کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: عورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6896
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ صَالِحٍ وَاسْمُهُ الَّذِي يُعْرَفُ بِهِ نُعَيْمُ بْنُ النَّحَّامِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُ صَالِحًا أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ اخْطُبْ عَلَى ابْنَةِ صَالِحٍ فَقَالَ إِنَّ لَهُ يَتَامَى وَلَمْ يَكُنْ لِيُؤْثِرَنَا عَلَيْهِمْ قَالَ فَانْطَلَقَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَى عَمِّهِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ لِيَخْطُبَ فَانْطَلَقَ زَيْدٌ إِلَى صَالِحٍ فَقَالَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ يَخْطُبُ ابْنَتَكَ فَقَالَ لِي يَتَامَى وَلَمْ أَكُنْ لِأَتْرِبَ لَحْمِي وَأَرْفَعَ لَحْمَكُمْ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَنْكَحْتُهَا فُلَانًا وَكَانَ هَوَى أُمِّهَا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ خَطَبَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ابْنَتِي فَأَنْكَحَهَا أَبُوهَا يَتِيمًا فِي حَجْرِهِ وَلَمْ يُؤَامِرْهَا فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَالِحٍ فَقَالَ أَنَكَحْتَ ابْنَتَكَ وَلَمْ تُؤَامِرْهَا فَقَالَ نَعَمْ فَقَالَ أَشِيرُوا عَلَى النِّسَاءِ فِي أَنْفُسِهِنَّ وَهِيَ بِكْرٌ فَقَالَ صَالِحٌ فَإِنَّمَا فَعَلْتُ هَذَا لِمَا يُصْدِقُهَا ابْنُ عُمَرَ فَإِنَّ لَهُ فِي مَالِي مِثْلَ مَا أَعْطَاهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا، صالح کی بیٹی کو منگنی کا پیغام بھیجیں۔ صالح، نُعیم بن نحام کے نام سے معروف تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا نام صالح رکھا تھا، انہوں نے کہا: صالح کے ہاں یتیم بچے زیر پرورش ہیں، وہ انہیں چھوڑنا گوارا نہیں کرے گا، نکاح کے لئے انہیں ترجیح دے گا۔ یہ بات سن کر سیدنا عبد اللہ اپنے چچا زید بن خطاب کے پاس گئے تاکہ وہ منگنی کا پیغام دیں۔ چنانچہ زید، صالح کے پاس گئے اور کہا: عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ آپ کی بیٹی سے نکاح کرنے کا ارادہ رکھتاہے، اس نے کہا: میرے زیر پرورش یتیم بچے ہیں، میں نہیں چاہتا کہ اپنی توہین کر دوں اور تمہیں عزت دوں، میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے فلاں سے فلاں کا نکاح کر دیا ہے، مگر اس عورت کی ماں کا میلان سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی جانب تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے نبی! عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے میری بیٹی کیلئے پیغام نکاح بھیجا تھا، لیکن صالح نے زیر پرورش ایک یتیم سے اس کا نکاح کر دیا اور مجھ سے مشورہ نہیں کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صالح کو پیغام بھیجا، جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: کیا تو نے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا ہے اور بیوی سے مشوہ ہی نہیں کیا۔ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان عورتوں سے مشورہ کیا کرو۔ جبکہ بچی کنواری ہو۔ صالح نے کہا: میں نے ایسا اس لئے کیا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہمانے اس کے مہر کی جو مقدار رکھی، اتنی مقدار تو میرے مال سے یتیم کا حصہ بنتی تھی، اس لیے میں نے پھر اسی کو ترجیح دی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6896
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه الطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 4/ 369 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5720 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5720»
حدیث نمبر: 6897
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ خَطَبَ إِلَى نَسِيبٍ لَهُ ابْنَتَهُ قَالَ فَكَانَ هَوَى أُمِّ الْمَرْأَةِ فِي ابْنِ عُمَرَ وَكَانَ هَوَى أَبِيهَا فِي يَتِيمٍ لَهُ قَالَ فَزَوَّجَهَا الْأَبُ يَتِيمَهُ ذَلِكَ فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آمِرُوا النِّسَاءَ فِي بَنَاتِهِنَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انھوں نے نسب میں اپنے قریبی کو اس کی بیٹی کے لئے منگنی کا پیغام بھیجا، اس لڑکی کی والدہ کا میلان ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف ہی تھا، لیکن باپ کی خواہش یہ تھی کہ وہ اپنے زیر تربیت یتیم سے اس کا نکاح کر دے، تو اس نے اس یتیم سے اس کی شادی کر دی، اس کی ماں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اس چیز کا آپ سے ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی بیویوں سے بیٹیوں کی شادی کے سلسلے میں مشورہ کیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … ماؤں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ کرنا اس بنا پر نہیں ہے کہ وہ نکاح کے عقد میں ولی کی طرح کا کوئی اختیار رکھتی ہیں، بلکہ یہ حسن معاشرت کا تقاضا ہے، اس سے مائیں خوش ہو جائیں گی اور اس مشورے کی برکت سے بیٹیوں اور ان کے خاوندوں میں الفت، محبت اور اتفاق پیدا ہو گا، وگرنہ زیادہ تر بیٹیوں کا میلان ماؤں کی طرف ہوتا ہے، اس لیے اگر اس معاملے میں ماؤں کو راضی نہ کیا گیاتو فساد کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6897
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرج المرفوع منه فقط ابوداود: 2095 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4905 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4905»