حدیث نمبر: 6915
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ يُوفَى بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ شرطیں، جو پورا ہو نے کا سب سے زیادہ حق رکھتی ہیں، وہ وہ ہیں، جن کے ذریعے تم شرمگاہوں کو حلال کرتے ہو۔
وضاحت:
فوائد: … قاضی عیاض نے کہا: اس شرط سے مراد حق مہر ہے، کیونکہ اسی کے ذریعے شرمگاہ کو حلال سمجھا جاتا ہے۔ نان نفقہ اور رہائش کی شرط لگانے کی کوئی ضرورت نہیں، لیکن شریعت نے خاوند کو ان امور کا ذمہ دار ٹھہرا دیا ہے۔
(مسند احمد: ۸۰۸۶)
(مسند احمد: ۸۰۸۶)
حدیث نمبر: 6916
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَشْتَرِطُ امْرَأَةٌ طَلَاقَ أُخْتِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کی شرط نہ لگائے۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی اگر کوئی خاوند ایک سے زائد شادیاں کرنا چاہے تو بننے والی نئی بیوییہ شرط نہ لگائے کہ وہ پہلے سے موجود بیوی کو طلاق دے دے۔
حدیث نمبر: 6917
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ بِطَلَاقِ أُخْرَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ حلال نہیں ہے کہ ایک عورت کو طلاق دے کر دوسری عورت سے شادی کی جائے۔
حدیث نمبر: 6918
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ مَرْدُودٌ وَإِنِ اشْتَرَطُوا مِائَةَ مَرَّةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر شرط جو کتاب اللہ میں نہیں ہے، وہ مردود ہے، اگرچہ لوگ ایسی سو شرطیں لگا لیں۔
وضاحت:
فوائد: … کتاب اللہ میں نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ شرط کتاب و سنت کے مخالف ہو، یعنی اس شرط کی وجہ سے وہ چیز ممنوع نہ قرار پاتی ہو، جو شریعت میں جائز ہو یا وہ چیز جائز نہ قرار پاتی ہو، جس کو شریعت نے حرام قرار دیا ہو۔ مثال کے طور نکاح کے وقت عورت کے اولیاء کی طرف سے یہ شرط لگانا کہ اگر خاوند نے اس خاتون کو طلاق دی تو ساتھ اتنی رقم ادا کرنا پڑے گییا ماہانہ اتنا خرچ دینا پڑے گا، یہ شرط حرام ہے، کیونکہ شریعت خاوند کو طلاق دینے کا جو حق دیا ہے، اس شرط کے ذریعے اس پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔