حدیث نمبر: 6940
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ فِي خَمِيلٍ وَقِرْبَةٍ وَوِسَادَةِ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفُ الْإِذْخَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جہیز میں یہ اشیاء دی تھیں: ایک چادر، ایک مشک اور چمڑے کا ایک تکیہ، جس کی بھرائی اذخر گھاس کے پتوں سے کی گئی تھی۔
حدیث نمبر: 6941
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) مِثْلَهُ وَفِيهِ وَوِسَادَةُ أَدَمٍ حَشْوُهَا إِذْخَرٌ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ لِيفٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اسی کی مانند ہے، البتہ اس میں ہے:ایک چمڑے کا تکیہ تھا، جس کی بھرائی اذخر گھاس سے کی گئی تھی، ابو سعید نے کہا: اذخر گھاس کے پتوں سے کی گئی تھی۔
حدیث نمبر: 6942
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا زَوَّجَهُ فَاطِمَةَ بَعَثَ مَعَهَا بِخَمِيلَةٍ وَوِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ وَرَحَيَيْنِ وَسِقَاءٍ وَجَرَّتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو یہ سامان دیا: ایک چادر، چمڑے کا ایک تکیہ، جس میں پتے بھرے گئے تھے،دو چکیاں، ایک مشک اور دو گھڑے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جہیز میں حاجت و ضرورت کے مطابق کچھ چیزیں دی جا سکتی ہیں، لیکن اس میں تکلّف اور وسعت اختیارکرنا ہر لحاظ سے انتہائی ناپسندیدہ ہے، جیسا کہ دورِ حاضر میں ہو رہا ہے، امیر لوگ اس سلسلے میں فخر و مباہات میں پڑے ہوئے ہیں،غریب لوگ انتہائی پریشانی میں بھیک مانگ کر بچی کی شادی کی تیاری کر رہے ہیں اور درمیانی قسم کے لوگ مقروض ہو کر اپنی زندگیوں کا سکون غارت کر رہے ہیں۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ((فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ وَفِرَاشٌ لِامْرَأَتِہِ وَالثَّالِثُ لِلضَّیْفِ وَالرَّابِعُ لِلشَّیْطَانِ۔)) … ’’ایک بستر مرد کے لیے ہوتا ہے، ایک اس کی بیوی کے لیے، تیسرا مہمان کے لیے اور چوتھا شیطان کے لیے ہوتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم: ۳۸۸۶)
امام نووی نے کہا: علمائے اسلام کا نظر یہ ہے کہ ان احادیث کامفہوم یہ ہے کہ جب لوگ اس سلسلے حاجت اور ضرورت سے بڑھ کر کام کریں گے تو وہ مباہات،تکبر اور دنیوی زینت کے لیے ہو گا اور اس قسم کی چیزمذموم ہوتی ہے، جس کو شیطان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، کیونکہ وہی اس سے راضی ہوتا ہے، لوگوں کو اس قسم کے وسوسے ڈالتا ہے اور ان کو ان کی کاروائیاں خوبصورت بنا کر دکھاتا ہے۔ قارئین کرام! ذہن نشین کر لیں کہ دورِ حاضر کے پر تکلف جہیز، پر اہتمام باراتیں اور رسمیں اور بڑے بڑے ولیمے ایسی ایسی صورتیں اختیار کر چکے ہیں کہ ان کا مقصد نمود و نمائش اور فخر و مباہات کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور ان امور کی بنیاد سنت ِ رسول نہیں ہے، انتہائی کنجوس اور بخیل لوگوں کو ان موقعوں پر کھلے دل سے خرچ کرتے ہوئے پایا گیا ہے، بھلا کیوں؟ کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ ایک آدمی نے اپنے ولیمہ پر پندرہ سو افراد کو دعوت دی اور مٹن اور چکن سمیت تین قسم کی ڈشیں تیار کروائیں اور تین چار دن شادی کا یہ سلسلہ جاری رہا، اس آدمی نے اپنے ایک انتہائی غریب اور معذور رشتہ دار سے پچیس ہزار روپے کا قرض لینا تھا، جونہی وہ شادی سے فارغ ہوا تو اس نے اس رشتہ دار کے گھر پہنچ کر اپنے قرض کا مطالبہ شروع کر دیا، اس بیچارے نے ضرورت کی گندم بیچ کر اور کچھ رقم ادھار پر لے کر اس کا قرض اتارا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر باراتوں اور ولیموں پر لاکھوں روپے لٹانا سنت ہے تو کسی محتاج رشتہ دار کو چند ہزار روپے معاف کیوں نہیں کیے جا سکتے یا اس کو چند ماہ کی مزید رخصت کیوں نہیں دی جاتی؟ کون سمجھے روحِ اسلام کو اور پھر کہاں سے لائے جواب؟ یہی معاملہ جہیز کا ہے، ایسی بے غیرتی رقص کناں ہے کہ لڑکے کی طرف سے باقاعدہ جہیز کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور اس طرح وہ شریعت کی نگاہ میں مذموم بھکاری بنتا ہے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ((فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ وَفِرَاشٌ لِامْرَأَتِہِ وَالثَّالِثُ لِلضَّیْفِ وَالرَّابِعُ لِلشَّیْطَانِ۔)) … ’’ایک بستر مرد کے لیے ہوتا ہے، ایک اس کی بیوی کے لیے، تیسرا مہمان کے لیے اور چوتھا شیطان کے لیے ہوتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم: ۳۸۸۶)
امام نووی نے کہا: علمائے اسلام کا نظر یہ ہے کہ ان احادیث کامفہوم یہ ہے کہ جب لوگ اس سلسلے حاجت اور ضرورت سے بڑھ کر کام کریں گے تو وہ مباہات،تکبر اور دنیوی زینت کے لیے ہو گا اور اس قسم کی چیزمذموم ہوتی ہے، جس کو شیطان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، کیونکہ وہی اس سے راضی ہوتا ہے، لوگوں کو اس قسم کے وسوسے ڈالتا ہے اور ان کو ان کی کاروائیاں خوبصورت بنا کر دکھاتا ہے۔ قارئین کرام! ذہن نشین کر لیں کہ دورِ حاضر کے پر تکلف جہیز، پر اہتمام باراتیں اور رسمیں اور بڑے بڑے ولیمے ایسی ایسی صورتیں اختیار کر چکے ہیں کہ ان کا مقصد نمود و نمائش اور فخر و مباہات کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور ان امور کی بنیاد سنت ِ رسول نہیں ہے، انتہائی کنجوس اور بخیل لوگوں کو ان موقعوں پر کھلے دل سے خرچ کرتے ہوئے پایا گیا ہے، بھلا کیوں؟ کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ ایک آدمی نے اپنے ولیمہ پر پندرہ سو افراد کو دعوت دی اور مٹن اور چکن سمیت تین قسم کی ڈشیں تیار کروائیں اور تین چار دن شادی کا یہ سلسلہ جاری رہا، اس آدمی نے اپنے ایک انتہائی غریب اور معذور رشتہ دار سے پچیس ہزار روپے کا قرض لینا تھا، جونہی وہ شادی سے فارغ ہوا تو اس نے اس رشتہ دار کے گھر پہنچ کر اپنے قرض کا مطالبہ شروع کر دیا، اس بیچارے نے ضرورت کی گندم بیچ کر اور کچھ رقم ادھار پر لے کر اس کا قرض اتارا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر باراتوں اور ولیموں پر لاکھوں روپے لٹانا سنت ہے تو کسی محتاج رشتہ دار کو چند ہزار روپے معاف کیوں نہیں کیے جا سکتے یا اس کو چند ماہ کی مزید رخصت کیوں نہیں دی جاتی؟ کون سمجھے روحِ اسلام کو اور پھر کہاں سے لائے جواب؟ یہی معاملہ جہیز کا ہے، ایسی بے غیرتی رقص کناں ہے کہ لڑکے کی طرف سے باقاعدہ جہیز کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور اس طرح وہ شریعت کی نگاہ میں مذموم بھکاری بنتا ہے۔