کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: بچوں کی پرورش کی خاطر دوسرا نکاح نہ کرنے والی خاتون کی فضیلت اور قریشی عورتوں کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 6861
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَنَا وَامْرَأَةٌ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ كَهَاتَيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ)) (وَفِي لَفْظٍ: ((أَنَا وَامْرَأَةٌ سَفْعَاءُ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ)) وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى) امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ آمَتْ مِنْ زَوْجِهَا حَبَسَتْ نَفْسَهَا عَلَى أَيْتَامِهَا حَتَّى بَانُوا أَوْ مَاتُوا.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اور سیاہی مائل رخسار والی عورت روز قیامت جنت میں ان دو انگلیوں کی مانند قریب قریب ہوں گے، ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی کو جمع کر کے اشارہ کیا، وہ خاتون جو منصب اور جمال والی ہو، لیکن بیوہ ہو جانے کے بعد اپنے نفس کو اپنے یتیموں کی خاطر پابند کیے رکھے،یہاں تک کہ وہ اس سے الگ ہو کر (اپنے پاؤں پر کھڑے) ہو جائیں یا فوت ہو جائیں۔
وضاحت:
فوائد: … سیاہی مائل رخساروں سے مراد یہ ہے کہ اس عورت نے زیب و زینت اور خوشحالی و آسودہ حالی کو چھوڑ دیا اور اپنے یتیم بچوں کی خدمت میں مشقتیں برداشت کرتی رہی، جس کی وجہ سے اس کی شکل و صورت تبدیل ہو گئی۔
دراصل اس حدیث میںیتیم بچوں کی کفالت کرنے والوں کی عظمت بیان کی جا رہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6861
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه ابوداود: 5149 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24006 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24507»
حدیث نمبر: 6862
عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي قَدْ كَبُرْتُ وَلِيَ عِيَالٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ)). قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِيرًا.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام ہانی بنت ابی طالب کو منگنی کا پیغام بھیجا۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری عمر بڑی ہے اور میرے بال بچے بھی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین عورتیں جو اونٹ پر سوار ہوتی ہیں، وہ قریش کی عورتیں ہیں، وہ اپنے چھوٹے بچوں پر بے حد شفقت کرتی ہیں اور خاوند کی ملکیت کی بے حد حفاظت کرتی ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا مریم بنت عمران کبھی اونٹ پر سوار نہیں ہوئی تھیں۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی بات کر کے یہ بات سمجھانا چاہتے ہیں کہ قریشی خواتین سیدہ مریم سے افضل نہیں ہیں۔
دراصل قریشی خواتین کو ان کی صفات کی وجہ سے باقی عرب عورتوں پر فضیلت دی جا رہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6862
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5365، ومسلم: 2527، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7650 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7637»
حدیث نمبر: 6863
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهَا: سَوْدَةُ وَكَانَتْ مُصْبِيَةً، كَانَ لَهَا خَمْسَةُ صِبْيَةٍ أَوْ سِتَّةٌ مِنْ بَعْلٍ لَهَا مَاتَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا يَمْنَعُكِ مِنِّي؟)) قَالَتْ: وَاللَّهِ! يَا نَبِيَّ اللَّهِ! مَا يَمْنَعُنِي مِنْكَ إِلَّا أَنْ لَا تَكُونَ أَحَبَّ الْبَرِيَّةِ إِلَيَّ، وَلَكِنِّي أُكْرِمُكَ أَنْ يَضْغُوَ هَؤُلَاءِ الصِّبْيَةُ عِنْدَ رَأْسِكَ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً، قَالَ: ((فَهَلْ مَنَعَكِ مِنِّي شَيْءٌ غَيْرُ ذَلِكَ؟)) قَالَتْ: لَا، وَاللَّهِ! قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَرْحَمُكِ اللَّهُ، إِنَّ خَيْرَ نِسَاءٍ رَكِبْنَ أَعْجَازَ الْإِبِلِ، صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرٍ وَأَرْعَاهُ عَلَى بَعْلٍ بِذَاتِ يَدٍ)).
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی قوم کی سودہ نامی ایک خاتون کو منگنی کا پیغام بھیجا، وہ صاحب اولاد تھی، اس کے فوت ہونے والے خاوند سے اس کے پانچ یا چھ بچے تھے، اس لیے اس نے انکار کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ شادی کرنے میں کیا رکاوٹ ہے؟ اس نے کہا:اللہ کی قسم! اے اللہ کے نبی! کوئی رکاوٹ نہیں ہے، آپ مجھے روئے زمین پر سب سے زیادہ محبوب ہیں، لیکن میں آپ کو اس سے برتر اور اعلی سمجھتی ہوں کہ صبح و شام یہ بچے آپ کے سرہانے رونا دھونا کرتے رہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ تو کوئی چیز رکاوٹ نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے، بہترین وہ عورتیں جو اونٹوں پر سوار ہوتی ہیں، قریش کی صالح عورتیں ہیں، جو چھوٹے بچوں سے انتہائی شفقت کرتی ہیں اور خاوند کے مال کی سب سے زیادہ حفاظت کرتی ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ بچوں کے حق میں شفیق ہونا اور خاوند کے مال کی حفاظت کرنا خاتون کی بڑی صفات میں سے ہیں۔
ممکن ہے کہ یہ سودہ نامی خاتون، ام ہانی ہی ہو، جس کا ذکر پچھلی حدیث میں ہوا ہے، شاید اس کا لقب سودہ ہو، کیونکہ مشہور بات یہ ہے کہ اس کا نام فاختہ تھا، لیکن اس بات کا بھی احتمال ہے کہ یہ کوئی اور خاتون ہو۔
بہرحالیہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ وہ سودہ نہیں ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی تھیں، وہ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد ان سے شادی کی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو وہ زندہ تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6863
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره دون ذكر اسم المرأة التي خطبھا النبيA وشھر بن حوشب علي ضعف فيه حديثه حسن في الشواھد، أخرجه ابويعلي: 2686، والطبراني: 13014 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2923 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2923»
حدیث نمبر: 6864
عَنْ كَرِيمِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ جَدَّتِهِ سَلْمَى بِنْتِ جَابِرٍ أَنَّ زَوْجَهَا اسْتُشْهِدَ فَأَتَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ قَدْ خَطَبَنِي الرِّجَالُ فَأَبَيْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ حَتَّى أَلْقَاهُ فَتَرْجُو لِي أَنِ اجْتَمَعْتُ أَنَا وَهُوَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَزْوَاجِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: مَا رَأَيْنَاكَ فَعَلْتَ هَذَا مُذْ قَاعَدْنَاكَ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ أَسْرَعَ أُمَّتِي بِي لُحُوقًا فِي الْجَنَّةِ امْرَأَةٌ مِنْ أَحْمَسَ)).
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ سلمی بنت جابر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میرا خاوند شہید ہو گیا، میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی او رکہا: میرے پاس آدمیوں کے منگنیوں کے پیغام آرہے ہیں، جبکہ میں نے شادی سے انکار کر دیا ہے، میں چاہتی ہوں کہ میں اپنے خاوند سے اسی حال میں ملوں، کیا آپ امید دلاتے ہیں کہ اگر میں اور میرا خاوند جمع ہو گئے تو میں اس کی بیویوں میں سے ہوں گی؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، یہ سن کر ایک بندے نے ان سے کہا: جب سے ہم آپ کے ساتھ بیٹھے ہیں، ہم نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے کیا ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: میری امت میں سے جو خاتون سب سے جلدی مجھے جنت میں ملے گی، وہ احمس سے ہوگی۔
وضاحت:
فوائد: … قریش، کنانہ، جدیلہ اور دورِ جاہلیت میں ان کے پیروکاروں کالقب احمس تھا، اس کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ وہ اپنے مذہب کے معاملے میں پکے تھے یایہ ہے کہ وہ ’’حمسائ‘‘ میںپناہ لیتے تھے، حمساء سے مراد کعبہ ہے۔ اس حدیث میں اس خاتون کا تعیین کے ساتھ ذکر نہیں ہے، تو پھر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سیدہ سلمی رضی اللہ عنہا کو اس کا مصداق کیسے ٹھہرایا؟
اس کا جواب یہ ہے کہ سیدہ سلمی رضی اللہ عنہا قریشی تھیں اور انھوں نے اپنے خاوند کے شہید ہو جانے کے بعد اپنے آپ کو اس وجہ سے مزید نکاح کرنے سے روکا ہوا تھا کہ وہ اپنے اُسی خاوند کے ساتھ جنت میں رہنا چاہتی ہیں، جبکہ شہداء جنت میں ہوتے ہیں، اس لیے انھوں نے اس یہ استدلال کشید کر لیا،یا ممکن ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بتلایا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6864
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، كريم بن ابي حازم لم يرو عنه غير ابان بن عبد الله، ولم يوثقه غير ابن حبان، أخرجه ابويعلي: 5328 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3822 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3822»