کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نکاح کے خطبہ کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6908
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَلَّمَنَا خُطْبَةَ الْحَاجَةِ، اَلْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ يَقْرَأُ ثَلَاثَ آيَاتٍ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ۔ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا} ثُمَّ تَذْكُرُ حَاجَتَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبۂ حاجت کی تعلیم دی، اور وہ خطبہ یہ تھا: تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں، ہم اس سے مدد طلب کرتے ہیں، ہم اس سے بخشش مانگتے ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں اپنی جانوں کے شرور سے، اللہ تعالیٰ جس کو ہدایت دے دے، اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ہے اور وہ جسے گمراہ کردے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے،میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان تین آیات کی تلاوت کرتے تھے: {یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْ اتَّقُوْا اللّٰہَ حَقَّ تُقَاتِہِ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ۔ یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَنِسَائً، وَاتَّقُوْا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَائَ لُوْنَ بِہِ وَالْأَرْحَامَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا۔ یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ وَقُوْلُوْا قُوْلًا سَدِیْدًایُصْلِحْ لَکُمْ أَعْمَالَکُمْ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا} ایماندارو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں ہرگز موت نہ آئے، مگر اسلام کی حالت میں۔ (سورۂ آل عمران:۱۰۲) اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، جس نے تمہیں پیدا کیا ایک جان سے اور پیدا کیا اس سے اس کی بیوی کو اور پھیلا دیئے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں۔ تم ڈرو اس اللہ سے جس کے ساتھ تم آپس میں سوال کرتے ہو اور رشتہ داریوں کو توڑنے سے بچو، بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہیں۔ (سورۂ نساء: ۱) اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور کہو بات سیدھی وہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے، وہ بڑی کامیابی کو پا لیتا ہے۔ (سورۂ احزاب: ۷۰)پھر تم اپنی حاجت و ضرورت کا ذکر کرو۔
وضاحت:
فوائد: … نکاح کرنے سے پہلے نکاح خواں کو چاہیے کہ وہ یہ خطبہ پڑھے اور ان تین آیات کا مختصر سا مفہوم بیان کر دے۔
ہمارے ہاں عید، نکاح، شادی اور خوشی کی دوسری تقریبات کو محض لطف اندوزی، تفریحِ طبع اور ہنسی مذاق کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایسے موقعوں پر شرعی حدود کا خیال نہ رکھنا، بے پردگی اور مرد و زن کا شدید اختلاط،بینڈ باجے بجانا، ناچنا، عریانی و فحاشی والے گانے گانا اور ایسے گندے کلام کو لاؤڈ سپیکروں میں پیش کرنا، مردوں کا سونے کا زیور پہننا، پٹاخے چلانا وغیرہ وغیرہ۔ ان امور کو شرارتی لڑکوں اور لڑکیوں کا حق سمجھا جاتا ہے۔
لیکن شریعت کا مزاج کچھ اور ہے، جیسے عیدین جیسی عظیم خوشی کا آغاز مخصوص نماز اور خطبے سے ہوتا ہے، اسی طرح شادی کے موقع پر نکاح سے پہلے مذکورہ بالا خطبہ پڑھ کر تقوی اور اللہ کے خوف کا درس دیا جاتا ہے اور پھر خوشی کے موقعوں کے لیے شریعت نے خوشی کے طریقوں کیبھی وضاحت کر دی ہے، ان ہی تک محدود رہناچاہیے۔
لیکنیہ خطبہ نکاح کے لیے شرط نہیں ہے، اس کے بغیر بھی نکاح درست ہو گا، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس خطبہ کے بغیر نکاح پڑھایا ہے، بہرحال ہر ممکن حد تک اس کا اہتمام ہونا چاہیے، اگر جلدی ہو یا کوئی اور مجبوری ہو تو اس کے بغیر بھی نکاح پڑھایا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6908
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 2118، والترمذي: 1105، وابن ماجه: 1892، والنسائي: 6/ 89، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3720 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3720»
حدیث نمبر: 6909
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُطْبَتَيْنِ خُطْبَةَ الْحَاجَةِ وَخُطْبَةَ الصَّلَاةِ، اَلْحَمْدُ لِلَّهِ أَوْ إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دو قسم کے خطبات سکھائے، ایک خطبۂ حاجت اور دوسرا خطبۂ نماز،خطبۂ حاجت یہ ہیں: بیشک ساری تعریف اللہ تعالی کے لیے ہے، ہم اس سے مدد طلب کرتے ہیں، … … ۔ پھر مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت ذکر کی۔
وضاحت:
فوائد: … خطبۂ نماز سے مراد نماز میں پڑھا جانے والا تشہد ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6909
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3721»
حدیث نمبر: 6910
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَلَّمَ رَجُلًا فِي شَيْءٍ فَقَالَ: ((اَلْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ، وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے کسی چیز کے بارے میں بات کی تو فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نَحْمَدُہُ، وَنَسْتَعِیْنُہُ، مَنْ یَّہْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہُ، وَمَنْ یُضْلِلْ فَلَا ھَادِیَ لَہُ وَأَشْھَدُ أَّنْ لَّا إِلٰہُ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔ پھر اپنی بات پیش کی۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم میں مفصل حدیثیوں بیان کی گئی ہے: سیدنا عبد اللہ بن عباس d کہتے ہیں: أَنَّ ضِمَادًا قَدِمَ مَکَّۃَ وَکَانَ مِنْ أَزْدِ شَنُوئَ ۃً وَکَانَ یَرْقِی مِنْ ہٰذِہِ الرِّیحِ فَسَمِعَ سُفَہَائَ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ،یَقُولُونَ إِنَّ مُحَمَّدًا مَجْنُونٌ فَقَالَ: لَوْ أَنِّی رَأَیْتُ ہٰذَا الرَّجُلَ لَعَلَّ اللّٰہَ یَشْفِیہِ عَلٰییَدَیَّ، قَالَ فَلَقِیَہُ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! إِنِّی أَرْقِی مِنْ ہٰذِہِ الرِّیحِ وَإِنَّ اللّٰہَ یَشْفِی عَلٰییَدِی مَنْ شَاء َ فَہَلْ لَکَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَحْمَدُہُ وَنَسْتَعِینُہُ مَنْ یَہْدِہِ اللّٰہُ فَـلَا مُضِلَّ لَہُ وَمَنْ یُضْلِلْ فَـلَا ہَادِیَ لَہُ وَأَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ أَمَّا بَعْدُ۔)) قَالَ فَقَالَ: أَعِدْ عَلَیَّ کَلِمَاتِکَ ہٰؤُلَائِ۔ فَأَعَادَہُنَّ عَلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہِV ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ فَقَالَ لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْکَہَنَۃِ وَقَوْلَ السَّحَرَۃِ وَقَوْلَ الشُّعَرَاء ِ فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ کَلِمَاتِکَ ہٰؤُلَاء ِ وَلَقَدْ بَلَغْنَ نَاعُوسَ الْبَحْرِ، قَالَ فَقَالَ: ہَاتِ یَدَکَ أُبَایِعْکَ عَلَی الْإِسْلَامِ، قَالَ فَبَایَعَہُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((وَعَلَی قَوْمِکَ۔)) قَالَ وَعَلَی قَوْمِی قَالَ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّہِV سَرِیَّۃً فَمَرُّوا بِقَوْمِہِ فَقَالَ صَاحِبُ السَّرِیَّۃِ لِلْجَیْشِ: ہَلْ أَصَبْتُمْ مِنْ ہَؤُلَاء ِ شَیْئًا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَصَبْتُ مِنْہُمْ مِطْہَرَۃً فَقَالَ رُدُّوہَا فَإِنَّ ہَؤُلَاء ِ قَوْمُ ضِمَادٍ۔ … ضماد مکہ مکرمہ آیا،یہ قبیلہ ازد شنوء ۃسے تعلق رکھتا تھا، یہ آدمی جنون اور جنوں کے اثر سے دم کرتا تھا، جب اس نے مکہ کے بیوقوف لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) مجنون اور پاگل ہو گیا ہے تو اس نے کہا: اگر میں اس آدمی کو دیکھ لوں،ممکن ہے کہ اللہ تعالی اس کو میرے ہاتھ پر شفا دے دے، پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا اور کہا: میں جنون اور جنوں کے اثر کا دم کرتا ہوں، اللہ تعالی جس کو چاہتا ہے، میرے ہاتھ پر شفا دیتا ہے، کیا آپ کو اس کی رغبت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً یہ خطبہ پڑھا: ’’إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَحْمَدُہُ وَنَسْتَعِینُہُ مَنْ یَہْدِہِ اللّٰہُ فَـلَا مُضِلَّ لَہُ وَمَنْ یُضْلِلْ فَـلَا ہَادِیَ لَہُ وَأَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ أَمَّا بَعْدُ۔‘‘ اس نے کہا: حضور! یہ کلمات دوبارہ دوہرانا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہ کلمات دوہرائے، پھر اس نے کہا: میں نے کاہنوں کا کلام، جادو گروں کی باتیں اور شعراء کے اشعار سنے ہیں، لیکن اس قسم کا کلام میں نے نہیں سنا، یہ کلمات تو سمندر کے وسط یا گہرائی تک پہنچ گئے ہیں، پھر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اپنا ہاتھ آگے بڑھائیں، میں اسلام پر آپ کی بیعت کرتا ہوں، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیعت لے لی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اور تیری قوم۔‘‘ اس نے کہا: جی میری قوم بھی۔ بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جہادی لشکر روانہ کیا، جب وہ اس قوم کے پاس سے گزرے تو امیرِ لشکر نے مجاہدین سے کہا: کیا تم نے ان لوگوں کی تو کوئی چیز نہیں لی؟ ایک بندے نے کہا: جی میں نے طہارت والا ایک برتن لیا ہے، اس نے کہا: واپس کر دو، یہ سیدنا ضماد رضی اللہ عنہ کی قوم ہے۔
ہم نے ’’ناعوس البحر‘‘ کی بجائے ’’قَامُوْسَ الْبَحْر‘‘ کے معانی لکھے ہیں،کیونکہ اس روایت میںیہی الفاظ مشہور ہیں، ملاحظہ ہو، شرح مسلم نووی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6910
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 868، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3275 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3275»
حدیث نمبر: 6911
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْخُطْبَةُ الَّتِي وَفِي لَفْظٍ كُلُّ خُطْبَةٍ لَيْسَ فِيهَا شَهَادَةٌ كَالْيَدِ الْجَذْمَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ خطبہ جس میں شہادت نہ ہو، وہ کٹے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے ۔
وضاحت:
فوائد: … شہادت سے مراد ’’أَشْھَدُ أَّنْ لَّا إِلٰہُ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ‘‘ ہے۔
جیسے کٹے ہوئے ہاتھ کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، اسی طرح وہ خطبہ بھی خطیب کے لیے مفید نہیں ہوتا، جس میں توحید و رسالت کی شہادت نہ ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6911
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، أخرجه ابوداود: 4841، والترمذي: 1106 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8518 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8499»
حدیث نمبر: 6912
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَّأَ الْإِنْسَانَ إِذَا تَزَوَّجَ قَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ جب کسی کی شادی ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو ان الفاظ کے ساتھ مبارک دیتے: بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ وَبَارَکَ عَلَیْکَ وَجَمَعَ بَیْنَکُمَا فِیْ خَیْرٍ (اللہ تعالی تیرے لیے اور تجھ پر برکت نازل کرے اور تم دونوں کو خیر و بھلائی میں اکٹھا کر دے۔)
وضاحت:
فوائد: … ہمارے ہاں ہر خوشی پر یہ الفاظ کہے جاتے ہیں: مبارک ہو۔ یہ لفظ مُبارَک ہے، مُبارِک نہیں ہے۔ اگرچہ ان الفاظ کے معانییہی ہیں کہ یہ خوشی تمہارے لیے باعث ِ برکت ثابت ہو، لیکن اب ان لفظوں کو معانی کا لحاظ رکھے بغیر محض لفظ کی حد تک استعمال کیا جاتا ہے، لہذا زیادہ لائق یہی ہے کہ وہی الفاظ دوہرائے جائیں، جن کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان موقعوں پر تعلیم دی ہے، نیز درج ذیل حدیث پر غور کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6912
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، أخرجه ابوداود: 2130، والترمذي: 1091 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8957 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8944»
حدیث نمبر: 6913
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ قَالَ تَزَوَّجَ عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَخَرَجَ عَلَيْنَا فَقُلْنَا بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينَ فَقَالَ مَهْ لَا تَقُولُوا ذَلِكَ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَانَا عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ قُولُوا بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ وَبَارَكَ لَكَ فِيهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد اللہ بن محمد بن عقیل سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے شادی کی، جب وہ ہمارے پاس آئے تو ہم نے کہا: اتفاق و اتحاد ہو اور بیٹے ملیں، انھوں نے کہا: رک جاؤ، اس طرح نہ کہو، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: اس طرح کہا کرو بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ وَبَارَکَ لَکَ فِیْہَا (اللہ تعالی تجھ میں برکت کرے اور تیرے لیے اس خاتون میں برکت کرے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6913
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 1906، والنسائي: 6/ 128 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15740 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15832»
حدیث نمبر: 6914
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عَقِيلَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي جُشَمٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ الْقَوْمُ فَقَالُوا بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينَ فَقَالَ لَا تَفْعَلُوا ذَلِكَ قَالُوا فَمَا نَقُولُ يَا أَبَا يَزِيدَ قَالَ قُولُوا بَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ وَبَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ وَبَارَكَ عَلَيْكُمْ إِنَّا كَذَلِكَ كُنَّا نُؤْمَرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بنو جشم قبیلے کی ایک خاتون سے شادی کی، جب لوگ ان کے پاس گئے تو انھوں نے کہا: اتفاق و اتحاد ہو اور بیٹے ملیں، لیکن انھوں نے کہا: اس طرح نہ کہو، لوگوں نے کہا: اے ابو یزید! تو پھر ہم کیا کہیں؟ انھوں نے کہا: تم اس طرح کہو بَارَکَ اللّٰہُ لَکُمْ وَبَارَکَ اللّٰہُ لَکُمْ وَبَارَکَ عَلَیْکُمْ (اللہ تعالی تمہارے لیے برکت کرے، اللہ تعالی تمہارے لیے برکت کرے اور اللہ تعالی تم پر برکت کرے۔) ہمیں یہ دعائیہ کلمات کہنے کا حکم دیا جاتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو یزید تھی۔
’’اتفاق و اتحاد ہو اور بیٹے ملیں‘‘ بظاہر تو یہ دعا بھی اچھی ہے، لیکن سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ نے وہ دعا کہنے کی ترغیب دلائی، جس کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6914
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1739»