کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: کنواری کو نکاح پر مجبور کرنے اور بیوہ سے مشورہ طلب کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6883
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ لِلْوَلِيِّ مَعَ الثَّيِّبِ أَمْرٌ وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ فَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیوہ کی شادی کے معاملے میں ولی کو اختیار نہیں ہے اور کنواری بچی سے اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی اس کا اقرار ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … کنواری بچی کی طرح بیوہ خاتون کے نکاح کے لیے بھی ولی کی اجازت ضروری ہے، اس حدیث کے پہلے حصے کا مفہوم یہ ہے کہ ولی کو بیوہ خاتون کے اختیار اور رائے کا بھی خیال رکھنا چاہیے، کیونکہ اب وہ شادی والی زندگی گزار چکی ہے اور اس کو لوگوں اور ماحول کا اندازہ ہو چکا ہے۔
حدیث نمبر: 6884
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس طرح بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیوہ اپنے ولی کی بہ نسبت اپنی ذات کا زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری بچی سے اس کے نفس کے بارے میں اس سے اجازت طلب کی جائے گی اور اس کی اجازت خاموشی ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں لفظ ’’احق‘‘ میںمشارکت پائی جاتی ہے، یعنی نکاح میں شوہر دیدہ کا حق بھی ہے اور ولی کا بھی اور عورت کے حق کی زیادہ اہمیت ہے، بہرحال دونوں کا متفق ہونا ضروری ہے۔
نیز درج ذیل حدیث سے ’’احق بنفسھا‘‘ کے معنی کی وضاحت ہو تی ہے۔
سیدنا عدی کندی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَشِیْرُوْا عَلَی النِّسَائِ فِی أَنْفُسِھِنَّ۔)) فَقَالَ: إِنَّ الْبِکْرَ تَسْتَحْیِیْیَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((الثَّیِّبُ تُعْرِبُ عَنْ نَفْسِھَا بِلِسَانِھَا، وَالْبِکْرُ رِضَاھَا صُمَاتُھَا۔)) (صحیحہ: ۱۴۵۹) … ’’عورتوں سے ان کے نفسوںکے بارے میں مشورہ کیا کرو۔‘‘ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کنواری لڑکی تو شرماتی ہے (اس سے مشورہ کیسے کیا جائے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بیوہ تو اپنے بارے میں خود وضاحت کرتی ہے اور کنواری کی رضامندی اس کا خاموش ہو جانا ہے۔‘‘
نیز درج ذیل حدیث سے ’’احق بنفسھا‘‘ کے معنی کی وضاحت ہو تی ہے۔
سیدنا عدی کندی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَشِیْرُوْا عَلَی النِّسَائِ فِی أَنْفُسِھِنَّ۔)) فَقَالَ: إِنَّ الْبِکْرَ تَسْتَحْیِیْیَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((الثَّیِّبُ تُعْرِبُ عَنْ نَفْسِھَا بِلِسَانِھَا، وَالْبِکْرُ رِضَاھَا صُمَاتُھَا۔)) (صحیحہ: ۱۴۵۹) … ’’عورتوں سے ان کے نفسوںکے بارے میں مشورہ کیا کرو۔‘‘ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کنواری لڑکی تو شرماتی ہے (اس سے مشورہ کیسے کیا جائے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بیوہ تو اپنے بارے میں خود وضاحت کرتی ہے اور کنواری کی رضامندی اس کا خاموش ہو جانا ہے۔‘‘
حدیث نمبر: 6885
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ يَسْتَأْمِرُهَا أَبُوهَا فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیوہ اپنے ولی کی بہ نسبت اپنی ذات کا زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری کا باپ اس سے اس کے نفس کے بارے میں اجازت لے گا اور اس کی خاموشی اس کی اجازت ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث کے پہلے جملے کا مفہوم یہ ہے کہ بیوہ کا بھی حق ہے اور اس کے ولی کا بھی حق ہے، ولی کا حق یہ ہے کہ اس کے واسطے کے بغیر نکاح نہ کیا جائے اور بیوہ کا حق یہ ہے کہ جب وہ کسی شخص کو بطورِ خاوند قبول نہ کرے تو اس کو مجبور نہ کیا جائے، کیونکہ اب اس معاملے میں بیوہ کا حق زیادہ ہے۔ اس کو اس مثال سے سمجھیں کہ ولی نے ایسی خاتون کی کسی مرد سے شادی کرنا چاہی، لیکن وہ رضامند نہ ہوئی تو اس کو مجبور نہیں کیا جائے گا اور ولی اپنا ارادہ ترک کر دے، لیکن جب ایسی خاتون کسی مرد سے شادی کرنے پر رضامند ہو جائے گی اور ولی رضامند نہیں ہو گا تو ولی کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ رضامندی کا اظہار کرے اور اس کی شادی کر دے۔
حدیث نمبر: 6886
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ وَالثَّيِّبُ تُشَاوَرُ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحْيِي قَالَ سُكُوتُهَا رَضَاهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کنواری سے اجازت طلب کی جائے گی اور بیوہ سے مشورہ کیا جائے گا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کنواری تو شرماتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی خاموشی اس کی رضا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … بیوہ کا اصل حق یہ ہے کہ اس کی شادی کے بارے میں اس سے مشورہ کیا جائے اور اس کی رائے کو اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔
حدیث نمبر: 6887
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الثَّيِّبُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ إِذْنُهَا قَالَ أَنْ تَسْكُتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیوہ سے اس کے بارے میں مشورہ لیا جائے اور کنواری سے اجازت طلب کی جائے گی۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی اجازت کی کیفیت کیا ہوگی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا خاموش رہنا۔
حدیث نمبر: 6888
عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَشِيرُوا عَلَى النِّسَاءِ فِي أَنْفُسِهِنَّ فَقَالُوا إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحْيِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الثَّيِّبُ تُعْرِبُ عَنْ نَفْسِهَا بِلِسَانِهَا وَالْبِكْرُ رَضَاهَا صَمْتُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عدی بن عدی کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کے بارے میں ان سے مشورہ طلب کیا کرو۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کنواری تو شرما جاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیوہ بول کر اپنے نفس کے بارے میں وضاحت کرے گی اور کنواری کی رضامندی خاموشی ہو گی۔
حدیث نمبر: 6889
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْمِرُوا النِّسَاءَ فِي إِبْضَاعِهِنَّ قِيلَ إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحْيِي أَنْ تَتَكَلَّمَ قَالَ سُكُوتُهَا إِذْنُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورتوں سے ان کے وجود کی شادی میں مشورہ کیا کرو۔ کسی نے کہا: کنواری بچی تو بات کرنے سے ہی شرماتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی خاموشی اس کی اجازت ہو گی۔
حدیث نمبر: 6890
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُزَوِّجَ شَيْئًا مِنْ بَنَاتِهِ جَلَسَ إِلَى خِدْرِهَا فَقَالَ إِنَّ فُلَانًا يَذْكُرُ فُلَانَةً يُسَمِّيهَا وَيُسَمِّي الرَّجُلَ الَّذِي يَذْكُرُهَا فَإِنْ هِيَ سَكَتَتْ زَوَّجَهَا وَإِنْ كَرِهَتْ نَقَرَتِ السِّتْرَ فَإِذَا نَقَرَتْهُ لَمْ يُزَوِّجْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی کسی بیٹی کی شادی کرنا چاہتے تو گھر کے کونے میں اس کے پاس لٹکے ہوئے پردے کے پاس بیٹھ جاتے اور فرماتے: فلاں آدمی فلاں خاتون کا ذکر کر رہا تھا۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مرد اور اس بیٹی کا نام ذکر کرتے، اگر وہ خاموش رہتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا نکاح کر دیتے اور اگر وہ ناپسند کرتی تو اپنا ہاتھ پردے پر مارتی، پس اگر وہ اپنا ہاتھ پردے پر مار دیتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا نکاح نہ کرتے۔
حدیث نمبر: 6891
عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ جَارِيَةٍ يُنْكِحُهَا أَهْلُهَا أَتُسْتَأْمَرُ أَمْ لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تُسْتَأْمَرُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لَهُ فَإِنَّهَا تَسْتَحْيِي فَتَسْكُتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَلِكَ إِذْنُهَا إِذَا هِيَ سَكَتَتْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے عائشہ ذکوان سے مروی ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ ایک لڑکی کے گھر والے اس کا نکاح کرتے ہیں، کیا اس لڑکی سے مشورہ کیا جائے گا یا نہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بالکل مشورہ طلب کیا جائے گا۔ میں نے کہا : وہ شرم کے مارے خاموش ہو جاتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا خاموش رہنا ہی اس کی اجازت ہے۔
حدیث نمبر: 6892
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنَةُ سِتِّ سِنِينَ وَفِي لَفْظٍ سَبْعِ سِنِينَ بِمَكَّةَ مُتَوَفَّى خَدِيجَةَ وَدَخَلَ بِي وَأَنَا ابْنَةُ تِسْعِ سِنِينَ بِالْمَدِينَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مجھ سے نکاح کیا تو میں چھ سال کی تھی، ایک روایت میں سات برس کا ذکر ہے، یہ نکاح مکہ میں اور سیدنا خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے موقع پر ہوا تھا، اور جب میری رخصتی ہوئی تو میری عمر نو برس تھی، رخصتی مدینہ منورہ میں ہوئی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … نکاح کے وقت سیدہ کی عمر چھ برس اور کچھ ماہ تھی، اسی لیے کبھی اس کسر کو پورا کر کے سات سال کہہ دیا جاتا ہے اور کبھی اس کو چھوڑ کر چھ برس کہا جاتا ہے، ۲ھمیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوئی تھی۔
ہجرت سے ایک سال پہلے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تھا۔
اس باب کا خلاصہ یہ ہے کہ عورت کنواری ہو، یا مطلقہ، یا بیوہ، اس کے نکاح کی درستی کے لیے ولی کی رضامندی ضروری ہے، جیسے کہ سابق باب میں وضاحت ہو چکی ہے، البتہ بیوہ اور مطلقہ کو اپنے رائے دینے کا حق ضرور ہے اور ولی کو چاہیے کہ وہ ان کی رائے کا لحاظ کرے۔
ہجرت سے ایک سال پہلے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تھا۔
اس باب کا خلاصہ یہ ہے کہ عورت کنواری ہو، یا مطلقہ، یا بیوہ، اس کے نکاح کی درستی کے لیے ولی کی رضامندی ضروری ہے، جیسے کہ سابق باب میں وضاحت ہو چکی ہے، البتہ بیوہ اور مطلقہ کو اپنے رائے دینے کا حق ضرور ہے اور ولی کو چاہیے کہ وہ ان کی رائے کا لحاظ کرے۔