کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: عورت اور اس کی پھوپھی کو اور اس قسم کی محرم خواتین کو ایک نکاح میںجمع کرنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6943
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا حِينَمَا تَزَوَّجَهَا أَمَا إِنِّي لَا أَنْقُصُكِ مِمَّا أَعْطَيْتُ أَخَوَاتِكِ رَحَيَيْنِ وَجَرَّةً وَمِرْفَقَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب ان سے شادی کی تو ان سے فرمایا: میں نے جو کچھ تیری بہنوں کو دیا ہے، تیرے لیے اس سے کمی نہیں کروں گا، دو چکیاں ہیں، ایک گھڑا ہے اور چمڑے کا ایک گدا ہے، جس میں پتے بھرے گئے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … بہنوں سے مراد اسلامی بہنیں ہیں،یعنی اسلامی رشتے کے اعتبار سے امہات المؤمنین آپس میں بہنیں تھیں۔
حدیث نمبر: 6944
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُجْمَعَ ب_disconnectَيْنَ الْعَمَّةِ وَالْخَالَةِ وَبَيْنَ الْعَمَّتَيْنِ وَالْخَالَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ بھتیجی اور پھوپھی اور بھانجی اور خالہ کو ایک نکاح میں جمع کیا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … ’’وَبَیْنَ الْعَمَّتَیْنِ وَالْخَالَتَیْنِ‘‘ کے ذریعے پچھلے جملے کے مضمون کو دوہرایا گیا، تغلیباً پھوپھی اور بھتیجی کو ’’عَمَّتَیْن‘‘ اور خالہ اور بھانجی کو ’’خَالَتَیْن‘‘ کہا گیا۔
حدیث نمبر: 6945
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے منع فرمایا ہے کہ کسی عورت سے اس کی پھوپھی یا خالہ کی موجودگی میں شادی کی جائے۔
حدیث نمبر: 6946
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَالْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا وَالْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا وَالْخَالَةُ عَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا لَا تُنْكَحُ الْكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى وَلَا الصُّغْرَى عَلَى الْكُبْرَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ پھوپھی پر اس کی بھتیجی سے، بھتیجی پر اس کی پھوپھی سے، خالہ پر اس کی بھانجی سے اور بھانجی پر اس کی خالہ سے نکاح کیا جائے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بھی منع فرمایا کہ چھوٹی پر بڑی سے اور بڑی پر چھوٹی سے شادی کی جائے۔
وضاحت:
فوائد: … بڑی سے مراد خالہ یا پھوپھی ہے اور چھوٹی سے مراد بھانجییا بھتیجی ہے۔
حدیث نمبر: 6947
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس عورت سے شادی نہ کی جائے، جس کی پھوپھی اور خالہ پہلے سے موجود ہوں۔
حدیث نمبر: 6948
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 6949
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى فَذَكَرَ خِصَالًا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا مِنْهَا أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ امور سے منع کیا، پھر انھوں نے ان امور کو شمار کیا، ان میں سے ایک چیزیہ تھی: لڑکی اور اس کی خالہ اور لڑکی اور اس کی پھوپھی کو ایک نکاح میں جمع کرنا۔ یعنی یہ ان امور میں سے تھا، جن سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع کیا تھا۔
حدیث نمبر: 6950
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا وَلَا الْمَرْأَةُ عَلَى ابْنَةِ أَخِيهَا وَلَا عَلَى ابْنَةِ أُخْتِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھوپھی پر اس کی بھتیجی سے، خالہ پر اس کی بھانجی سے، بھتیجی پر اس کی پھوپھی سے اور بھانجی پر اس کی خالہ سے نکاح نہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 6951
عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَبَيْنَ خَالَةِ أَبِيهَا وَالْمَرْأَةِ وَخَالَةِ أُمِّهَا وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّةِ أَبِيهَا وَالْمَرْأَةِ وَعَمَّةِ أُمِّهَا، فَقَالَ: قَالَ قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، فَنَرَى خَالَةَ أُمِّهَا بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ وَإِنْ كَانَ مِنَ الرِّضَاعِ يَكُونُ مِنْ ذَلِكَ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابن شہاب سے مروی ہے کہ ان سے ایک آدمی کے متعلق سوال کیا گیا جو اپنے نکاح میں ایک عورت اور اس کے باپ کی خالہ یا اس کی ماں کی خالہ کو جمع کرتا ہے اور عورت اور اس کے باپ کی پھوپھی یا اس کی ماں کی پھوپھی کو جمع کرتا ہے۔ انھوں نے جواباً کہا: قبیصہ بن ذؤیب نے بیان کیا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ایک نکاح میں عورت اور اس کی خالہ کو اور عورت اور اس کی پھوپھی کوجمع کیا جائے۔ ہمارا خیال ہے کہ عورت کی ماں کی خالہ اس کی اپنی خالہ کے قائم مقام ہے اور اگر اس طرح کا رضاعی رشتہ ہو تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔
حدیث نمبر: 6952
عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي؟ قَالَ: ((فَأَصْنَعُ بِهَا مَاذَا؟)) قَالَتْ: تَزَوَّجْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((وَتُحِبِّينَ ذَلِكَ؟)) فَقَالَتْ: نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَقُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي)) قَالَتْ: فَوَاللَّهِ! لَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَخْطُبُ دُرَّةَ ابْنَةَ أُمِّ سَلَمَةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَوْ كَانَتْ تَحِلُّ لِي لَمَا تَزَوَّجْتُهَا، قَدْ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ مَوْلَاةُ بَنِي هَاشِمٍ فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ أَخَوَاتِكُنَّ وَلَا بَنَاتِكُنَّ)).
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو میری بہن کی رغبت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس کو کیا کروں؟انھوں نے کہا: آپ اس سے شادی کرلیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ پسند کرتی ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں اورپہلے کون سی اکیلی ہوں، اور میری بہن سب سے زیادہ حقدار ہے کہ وہ اس خیر وبھلائی میں میرے ساتھ شریک ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ میرے لئے حلال نہیں۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے تو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آپ نے درہ بنت ام سلمہ کو منگنی کا پیغام بھیجا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ میرے لیے حلال ہوتی تو پھر بھی میں اس سے شادی نہ کر سکتا، کیونکہ بنو ہاشم کی لونڈی ثویبہ نے مجھے اور اس کے باپ کو دودھ پلایا ہے، پس اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو مجھ پر پیش نہ کرو۔
حدیث نمبر: 6953
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَقِيتُ خَالِي وَمَعَهُ الرَّايَةُ فَقُلْتُ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ مِنْ بَعْدِهِ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ أَوْ أَقْتُلَهُ وَآخُذَ مَالَهُ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں اپنے ماموں کو اس حال میں ملا کہ ان کے پاس ایک جھنڈا تھا، میں نے کہا: آپ کہاں جا رہے ہیں: انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک ایسے آدمی کی طرف بھیجا ہے، جس نے اپنے باپ کی وفات کے بعد اس کی بیوی سے نکاح کر لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس لئے بھیجا کہ میں اس کی گردن اڑا دو، یا اس کو قتل کر دوں اور اس کا مال لوٹ لاؤں۔
وضاحت:
فوائد: … کون کون سی خواتین کو ایک آدمی کے نکاح میں جمع نہیں کیا جا سکتا، دو بہنوںکا ذکر قرآن مجید میں ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَأَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْأُخْتَیْنِ} … ’’(اور تم پر حرام کیا گیا ہے کہ) تم دو بہنوں کو لیکن اس باب کی احادیث سے پتہ چلا کہ خالہ اور اس کی بھانجی اور پھوپھی اور اس کی بھتیجی کو بھی ایک نکاح میں جمع نہیں کیا جا سکتا، رضاعی رشتوں کا بھی اسی طرح لحاظ رکھا جائے گا۔
اس بحث سے ثابت ہوا کہ احادیث ِ مبارکہ بنفس نفیس حجت ہیں، ان کو قرآن مجید کے مفہوم پر پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، غور کریں کہ اللہ تعالی نے دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنے سے منع کر کے فرمایا: {وَأُحِلَّ لَکْمْ مَّا وَرَائَ ذٰلِکُمْ} … ’’اور ان عورتوں کے سوا اور عورتیں تمہارے لیے حلال کی گئیں ہیں۔‘‘ (سورۂ نسائ: ۲۴)
لیکن احادیث ِ مبارکہ نے خالہ اور بھانجی،پھوپھی اور بھتیجی اور رضاعی رشتوں کا اضافہ کر دیا، شارح ابوداود علامہ شرف الحق عظیم آبادی نے کہا: خارجیوں اور شیعوں کے بعض گروہوں نے {وَأُحِلَّ لَکْمْ مَّا وَرَائَ ذٰلِکُمْ} سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ بھتیجی اور پھوپھی اور خالہ اور بھانجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا درست ہے، لیکن جمہور اہل علم نے اِن احادیث سے حجت پکڑی اور اِن کی روشنی میں قرآن مجید کے عموم کی تخصیص کر دی اور ان دو رشتوں کو ایک نکاح میں جمع کرنے سے منع کر دیا، راجح بات جمہور اصولیوں کی ہی ہے کہ خبر و احد کے ذریعے قرآن مجید کے عموم کی تخصیص کی جا سکتی ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طرف نازل ہونے والے کلام کی وضاحت کرنے والے ہیں۔ (عون المعبود: ۱/ ۹۷۰)
اس بحث سے ثابت ہوا کہ احادیث ِ مبارکہ بنفس نفیس حجت ہیں، ان کو قرآن مجید کے مفہوم پر پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، غور کریں کہ اللہ تعالی نے دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنے سے منع کر کے فرمایا: {وَأُحِلَّ لَکْمْ مَّا وَرَائَ ذٰلِکُمْ} … ’’اور ان عورتوں کے سوا اور عورتیں تمہارے لیے حلال کی گئیں ہیں۔‘‘ (سورۂ نسائ: ۲۴)
لیکن احادیث ِ مبارکہ نے خالہ اور بھانجی،پھوپھی اور بھتیجی اور رضاعی رشتوں کا اضافہ کر دیا، شارح ابوداود علامہ شرف الحق عظیم آبادی نے کہا: خارجیوں اور شیعوں کے بعض گروہوں نے {وَأُحِلَّ لَکْمْ مَّا وَرَائَ ذٰلِکُمْ} سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ بھتیجی اور پھوپھی اور خالہ اور بھانجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا درست ہے، لیکن جمہور اہل علم نے اِن احادیث سے حجت پکڑی اور اِن کی روشنی میں قرآن مجید کے عموم کی تخصیص کر دی اور ان دو رشتوں کو ایک نکاح میں جمع کرنے سے منع کر دیا، راجح بات جمہور اصولیوں کی ہی ہے کہ خبر و احد کے ذریعے قرآن مجید کے عموم کی تخصیص کی جا سکتی ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طرف نازل ہونے والے کلام کی وضاحت کرنے والے ہیں۔ (عون المعبود: ۱/ ۹۷۰)