کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نکاح میں کفو (برابری) کے مسئلے کا بیان
حدیث نمبر: 6903
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((ثَلَاثَةٌ يَا عَلِيُّ! لَا تُؤَخِّرُهُنَّ، الصَّلَاةُ إِذَا آذَنَتْ، وَالْجَنَازَةُ إِذَا حَضَرَتْ، وَالْأَيِّمُ إِذَا وَجَدْتَ كُفُؤًا)).
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے علی! تین کاموں میں تاخیر نہ کرنا:(۱)نماز کو ،جب اس کو وقت ہو جائے، (۲) جنازہ کو جب وہ حاضر ہو جائے اور (۳) عورت کی شادی کو، جب اس کا کفو اور ہمسر مل جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6903
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة سعيد بن عبد الله الجھني، أخرجه ابن ماجه: 1486، والترمذي: 171، 1075 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 828 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 828»
حدیث نمبر: 6904
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَتْ فَتَاةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي ابْنَ أَخِيهِ يَرْفَعُ بِي خَسِيسَتَهُ، فَجَعَلَ الْأَمْرَ إِلَيْهَا، فَقَالَتْ: فَإِنِّي قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ أَبِي وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ تَعْلَمَ النِّسَاءُ أَنْ لَيْسَ لِلْآبَاءِ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک نوجوان خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے باپ نے اپنے بھتیجے سے میری شادی کر دی ہے، وہ میرے ساتھ شادی کو اس کے لیے سربلندی کا باعث بنانا چاہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس معاملے میں مجھے اختیار دے دیا، میں نے کہا: جو کچھ میرے باپ نے کیا ہے، میں اسی کو اختیار کرتی ہوں، لیکن میرا ارادہ یہ تھا کہ عورتوں کو علم ہو جانا چاہیے کہ ان کے اس معاملے میں ان کے آباء کا کوئی حق نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6904
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 1874، والنسائي: 6/86 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25043 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25557»
حدیث نمبر: 6905
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ أَحْسَابَ أَهْلِ الدُّنْيَا الَّذِينَ يَذْهَبُونَ إِلَيْهِ هَذَا الْمَالُ)).
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا والے جس حسب کو اختیار کرتے ہیں، وہ مال ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6905
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، أخرجه النسائي: 6/ 64 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22990 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23378»
حدیث نمبر: 6906
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْحَسَبُ: الْمَالُ، وَالْكَرَمُ: التَّقْوَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حسب مال ہے اور کرم تقویٰ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ’’حسب مال ہے‘‘ اس سے مراد دنیا کا مال و دولت ہے، جس کے ذریعے جاہ و حشمت ملتی ہے۔ ’’کرم تقوی ہے‘‘ یعنی وہ کرم جو آخرت میں معتبر ہو گا اور جس کا نتیجہ بلند درجات کے ساتھ اکرام کی صورت میں نکلے گا، وہ تقوی ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ} … ’’بیشک تم میں سے اللہ تعالی کے ہاں سب سے زیادہ معزز وہ ہے، جو سب سے زیادہ تقوی والا ہے۔‘‘ (سورۂ حجرات: ۱۳)
ایک قول کے مطابق اس حدیث کا مفہوم یہ ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد وہ امور تھے، جو لوگوں میں متعارف ہیں، لوگوں میں فقیر آدمی کا کوئی حسب نہیں ہے، کیونکہ نہ اس کی عزت ہوتی ہے اور نہ اس کو مجلس میں بٹھایا جاتا ہے، گویا کہ دنیا والوں کا حسب مال ہے، مال والا ہی لوگوں کے ہاں شرف و فضیلت والا قرار پاتا ہے، لیکن اللہ تعالی کے ہاں اس شخص کو عزت و کرم والا نہیں سمجھا جاتا ہے، کیونکہ بارگاہِ عالیہ میں معیار تقوی ہے، نہ کہ مال و دولت اور حسب و نسب، اس لیے اللہ تعالی کے ہاں کریم اور معزز وہ ہو گا، جو تقوی کے لباس سے مزین ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6906
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه ابن ماجه: 4219، والترمذي: 3271، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20102 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20362»
حدیث نمبر: 6907
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَتْ بَرِيرَةُ عِنْدَ عَبْدٍ فَعُتِقَتْ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهَا بِيَدِهَا (وَفِي لَفْظٍ) فَلَمَّا أُعْتِقَتْ خُيِّرَتْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا ایک غلام کے زیر نکاح تھی، جب اس کو آزاد کر دیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا، ایک روایت میں ہے: جب اس کو آزاد کیا گیا تو اس کو اختیار دے دیا گیا۔
وضاحت:
فوائد: … جب غلام اور لونڈی میاں بیوی ہوں اور بیوی کو آزاد کر دیا جائے تو اس کو اپنے خاوند کے پاس رہنے یا نہ رہنے کا اختیار مل جاتا ہے۔ شادی میں کفو اور ہمسر کے بارے میں مختلف اقوال بیان کیے گئے ہیں، مثلا: دین، آزادی، نسب، پیشہ، خوشحالی، عیب سے سلامتی، کمائی کا اچھا ذریعہ، صلاحیت، وغیرہ۔ لیکن حقیقتیہ ہے کہ معتبر وصف صرف اور صرف اسلام ہے، اس کے بعد لڑکے اور لڑکی کی رضامندی ہے، لیکن ان کو بھییہ ترغیب دلائی گئی ہے کہ وہ حسب و نسب، حسن و جمال اور مال و دولت کے بجائے دینداری کو ترجیح دیں، اسلام میں سب سے بڑی صفت تقوی اور پرہیز گاری ہے، اسی میں عزت ہے اور اسی میں حسن انجام ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: {اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ} ’’بیشک تم میں سے اللہ تعالی کے ہاں سب سے زیادہ معزز وہ ہے، جو سب سے زیادہ تقوی والا ہے۔‘‘ (سورۂ حجرات: ۱۳)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6907
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابويعلي: 4436، والبيھقي: 7/ 220 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25755 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26274»