سلسلہ ہو گا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت کا دودھ اس کے خاوند کے جماع اور حمل کے نتیجے میں اترتا ہے، گویا عورت کے دودھ میں خاوند کا بھی دخل ہے، لہذا دودھ پینے والے بچے یا بچی کا رشتہ عورت اور اس کے خاوند دونوں سے قائم ہو گا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت کا دودھ اس کے خاوند کے جماع اور حمل کے نتیجے میں اترتا ہے، گویا عورت کے دودھ میں خاوند کا بھی دخل ہے، لہذا دودھ پینے والے بچے یا بچی کا رشتہ عورت اور اس کے خاوند دونوں سے قائم ہو گا۔