کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: منگنی پہ منگنی کا پیغام دینے سے ممانعت اور عدت میں اشارے کنائے سے منگی کی بات کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6865
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَدَعَهَا الَّذِي خَطَبَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ أَوْ يَأْذَنَ لَهُ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایاہے کہ آدمی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کا پیغام بھیجے، الّا یہ کہ پہلے منگنی کا پیغام بھیجنے والا اس خاتون کو چھوڑ دے یا دوسرے کو بھی اجازت دے دے۔
وضاحت:
فوائد: … جب کسی خاتون کا ایک مرد کی طرف میلان ہو جائے اور وہ دونوں شادی کے لیے راضی ہوں، بس صرف نکاح باقی ہو، تو کسی دوسرے کے لیے جائز نہیں کہ وہ زیادہ حق مہر کی پیش کش کر کے یا اپنے سرمائے یا حسن کا اظہار کر کے اس عورت کو اپنی طرف مائل کر لے۔
حدیث نمبر: 6866
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مُسْلِمٍ يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَتْرُكَ، وَلَا يَبِيعْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ حَتَّى يَتْرُكَ)).
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان آدمی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کا پیغام بھیجے،یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑ دے، اسی طرح کوئی آدمی اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے، الّا یہ کہ وہ اسے چھوڑ دے۔
حدیث نمبر: 6867
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلَا يَسُومُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا، وَلَا تَسْأَلُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا وَلِتَنْكِحَ، فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهَا)).
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی اپنے بھائی کی منگنی پرمنگنی کا پیغام نہ بھیجے، اور نہ اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے،کسی عورت سے اس کی پھوپھی یا خالہ کی موجودگی میں نکاح نہ کیا جائے، کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے کہ وہ اس کے پیالے کی چیز کو انڈیل دے، اس کو چاہیے کہ وہ بھی نکاح کر لے، بے شک اسے وہ مل کر رہے گا، جو اللہ تعالی نے اس کے لیے لکھا ہو گا۔
حدیث نمبر: 6868
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ أَوْ يَبْتَاعَ عَلَى بَيْعِهِ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایاکہ آدمی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کا پیغام بھیجےیا اس کے سودے پر سودا کرے۔
حدیث نمبر: 6869
عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: مجھے میرے خاوند نے تین طلاقیں دے دیں اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر عدت گزاروں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ابو عمرو بن حفص کی زوجیت میں تھیں۔ دو طلاقیں وہ پہلے دے چکے تھے۔ پھر اس نے تیسری آخری طلاق بھی دے دی۔
حدیث نمبر: 6870
عَنْ سُفْيَانَ سَمِعَهُ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ، سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا أَحْلَلْتِ فَآذِنِينِي)). فَآذَنْتُهُ فَخَطَبَهَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبُو الْجَهْمِ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ تَرِبٌ لَا مَالَ لَهُ، وَأَمَّا أَبُو الْجَهْمِ فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَاءِ وَلَكِنْ أُسَامَةَ)). قَالَ: فَقَالَتْ بِيَدِهَا هَكَذَا أُسَامَةُ تَقُولُ لَمْ تُرِدْهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((طَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِهِ خَيْرٌ لَكِ)). فَتَزَوَّجَتْهُ فَاغْتَبَطَتْهُ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تو عدت سے فارغ ہو جائے تو مجھے بتانا۔ پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع دی اور بتلایا کہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان، سیدنا ابو جہم اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے مجھے منگنی کے پیغامات بھیجے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: معاویہ تو فقیر آدمی ہے، اس کے پاس مال نہیں ہے اور ابو جہم عورتوں کو بہت مارنے والا آدمی ہے، البتہ اسامہ، وہ ٹھیک ہے۔ میں نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اسامہ نہیں، میں اس کو نہیں چاہتی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت تیرےلیے بہتر ہے۔ پس میں نے اسامہ سے شادی کر لی اور مجھ پر رشک کیا گیا۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ’’جب تو عدت سے فارغ ہو جائے تو مجھے بتانا۔‘‘ یہ دراصل منگنی کی طرف اشارہ تھا، بعد میں پتہ چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ فاطمہ بنت قیس، اسامہ سے شادی کر لے۔
ارشادِ باری تعالی ہے: {وَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِہٖمِنْخِطْبَۃِ النِّسَائِ اَوْ اَکْنَنْتُمْ فِیْ اَنْفُسِکُمْ} … ’’تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اشارۃً کنایۃً ان عورتوں سے نکاح کی بابت کہو، یا اپنے دل میں پوشیدہ ارادہ کرو۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۲۳۵)
یہ بیوہیا تین طلاق والی عورت کی بابت کہا جا رہا ہے کہ ان کی عدت کے دوران ان کو اشارے کنایے سے پیغام دیا جا سکتا ہے، لیکنیہ منع ہے کہ عدت کے دوران ان سے خفیہ وعدہ لے لیا جائے یا عقدِ نکاح پختہ کر لیا جائے۔
اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس عورت کو رجعی طلاق دی گئی ہو اسے عدت کے اندر پیغام نکاح نہیں دیا جاسکتا اور نہ کنایۃً اس سے بات ہو سکتی ہے۔ ہاں اس کا خاوند رجوع نہ کرے اور عدت گزر جائے تو اس کے ساتھ نکاح کے لیے کوشش کی جاسکتی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
ارشادِ باری تعالی ہے: {وَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِہٖمِنْخِطْبَۃِ النِّسَائِ اَوْ اَکْنَنْتُمْ فِیْ اَنْفُسِکُمْ} … ’’تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اشارۃً کنایۃً ان عورتوں سے نکاح کی بابت کہو، یا اپنے دل میں پوشیدہ ارادہ کرو۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۲۳۵)
یہ بیوہیا تین طلاق والی عورت کی بابت کہا جا رہا ہے کہ ان کی عدت کے دوران ان کو اشارے کنایے سے پیغام دیا جا سکتا ہے، لیکنیہ منع ہے کہ عدت کے دوران ان سے خفیہ وعدہ لے لیا جائے یا عقدِ نکاح پختہ کر لیا جائے۔
اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس عورت کو رجعی طلاق دی گئی ہو اسے عدت کے اندر پیغام نکاح نہیں دیا جاسکتا اور نہ کنایۃً اس سے بات ہو سکتی ہے۔ ہاں اس کا خاوند رجوع نہ کرے اور عدت گزر جائے تو اس کے ساتھ نکاح کے لیے کوشش کی جاسکتی ہے۔ (عبداللہ رفیق)