کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: مہر کی قلیل اور کثیر مقدار پر شادی کرنے کے جواز اور معتدل چیز کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6919
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ صَدَاقُنَا إِذَا كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ أَوَاقٍ وَطَبَّقَ بِيَدَيْهِ وَذَلِكَ أَرْبَعُ مِائَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے اندر موجود تھے تو ہمارا حق مہر دس اوقیہ ہوتا تھا،پھر انہوں نے اپنی انگلیوں میں تطبیق دی اور کہا: یہ کل چار سو درہم بن جاتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … دس کے عدد کی وضاحت کرنے کے لیے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے اشارہ کیا۔
حدیث نمبر: 6920
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَزَوَّجَ عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ فَكَانَ الْحَكَمُ يَأْخُذُ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک نواۃ کے وزن کے برابر سونے پر شادی کی،حکم اسی کو لیتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … مشہور قول اور اکثر اہل علم کی رائے کے مطابق ’’نواۃ‘‘ سے مراد سونے کا وہ سکہ ہے، جس کی قیمت پانچ درہم چاندی تھی، اس رائے کی تائید سنن بیہقی کی روایت کے ان الفاظ سے ہوتی ہے: ’’وَزْنِ نَوَاۃٍ مِنْ ذَھَبٍ قُوِّمَتْ خَمْسَۃَ دَرَاھِمَ۔‘‘ … نواۃ کے وزن کے برابر سونے کے عوض، جس کی قیمت پانچ درہم تھی۔
حدیث نمبر: 6921
عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَثَرَ صُفْرَةٍ فَقَالَ مَا هَذَا قَالَ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پر زردی کا نشان دیکھا اور پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ایک عورت سے نواۃ کے وزن کے برابر سونے پر شادی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ پر برکت نازل کرے، ولیمہ کر، اگرچہ ایک بکری کا ہی ہو۔
وضاحت:
فوائد: … امام نووی نے کہا: صحیح بات یہ ہے کہ یہ زعفران وغیرہ کا زرد رنگ دلہن کی خوشبو ہے اور اسی سے یہ رنگ سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کو لگ گیا تھا، نہ کہ انھوں نے بارادہ یہ کام کیا تھا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو زعفران سے منع فرمایا ہے، اسی طرح مردوں کو خلوق خوشبو سے بھی منع کیا گیا ہے، کیونکہ وہ بھی عورتوں کی خوشبو ہے۔
نسائی (۳۳۷۵)کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رنگ کے بارے میں ان الفاظ میں سوال کیا: ’’مَھْیَمْ؟‘‘ (یہ کیسے)۔ اور آگے سے سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کا جواب دینا کہ انھوں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کی ہے۔
ان الفاظ سے یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سوال کرنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو اس رنگ سے منع کر رکھا تھا اور سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کے جواب سے پتہ چلتا ہے کہ ان کو اپنی بیوی سے یہ رنگ لگ گیا تھا۔
اس لیے اس حدیث سے مردوں کے لیے اس رنگ دار خوشبو کے جواز کا استدلال کشیدنہیں کرنا چاہیے۔
نسائی (۳۳۷۵)کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رنگ کے بارے میں ان الفاظ میں سوال کیا: ’’مَھْیَمْ؟‘‘ (یہ کیسے)۔ اور آگے سے سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کا جواب دینا کہ انھوں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کی ہے۔
ان الفاظ سے یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سوال کرنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو اس رنگ سے منع کر رکھا تھا اور سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کے جواب سے پتہ چلتا ہے کہ ان کو اپنی بیوی سے یہ رنگ لگ گیا تھا۔
اس لیے اس حدیث سے مردوں کے لیے اس رنگ دار خوشبو کے جواز کا استدلال کشیدنہیں کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 6922
عَنْ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِيهِ فِي امْرَأَةٍ فَقَالَ كَمْ أَمْهَرْتَهَا قَالَ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ فَقَالَ لَوْ كُنْتُمْ تَغْرِفُونَ مِنْ بَطْحَانَ مَا زِدْتُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور ایک عورت کے بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے اس کا کتنا حق مہر مقرر کیا ہے؟ انھوں نے کہا : دو سو درہم، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم مدینہ کی بطحان وادی سے چلوؤں سے چاندی بھرو تو پھر بھی اس مقدار سے زیادہ نہ کرو۔
حدیث نمبر: 6923
عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أَلَا لَا تُغْلُوا صُدُقَ النِّسَاءِ فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا أَوْ تَقْوَى فِي الْآخِرَةِ لَكَانَ أَوْلَاكُمْ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَنْكَحَ شَيْئًا مِنْ بَنَاتِهِ وَلَا نِسَائِهِ فَوْقَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَأُخْرَى تَقُولُونَهَا فِي مَغَازِيكُمْ قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدًا مَاتَ فُلَانٌ شَهِيدًا وَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَوْقَرَ عَجُزَ دَابَّتِهِ أَوْ دَفَّ رَاحِلَتَهُ ذَهَبًا وَفِضَّةً يَبْتَغِي التِّجَارَةَ فَلَا تَقُولُوا ذَاكُمْ وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو العجفاء سلمی کہتے ہیں:سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: عورتوں کے مہر میں غلوّ نہ کرو، کیونکہ اگر یہ چیز دنیا میں کوئی عزت اور آخرت میں تقویٰ کا باعث ہوتی تو تم میں اس کے سب سے زیادہ مستحق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو اپنی بیٹیوں اور بیویوں کا نکاح بارہ اوقیوں سے زیادہ میں نہیں کیا، ایک اور بات بھی ہے، تم اپنے غزووں کے بارے میں کہتے ہو کہ فلاں شہید ہو گیا ہے، فلاں نے شہادت پائی ہے، اس میں بھی احتیاط برتو، ہو سکتا ہے اس نے اپنے جانور کی پشت یا اس کے پالان کا کنارہ سونے اور چاندی کی طلب میں اور تجارت میں بوجھل کیا ہو، اس لئے اس طرح نہ کہا کرو کہ فلاں شہید ہو گیا، بلکہ اس طرح کہا کرو جس طرح محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ جو اللہ کے راستے میں شہید ہو گیا، وہ جنتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … بارہ اوقیے، چارسو اسی درہم بنتے ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو چار ہزار درہم بطور حق مہر دیا گیا تھا، لیکن وہ نجاشی نے دیا تھا، نہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ حدیث نمبر (۶۹۲۷) میں سیدہ عائشہ نے ساڑھے بارہ اوقیے مہر بیان کیا ہے، ممکن ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کسر کا ذکر نہ کیا ہے۔
امہات المؤمنین کے حق مہر کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ان اقوال کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر بیویوں پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ سیدہ خدیجہ، سیدہ جویریہ اور سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہن کا حق مہر بارہ اوقیے نہیں تھا۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے آخری حصے کا مفہوم یہ ہے کہ ممکن ہے کہ ایک آدمی بظاہر جہادی قافلے کے ساتھ جا رہا ہے، لیکن اس کا ارادہ تجارت کا ہو اور اس نے باقاعدہ اپنی سواریوں پر اسی نیت سے کچھ سامان بھی لادا ہوا ہو، اس لیے ہر ایک کو فوراً شہید کہہ دینے میں احتیاط برتنی چاہیے۔
امہات المؤمنین کے حق مہر کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ان اقوال کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر بیویوں پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ سیدہ خدیجہ، سیدہ جویریہ اور سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہن کا حق مہر بارہ اوقیے نہیں تھا۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے آخری حصے کا مفہوم یہ ہے کہ ممکن ہے کہ ایک آدمی بظاہر جہادی قافلے کے ساتھ جا رہا ہے، لیکن اس کا ارادہ تجارت کا ہو اور اس نے باقاعدہ اپنی سواریوں پر اسی نیت سے کچھ سامان بھی لادا ہوا ہو، اس لیے ہر ایک کو فوراً شہید کہہ دینے میں احتیاط برتنی چاہیے۔
حدیث نمبر: 6924
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى نَعْلَيْنِ فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نِكَاحَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو فزارہ کے ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی اور جوتوں کا ایک جوڑا مہر میں دیا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے نکاح کو جائز قرار دیا۔
حدیث نمبر: 6925
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنْ يُمْنِ الْمَرْأَةِ تَيْسِيرُ خِطْبَتِهَا وَتَيْسِيرُ صَدَاقِهَا وَتَيْسِيرُ رَحِمِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت کی برکت میں سے یہ (بھی) ہے کہ اس کی منگنی آسان ہو، اس کا مہر آسان ہو اور اس کا رحم آسانی والا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث نمبر (۶۸۵۲) میں اس حدیث کی وضاحت ہو چکی ہے۔
حدیث نمبر: 6926
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَعْطَى امْرَأَةً صَدَاقًا مِلْءَ يَدَيْهِ طَعَامًا كَانَتْ لَهُ حَلَالًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی آدمی خاتون کو لپ بھر اناج بطور حق مہر ادا کردے، تو وہ اس کے لئے حلال ہو جائے گی۔
حدیث نمبر: 6927
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَمْ كَانَ صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشًّا قَالَتْ أَتَدْرِي مَا النَّشُّ قُلْتُ لَا قَالَتْ نِصْفُ أُوقِيَّةٍ فَتِلْكَ خَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَهَذَا صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتنامہر دیتے تھے، انھوں نے کہا:آپ کی بیویوں کا مہر ساڑھے بارہ اوقیے تھا۔پھر انھوں نے کہا: تجھے نَشّ کا پتہ ہے؟ میں نے کہا: نہیں، انھوں نے کہا: اس سے مراد نصف اوقیہ ہے، یہ ساڑھے بارہ اوقیے کل پانچ سو درہم بنتے ہیں،یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کا حق مہر تھا۔
حدیث نمبر: 6928
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ وَكَانَ أَتَى النَّجَاشِيَّ فَمَاتَ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ أُمَّ حَبِيبَةَ وَإِنَّهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ زَوَّجَهَا إِيَّاهُ النَّجَاشِيُّ وَأَمْهَرَهَا أَرْبَعَةَ آلَافٍ ثُمَّ جَهَّزَهَا مِنْ عِنْدِهِ وَبَعَثَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَ شَرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ وَجِهَازُهَا كُلُّهُ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ وَلَمْ يُرْسِلْ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ وَكَانَ مُهُورُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ مِائَةِ دِرْهَمٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ، عبیداللہ بن حجش کے عقد میں تھیں،جب وہ نجاشی کے پاس آیا تو وہاں فوت ہو گیا،بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہاسے شادی کرلی، جبکہ وہ ابھی تک حبشہ کی سرزمین میں تھیں، نجاشی نے وکیل بن کر ان کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی کی اور ان کا حق مہر چار ہزار درہم ادا کیا، پھر اس نے اپنے پا س سے سیدہ کو تیارکیا اور ان کو سیدنا شرحبیل بن حسنہ کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیج دیا، ان کی ساری تیاری نجاشی کی طرف سے تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف کوئی چیز نہیں بھیجی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دیگر بیویوں کا مہر چار سو درہم تھا۔
وضاحت:
فوائد: … حق مہر کی مقدار کیا ہونی چاہیے؟ اگلے باب کے آخر میں وضاحت کی گئی ہے۔