کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: بیٹے کا اپنی ماں کا کسی سے نکاح کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6902
عَنِ ابْنِ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَوْلِيَائِي تَعْنِي شَاهِدًا، فَقَالَ: ((إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِكِ شَاهِدٌ وَلَا غَائِبٌ يَكْرَهُ ذَلِكَ)). فَقَالَتْ: يَا عُمَرُ! زَوِّجْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَتَزَوَّجَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، الْحَدِيثَ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں نکاح کا پیغام بھیجا، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اولیاء موجود نہیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کوئی بھی ولی ایسا نہیں ہے، جو اس شادی کو ناپسند کرے، وہ حاضر ہو یا غائب۔ یہ سن کر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہانے اپنے بیٹےسے کہا: اے عمر! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میری شادی کر دے، پس انہوں نے ان کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی کر دی۔
وضاحت:
فوائد: … ائمۂ ثلاثہ سمیت جمہور اہل علم کا مسلک یہ ہے کہ بیٹا اپنی ماں کا ولی بن سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6902
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة ابن عمر بن ابي سلمة، أخرجه مطولا ومختصرا ابن حبان: 2949، والحاكم: 2/ 178، وابويعلي: 6907 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26529 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27064»