کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: آزادی کو اور قرآن مجید کے بعض حصے کی تعلیم کو مہر بنانے کا بیان
حدیث نمبر: 6929
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ صفیہ بنت حیی کو آزاد کیا او ر ان کی آزادی کوہی ان کا حق مہر مقرر کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ رمضان ۷ ھ کا واقعہ ہے، یہ غزوہ بنو مصطلق میں قید ہو کر آئیں۔ حیییہودی کی بیٹی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غلامی سے آزاد کر دیا اور اسی آزادی کو حق مہر قرار دیتے ہوئے ان سے نکاح کر لیا اور اس طرح سیدہ صفیہ ام المومنین بن گئیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6929
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5086، ومسلم: ص 1045، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13506 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13540»
حدیث نمبر: 6930
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ فَقَامَتْ قِيَامًا طَوِيلًا فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ فَقَالَ مَا عِنْدِي إِلَّا إِزَارِي هَذَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنْ أَعْطَيْتَهَا إِزَارَكَ جَلَسْتَ لَا إِزَارَ لَكَ فَالْتَمِسْ شَيْئًا فَقَالَ مَا أَجِدُ شَيْئًا فَقَالَ الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ فَالْتَمَسَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ قَالَ نَعَمْ سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا لِسُوَرٍ يُسَمِّيهَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ زَوَّجْتُكُمَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ وَفِي لَفْظٍ فَقَدْ أَمْلَكْتُهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ قَالَ فَرَأَيْتُهُ يَمْضِي وَهِيَ تَتْبَعُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے نفس کو آپ کے لیے ہبہ کرتی ہوں، پھر وہ کافی دیر تک کھڑی رہی، اتنے میں ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ کو اس کی ضرورت نہیں تو میرے ساتھ اس کی شادی کردیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے پاس اس کو حق مہر دینے کے لئے کوئی چیز ہے؟ اس نے کہا: میرے پاس تو یہ تہہ بند ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ تہہ بند تو اسے دے دے گا تو تو خود بغیر تہبند کے رہ جائے گا، جا کوئی اور چیز تلاش کر کے لا۔ اس نے کہا: میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تلاش تو کر، اگر چہ لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو۔ اس نے تلاش کی، مگر وہ کوئی چیز نہ پا سکا، بالآخرنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تجھے قرآن کا کوئی حصہ یاد ہے؟ اس نے کہا : جی فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں، اس نے ان سورتوں کے نام بھی لئے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: جو قرآن مجید تجھے یاد ہے، میں نے اس کے عوض تیری اس خاتون سے شادی کر دی ہے۔ ایک روایت میں ہے: قرآن مجید کا جو حصہ تجھے یاد ہے، میں نے اس کے عوض تجھے اس خاتون کا مالک بنا دیا ہے۔ پھر میں نے اس آدمی کو دیکھا، وہ جا رہا تھا اور اس کی بیوی اس کے پیچھے چل رہی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6930
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2310، 5135، ومسلم: 1425 ،وابوداود!: 2111، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22850 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23238»
حدیث نمبر: 6931
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ رَجُلًا مِنْ صَحَابَتِهِ فَقَالَ أَيَ فُلَانُ هَلْ تَزَوَّجْتَ قَالَ لَا وَلَيْسَ عِنْدِي مَا أَتَزَوَّجُ بِهِ قَالَ أَلَيْسَ مَعَكَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص 1] قَالَ بَلَى قَالَ رُبُعُ الْقُرْآنِ قَالَ أَلَيْسَ مَعَكَ {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} [الكافرون 1] قَالَ بَلَى قَالَ رُبُعُ الْقُرْآنِ قَالَ أَلَيْسَ مَعَكَ {إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ} [الزلزلة 1] قَالَ بَلَى قَالَ رُبُعُ الْقُرْآنِ قَالَ أَلَيْسَ مَعَكَ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ} [النصر 1] قَالَ بَلَى قَالَ رُبُعُ الْقُرْآنِ قَالَ أَلَيْسَ مَعَكَ آيَةُ الْكُرْسِيِّ {اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ} [البقرة 255] قَالَ بَلَى قَالَ رُبُعُ الْقُرْآنِ قَالَ تَزَوَّجْ تَزَوَّجْ تَزَوَّجْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے ایک آدمی سے سوال کیا: اے فلاں! کیا تو شادی شدہ ہے۔ اس نے کہا: جی نہیں، میرے پاس شادی کے لئے مالی گنجائش نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے سورۂ اخلاص یاد ہے؟ اس نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک چوتھائی قرآن ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے سورۂ کافرون یاد ہے؟ اس نے کہا: جی بالکل، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک چوتھائی قرآن ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے سورہ زلزال یاد ہے؟ اس نے کہا: جی یاد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک چوتھائی قرآن ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے سورۂ نصر یاد ہے؟ اس نے کہا: جی یاد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک چوتھائی قرآن ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے آیۃ الکرسی یاد ہے؟ اس نے کہا: جی بالکل، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک چوتھائی قرآن ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر شادی کرلے، شادی کرلے، شادی کر لے۔ تین مرتبہ اس بات کو دوہرایا۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {وَاِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّکَانَ زَوْجٍ وَّاٰتَیْتُمْ اِحْدٰھُنَّ قِنْطَارًا فَلاَ تَاْخُذُوْا مِنْہُ شَیْئًا} … ’’اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی کرنا ہی چاہو اور ان میں کسی کو تم نے خزانہ کا خزانہ دے رکھا ہو تو بھی اس میں سے کچھ نہ لو۔‘‘ (سورۂ نسائ: ۲۰) یہاں خزانہ سے مراد حق مہر ہے۔
مذکورہ بالا دو ابواب کی احادیث اور اس موضوع سے متعلقہ دیگر دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ مہر کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ کوئی مقدار متعین نہیں ہے۔ پانچ درہم، ایک تہبند اور لوہے کی انگوٹھی تک کا ذکر ہو چکا ہے، دراصل یہ عورت کا حق ہے اور وہ جس حق پر راضی ہو جائے، وہ اس کا مہر قرار پائے گا۔
احناف نے مہر کے لیے کم از کم دس درہم یا اس کے برابر قیمت کی چیز کی قید لگائی ہے اور یہ روایت بطورِ دلیل پیش کی ہے: ((لَا مَھْرَ اَقَلُّ مِنْ عَشْرَۃِ دَرَاھِمَ۔)) … ’’دس درہموں سے کم کوئی مہر نہیں ہے۔‘‘ (دارقطنی: ۳/ ۲۴۴، بیہقی: ۷/ ۱۳۳) لیکنیہ روایت ضعیف ہے، اس کی سند میں دو راویوں پر اعتراض ہے، ایک حجاج بن ارطاۃ جو مدلس ہے اور دوسرا مبشر بن عبید جو کہ متروک ہے، نیزاس کے مقابلے میں ایسی صحیح احادیث اوپر گزر چکی ہے، جو دس درہم سے کم مہر پر دلالت کرتی ہیں۔
البتہیہ قید ضرور ہے کہ مہر کے سلسلے میں غلوّ سے بچنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6931
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف سلمة بن وردان، أخرجه الترمذي: 2895، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13309 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13342»