حدیث نمبر: 6871
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمُ الْمَرْأَةَ فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْظُرَ مِنْهَا مَا يَدْعُوهُ إِلَى نِكَاحِهَا فَلْيَفْعَلْ)) قَالَ: فَخَطَبْتُ جَارِيَةً مِنْ بَنِي سَلَمَةَ، فَكُنْتُ أَخْتَبِئُ لَهَا تَحْتَ الْكَرَبِ حَتَّى رَأَيْتُ مِنْهَا بَعْضَ مَا دَعَانِي إِلَى نِكَاحِهَا فَتَزَوَّجْتُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی عورت کو منگنی کا پیغام دے تو اگر اس کو طاقت ہو تو وہ اس سے اس چیز کو دیکھ لے، جس کی وجہ سے وہ شادی کر رہا ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے بنو سلمہ کی ایک لڑکی کو منگنی کا پیغام بھیجا تھا اور میں اسے دیکھنے کے لئے کھجور کے پتوں کے پیچھے چھپا رہتا تھا، یہاں تک کہ میں نے اس کی وہ چیز دیکھ لی، جو اس کے ساتھ نکاح کا سبب بنی تھی، پھر میں نے اس سے شادی کر لی تھی۔
حدیث نمبر: 6872
عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ: رَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ يُطَارِدُ امْرَأَةً بِبَصَرِهِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: يُرِيدُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا) فَقُلْتُ: تَنْظُرُ إِلَيْهَا وَأَنْتَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِذَا أَلْقَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي قَلْبِ امْرِئٍ خِطْبَةً لِامْرَأَةٍ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، وہ بصرہ میں ایک خاتون کو دیکھنے کے لیے اس کے تعاقب میں رہتے تھے، پس میں نے ان سے کہا: تم اس خاتون کو دیکھتے ہو، جبکہ تم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے ہو، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب اللہ تعالی کسی کے دل میں کسی عورت کو منگنی کا پیغام بھیجنے کا خیال ڈال دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ اس کو دیکھ لے۔
حدیث نمبر: 6873
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: رَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ يُطَارِدُ بُثَيْنَةَ بِنْتَ الضَّحَّاكِ أُخْتَ أَبِي جَبِيرَةَ الضَّحَّاكِ وَهِيَ عَلَى إِجَّارٍ لَهُمْ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: میں نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ابو جبیرہ کی بہن بثینہ بنت ضحاک کو دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے، جبکہ وہ ان کی اس چھت پر تھی، جس پر کوئی آڑ نہیں تھی، … الحدیث۔
حدیث نمبر: 6874
عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ امْرَأَةً أَخْطُبُهَا، فَقَالَ: ((اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا))، قَالَ: فَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ فَخَطَبْتُهَا إِلَى أَبَوَيْهَا وَأَخْبَرْتُهُمَا بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَأَنَّهُمَا كَرِهَا ذَلِكَ، قَالَ: فَسَمِعَتْ ذَلِكَ الْمَرْأَةُ وَهِيَ فِي خِدْرِهَا، فَقَالَتْ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَكَ أَنْ تَنْظُرَ فَانْظُرْ وَإِلَّا فَإِنِّي أَنْشُدُكَ، كَأَنَّهَا أَعْظَمَتْ ذَلِكَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا فَتَزَوَّجْتُهَا فَذُكِرَ مِنْ مُوَافَقَتِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک عورت کا ذکر کیا کہ میں اس کو منگنی کا پیغام بھیجنا چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ، پہلے اسے دیکھ کر آؤ،پس زیادہ لائق ہو گا کہ یہ چیز تمہارے درمیان محبت اور اتفاق کا باعث ہو۔ میں اس انصاری خاتون کے پاس گیا اور اس کے والدین کو منگنی کا پیغام دیا اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان بھی سنا دیا۔ ایسے لگا کہ وہ اس چیز کو پسند نہیں کر رہے کہ میں اس کو دیکھو، لیکن اس عورت نے پسِ پردہ آواز سن لی اور اس نے کہا: اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجھے دیکھنے کا حکم دیا ہے تو دیکھ لے، وگرنہ میں تجھے قسم دیتی ہوں، گویا کہ اس نے اس چیز کو بہت بڑا سمجھا، پس میں نے اس کو دیکھا اور اس سے شادی کر لی، پس اس میاں بیوی کی موافقت کی باتیں کی گئیں۔
حدیث نمبر: 6875
عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمُ امْرَأَةً فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا إِذَا كَانَ إِنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا لِخِطْبَتِهِ وَإِنْ كَانَتْ لَا تَعْلَمُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی کسی عورت کو منگنی کا پیغام بھیجے تو اس کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ وہ صرف منگنی کی وجہ سے دیکھ رہا ہو، اگرچہ اس عورت کو اس کا علم نہ ہو۔
حدیث نمبر: 6876
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَطَبَ رَجُلٌ امْرَأَةً، فَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((انْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ایک عورت کو منگنی کا پیغام بھیجا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو اس عورت دیکھ لے، کیونکہ عموماً انصار کی آنکھوں میں کوئی نقص ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نقص سے مراد کوئی ایسا عیب ہے، جس کی وجہ سے انسان طبعی طور پر متنفر ہو سکتا ہے، اس لیے بہتر ہے کہ مرد ایسی خاتون کو دیکھ لے، تاکہ اس کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کا موقع مل سکے۔
نکاح ایک اہم ضرورت ہے، نیز ساری زندگی کا ساتھ ہے، اس لیے کسی ممکنہ بدمزگی سے بچنے کے لیے مناسب ہے کہ پہلے اسے دیکھ لیا جائے، اس مقصد کے لیے کوئی حیلہ بہانہ استعمال کیا جا سکتا ہے، یا پھر گھریلوں عورتوں کے ذریعے دیکھنے دکھانے اور دیگر ضروری معلومات حاصل کرکے اندازہ کر لیا جائے۔
میاں بیوی کے مابین اچھے تعلقات، بہترین معاشرے اور خاندان کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں، جہاں شریعت نے مردوں کے لیے غیر محرم عورتوں کو دیکھنا حرام قرار دیا ہے، وہاں کسی بڑے مقصد کے حصول کے لیے جواز کی گنجائش بھی پیدا کر دی ہے، اس سلسلے میں دونوں اطراف سے والدین کو دور رسی اور دور اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے لڑکی
اور لڑکے کی ملاقات اور ان کی رضامندی کا خیال رکھنا چاہیے۔
پاکستان کے حالات کے مطابق لڑکے کا لڑکی کو پسند نہ کرنابچی کے لیے کسی قیامت صغری سے کم نہیں ہوتا، ایسے حالات میں منگیتر کو بچی دیکھنے کا موقع دیا جائے، اگرچہ بچی کے والدین اور بھائی وغیرہ باخبر نہ ہوں، تاکہ کسی کی حوصلہ شکنی کیے بغیر شریعت کی رخصت پر عمل ہو جائے، جیسا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے ایک لڑکی کو نکاح کا پیغام بھیجا اور چھپ کر اس کو دیکھ لیا۔ اس سلسلے میں بچی کی سہیلیاں اور دور کی رشتہ دار عورتیں اچھا کردار ادا کر سکتی ہیں، بشرطیکہ وہ خیرخواہ اور راز دار ہوں، اگر متعلقہ بچی کو بھی آگاہ نہ کیا جائے تو بہتر ہو گا تاکہ پسند نہ آنے کی صورت میں اس کی حوصلہ شکنی نہ ہو۔
نکاح ایک اہم ضرورت ہے، نیز ساری زندگی کا ساتھ ہے، اس لیے کسی ممکنہ بدمزگی سے بچنے کے لیے مناسب ہے کہ پہلے اسے دیکھ لیا جائے، اس مقصد کے لیے کوئی حیلہ بہانہ استعمال کیا جا سکتا ہے، یا پھر گھریلوں عورتوں کے ذریعے دیکھنے دکھانے اور دیگر ضروری معلومات حاصل کرکے اندازہ کر لیا جائے۔
میاں بیوی کے مابین اچھے تعلقات، بہترین معاشرے اور خاندان کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں، جہاں شریعت نے مردوں کے لیے غیر محرم عورتوں کو دیکھنا حرام قرار دیا ہے، وہاں کسی بڑے مقصد کے حصول کے لیے جواز کی گنجائش بھی پیدا کر دی ہے، اس سلسلے میں دونوں اطراف سے والدین کو دور رسی اور دور اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے لڑکی
اور لڑکے کی ملاقات اور ان کی رضامندی کا خیال رکھنا چاہیے۔
پاکستان کے حالات کے مطابق لڑکے کا لڑکی کو پسند نہ کرنابچی کے لیے کسی قیامت صغری سے کم نہیں ہوتا، ایسے حالات میں منگیتر کو بچی دیکھنے کا موقع دیا جائے، اگرچہ بچی کے والدین اور بھائی وغیرہ باخبر نہ ہوں، تاکہ کسی کی حوصلہ شکنی کیے بغیر شریعت کی رخصت پر عمل ہو جائے، جیسا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے ایک لڑکی کو نکاح کا پیغام بھیجا اور چھپ کر اس کو دیکھ لیا۔ اس سلسلے میں بچی کی سہیلیاں اور دور کی رشتہ دار عورتیں اچھا کردار ادا کر سکتی ہیں، بشرطیکہ وہ خیرخواہ اور راز دار ہوں، اگر متعلقہ بچی کو بھی آگاہ نہ کیا جائے تو بہتر ہو گا تاکہ پسند نہ آنے کی صورت میں اس کی حوصلہ شکنی نہ ہو۔