کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے مہر کے تقرر کے بغیر شادی کر لی اور پھر حق زوجیت ادا کرنے سے پہلے فوت ہو گیا
حدیث نمبر: 6932
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ أُتِيَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَمَاتَ عَنْهَا وَلَمْ يُفْرِضْ لَهَا وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَسُئِلَ عَنْهَا شَهْرًا فَلَمْ يَقُلْ فِيهَا شَيْئًا ثُمَّ سَأَلُوهُ فَقَالَ أَقُولُ فِيهَا بِرَأْيِي فَإِنْ يَكُ خَطَأً فَمِنِّي وَمِنَ الشَّيْطَانِ وَإِنْ يَكُ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ وَلَهَا صَدَاقُ إِحْدَى نِسَائِهَا وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَشْجَعَ فَقَالَ أَشْهَدُ لَقَضَيْتَ فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بِرْوَعَ ابْنَةِ وَاشِقٍ قَالَ فَقَالَ هَلُمَّ شَاهِدَيْكَ فَشَهِدَ لَهُ الْجَرَّاحُ وَأَبُو سِنَانٍ رَجُلَانِ مِنْ أَشْجَعَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس یہ مسئلہ لایا گیا کہ ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی اور وہ فوت ہوگیا، نہ اس نے حق مہر مقرر کیا تھا اور نہ حق زوجیت ادا کیا تھا، ایک ماہ تک ان سے یہ سوال کیا جاتا رہا، لیکن انھوں نے اس کا کوئی جواب نہ دیا، بعد ازاں جب انہوں نے سوال کیا، تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اب میں اپنی رائے سے فیصلہ کرتاہے، اگر وہ خطا ہوا تو وہ میری طرف سے اور شیطان کی طرف سے ہو گا اور اگر وہ درست ہوا تو وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہوگا، اس عورت کو اس کی دوسری خواتین کی طرح حق مہر دیا جائے گا، اس کو میراث بھی ملے گی اور اس پر عدت بھی ہو گی۔ یہ فیصلہ سن کر بنو اشجع قبیلے کا ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے عبداللہ! تم نے جو فیصلہ دیا ہے، یہ بالکل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ فیصلہ ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بروع بنت واشق کے بارے میں کیاتھا، عبد اللہ کہنے لگے: اس پر گواہ لاؤ، اشجع قبیلے کے ہی دو افراد جراح اور ابو سنان نے اس کے ساتھ گواہی دی۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک ماہ تک اس مسئلہ پر غور کرتے رہے، اس میں اہل علم اور مفتی حضرات کے لیے بڑا اہم سبق ہے کہ ان کو نصوص میں غور و فکر کرنا چاہیے اور پیچیدہ مسائل میں فتوی دیتے وقت جلد بازی سے کام نہیں لیناچاہیے۔
حدیث نمبر: 6933
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ قَالَا أَتَى قَوْمٌ عَبْدَ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالُوا مَا تَرَى فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَشْجَعَ قَالَ مَنْصُورٌ أَرَاهُ سَلَمَةَ بْنَ يَزِيدَ فَقَالَ فِي مِثْلِ هَذَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنَّا امْرَأَةً مِنْ بَنِي رُؤَاسٍ يُقَالُ لَهَا بِرْوَعُ بِنْتُ وَاشِقٍ فَخَرَجَ مَخْرَجًا فَدَخَلَ فِي بِئْرٍ فَأَسِنَ فَمَاتَ وَلَمْ يُفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَمَهْرِ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) علقمہ اور اسود کہتے ہیں: کچھ لوگ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: اس آدمی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جس نے شادی کی، … پھر وہی حدیث ذکر کی … ، البتہ اس میں ہے : اشجع قبیلے کا سلمہ بن یزید نامی ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی قسم کے مسئلے کو یوں حل کیا تھا، ہمارے ایک آدمی نے بنو رؤاس کی بروع بنت واشق نامی خاتون سے شادی تھی، پھر وہ باہر نکلا، ایک کنویں میں داخل ہوا، وہاں اس کو غشی کا دورہ پڑا اور وہ فوت ہو گیا، جبکہ اس نے اپنی بیوی کے لیے مہر کا تعین بھی ابھی تک نہیں کیا تھا، وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پاس آئے اور یہ مسئلہ دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو اس خاتون کی دوسری رشتہ دار عورتوں کی طرح کا مہر دیا جائے گا، اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو گی، نیز اس کو میراث بھی ملے گی اور اس پرعدت بھی ہو گی۔
حدیث نمبر: 6934
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ عَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَتُوُفِّيَ عَنْهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا وَلَمْ يُسَمِّ صَدَاقًا فَسُئِلَ عَنْهَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهَا صَدَاقُ إِحْدَى نِسَائِهَا وَلَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ فَقَامَ أَبُو سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ فِي رَهْطٍ مِنْ أَشْجَعَ فَقَالُوا نَشْهَدُ لَقَدْ قَضَيْتَ فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند)علقمہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی اورحق زوجیت کے ادا کرنے اور مہر کا تعین کرنے سے پہلے فوت ہو گیا، جب سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا:اس خاتون کو مہر مثل دیا جائے گا، اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کی جائے گی، نیزیہ عورت عدت بھی گزارے گی، سیدناابو سنان اشجعی اپنے قبیلے کے ایک گروہ سمیت کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ تم نے وہی فیصلہ کیا ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بروع بنت واشق کے بارے میں کیا تھا۔
حدیث نمبر: 6935
وَمِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيهِ فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِهِ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (چوتھی سند) مسروق کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے … پھر وہی حدیث ذکر کی … البتہ اس میں ہے: پس سیدنا معقل بن سنان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بروع بنت واشق کے بارے میں یہی فیصلہ کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … مہر مقرر کرنے کے بغیر نکاح ہو سکتا ہے، مگر مہر کی نفی نہ کی جائے، اگر مہر کی نفی کی جائے گی تو نکاح باطل ہو گا، مہر کی نفی نہ ہو مگر مقرر نہ کیا گیا ہو تو بعد میں جس پر بھی اتفاق ہو جائے، وہی مہر ہو گا اور اگر اتفاق نہ ہو تو اس عورت کی ذاتی اور خاندانی حیثیت کو مد نظر رکھتے ہوئے مہر مقرر کیا جائے گا، مثلا: اس کی بہنوں یا پھوپھیوںیا اسی جیسی دوسری عورتوں کا عمومی مہر۔ اس کو مہرِ مثل کہا جاتا ہے۔ سنن ابو داود کی روایت میںیہ وضاحت بھی ہے کہ جب لوگوں نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے کے حق میںیہ شہادت دیتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ بروع رضی اللہ عنہا اور ان کے خاوند سیدنا ہلال بن مرہ اشجعی رضی اللہ عنہ کے بارے میںیہی فیصلہ کیا تھا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ یہ بات سن کر بہت زیادہ خوش ہوئے کہ ان کا اجتہادی فیصلہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے موافق ہو گیا ہے۔