کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: جماع سے پہلے مہر کی کچھ ادائیگی کردینے اور اس کو چھوڑ دینے کا بیان اور اس شخص کی وعید کا بیان کہ جس نے بظاہر مہر کا تعین تو کیا، لیکن اس کا ارادہ ادائیگی کا نہ تھا
حدیث نمبر: 6936
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَرَدْتُ أَنْ أَخْطُبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ فَقُلْتُ مَا لِي مِنْ شَيْءٍ فَكَيْفَ ثُمَّ ذَكَرْتُ صِلَتَهُ وَعَائِدَتَهُ فَخَطَبْتُهَا إِلَيْهِ فَقَالَ هَلْ لَكَ مِنْ شَيْءٍ قُلْتُ لَا قَالَ فَأَيْنَ دِرْعُكَ الْحَطْمِيَّةُ الَّتِي أَعْطَيْتُكَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا قَالَ هِيَ عِنْدِي قَالَ فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے ارادہ کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی کے بارے میں پیغام بھیجوں، لیکن پھر میں نے سوچا کہ میرے پاس تو کوئی مال نہیں ہے، سو میں کیا کروں، پھر مجھے یاد آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صلہ رحمی کرتے ہیں اور بار بار ہمارے گھر آتے جاتے رہتے ہیں، پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ پیغام بھیج دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے پاس کوئی چیز ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ حطمی زرہ کہاں ہے، جو میں نے تجھے فلاں دن دی تھی؟ میں نے کہا: وہ میرے پاس ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی فاطمہ کو دے دو۔
وضاحت:
فوائد: … امام نسائی نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا ہے: ’’نِحْلَۃُ الْخَلْوَۃِ‘‘ (شب ِ زفاف کے موقع پر تحفہ دینے کا بیان)۔ امام نسائی کی تبویب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مذکورہ زرہ کو مہر سے الگ سمجھ رہے ہیں اور اسے رخصتی اور خلوت کا خصوص تحفہ قرار دیتے ہیں، جبکہ بہت سے اہل علم کی رائے یہ ہے کہ یہ مہر ہی ہے، جو نکاح کی بجائے رخصتی کے موقع پر دیا گیا۔ واللہ اعلم
حطمی زرہ کی وجۂ تسمیہ کے بارے میں دو اقوال ہیں: (۱) یہ ’’حطم‘‘ کی طرف منسوب ہے، جس کا معنی توڑنا ہے، کیونکہیہ زرہ تلواروں کو توڑ دیتی تھی،یعنی جو تلوار اس پر لگتی، وہ ٹوٹ جاتی،یا (۲) یہ عبد القیس کے ایک قبیلے حطمہ بن محارب کی طرف منسوب ہے، کیونکہ وہ لوگیہ تلواریں بناتے تھے۔
حطمی زرہ کی وجۂ تسمیہ کے بارے میں دو اقوال ہیں: (۱) یہ ’’حطم‘‘ کی طرف منسوب ہے، جس کا معنی توڑنا ہے، کیونکہیہ زرہ تلواروں کو توڑ دیتی تھی،یعنی جو تلوار اس پر لگتی، وہ ٹوٹ جاتی،یا (۲) یہ عبد القیس کے ایک قبیلے حطمہ بن محارب کی طرف منسوب ہے، کیونکہ وہ لوگیہ تلواریں بناتے تھے۔
حدیث نمبر: 6937
عَنْ صُهَيْبِ بْنِ سِنَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا رَجُلٍ أَصْدَقَ امْرَأَةً صَدَاقًا وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُرِيدُ أَدَاءَهُ إِلَيْهَا فَغَرَّهَا بِاللَّهِ وَاسْتَحَلَّ فَرْجَهَا بِالْبَاطِلِ لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ يَلْقَاهُ وَهُوَ سَارِقٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے عورت کے لیے حق مہر مقرر کیا اور اللہ تعالی یہ جانتا ہو کہ وہ اس کو ادا کرنے کا ارادہ ہی نہیں رکھتا، اس طرح وہ اللہ کے نام پر عورت کو دھوکا دیتا ہے اور اس کی شرم گاہ کو باطل طریقے سے حلال کر لیتا ہے، یہ آدمی جس دن اللہ تعالی سے ملاقات کرے گا، اس دن وہ چور شمار ہوگا۔
وضاحت:
فوائد: … امام البانی نے ابن ماجہ کی حدیث کو صحیح قرار دیا ہے، لیکن اس کے الفاظ یہ ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَیُّمَا رَجُلٍ یَدِینُ دَیْنًا وَہُوَ مُجْمِعٌ أَنْ لَا یُوَفِّیَہُ إِیَّاہُ لَقِیَ اللَّہَ سَارِقًا۔)) … ’’جس آدمی نے قرض لیا، جبکہ اس کا عزمیہ ہو کہ وہ اس کو ادا نہیں کرے گا تو وہ اللہ تعالی کو چور کی حیثیت سے ملے گا۔‘‘
مہر کے بغیر نکاح باطل ہوتا ہے، اس کی ادائیگی نہ کرنے کی نیت رکھنے والا آدمی بڑے خسارے میں ہو گا۔
مہر کے بغیر نکاح باطل ہوتا ہے، اس کی ادائیگی نہ کرنے کی نیت رکھنے والا آدمی بڑے خسارے میں ہو گا۔