کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: رضاعت کی وجہ سے نکاح کے حرام ہو جانے کے ابواب جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں، وہی رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہو جاتے ہیں
حدیث نمبر: 6959
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا لَكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا، قَالَ: ((وَهَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، ابْنَةُ حَمْزَةَ، قَالَ: ((إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي، هِيَ ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول اللہ! آپ قریش میں رشتے کو پسند کرتے ہیں اور ہمیں یعنی بنو ہاشم کو چھوڑ جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی رشتہ ہے ؟ میں نے کہا: جی ہاں، سیدنا حمزہ کی بیٹی (سلمیٰ) ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تو میرے لئے حلال نہیں ہے، کیونکہ وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ابو لہب کی لونڈی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو دودھ پلایا تھا، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ رضاعی بھائی بن گئے اور ہر ایک کی اولاد دوسرے کے لیے محرم قرار پائی۔ اگر صرف نسب کو دیکھا جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حمزہ کی بچی سے شادی کر سکتے تھے، لیکن رضاعت آڑے آ گئی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 6959
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1446، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 620 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 620»
حدیث نمبر: 6960
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُرِيدَ عَلَى ابْنَةِ حَمْزَةَ، فَقَالَ: ((إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ وَيَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الرَّحِمِ وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدنا حمزہ کی بیٹی سے رشتہ کرنے کا بتلایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے اور رضاعت سے وہ رشتہ حرام ہے، جو نسب سے حرام ہے، سو وہ میرے لئے حلال نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 6960
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2645، ومسلم: 1447، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3043 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3043»
حدیث نمبر: 6961
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ مِنْ خَالٍ أَوْ عَمٍّ أَوِ ابْنِ أَخٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رضاعت کی وجہ سے وہ رشتہ حرام ہوتا ہے، جو نسب کی وجہ سے حرام ہے، مثلا ماموں، چچا، بھتیجا وغیرہ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 6961
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 1147، والنسائي: 6/ 98 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24712 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25219»
حدیث نمبر: 6962
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي قُعَيْسٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى عَائِشَةَ فَأَبَتْ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ فَلَمَّا أَنْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي قُعَيْسٍ اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ فَقَالَ ائْذَنِي لَهُ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ قَالَ ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ تَرِبَتْ يَمِينُكِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو قعیس کے بھائی افلح نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، میں نے انکار کر دیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابو قعیس کے بھائی افلح نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی،لیکن میں نے اجازت نہ دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے اجازت دے دیا کرو۔ میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، نہ کہ مرد نے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو جائے، تو اس کو اجازت دے دیا کر، وہ تیرا رضاعی چچا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ہر وہ عورت جو نسب کی وجہ سے حرام کی گئی ہے، وہ اسی طرح رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہے، ان عورتوں کی تفصیلیہ ہیں: ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ، بھتیجی، بھانجی۔
ان عورتوں میں وہی تفصیل ہے، جو نسبی محرمات میں بیان کی جاتی ہے، یعنی صرف رضاعی ماں بھی حرام نہیں ہو گی، بلکہ اس کی ماں، اس کی دادی اور آگے پڑدادیاں اور ان سے آگے تک تمام مائیں حرام ہوں گی۔ اسی طرح اگر رضاعی بیٹی حرام ہے تو رضاعی پوتیاں، نواسیاں، اور نواسیوں اور پوتیوں کی بیٹیاں، نیچے تک سب حرام ہو ں گی۔
قرآن مجید میں صرف رضاعی ماؤں اور رضاعی بہنوں کی حرمت کا ذکر ہے، باقی تفصیل احادیث ِ مبارکہ میں بیان کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 6962
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4796، ومسلم: 1445، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24054 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24555»