کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: دو شیزائوں سے نکاح کرنے کی کوشش کی جائے
حدیث نمبر: 6854
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا جَابِرُ أَلَكَ امْرَأَةٌ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَثَيِّبًا نَكَحْتَ أَمْ بِكْرًا قَالَ قُلْتُ لَهُ تَزَوَّجْتُهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ قَالَ فَقَالَ لِي فَهَلَّا تَزَوَّجْتَهَا جُوَيْرِيَةً قَالَ قُلْتُ لَهُ قُتِلَ أَبِي مَعَكَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا وَتَرَكَ جَوَارِيَ فَكَرِهْتُ أَنْ أَضُمَّ إِلَيْهِنَّ جَارِيَةً كَإِحْدَاهُنَّ فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا تَقْصَعُ قَمْلَةَ إِحْدَاهُنَّ وَتَخِيطُ دِرْعَ إِحْدَاهُنَّ إِذَا تَخَرَّقَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّكَ نِعْمَ مَا رَأَيْتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے جابر! کیا تمہاری بیوی ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا بیوہ تھی یا کنواری؟ میں نے کہا: جی جب میں نے اس سے شادی کی تھی تووہ بیوہ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی؟ میں نے کہا: میرے والد آپ کے ساتھ فلاں غزوے میں شہید ہوگئے تھے اور ان کی بیٹیاں پیچھے رہ گئی تھیں، میں نے پسند نہیں کیا کہ ان جیسی نو عمر لڑکی ان میں ملا دوں، بلکہ اس بیوی سے شادی کر لی تاکہ میری بہنوں کی جوئیں صاف کر دیا کرے، اگر ان کی قمیض پھٹ جائے تو سلائی کر دیا کرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے تو بہت اچھا فیصلہ کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6854
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2406، 2967، 3631، 5161، ومسلم: 715، 2083، 5161، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14861 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14922»
حدیث نمبر: 6855
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَلْ نَكَحْتَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا قَالَ قُلْتُ ثَيِّبًا قَالَ فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ سَبْعَ بَنَاتٍ وَكَرِهْتُ أَنْ أَجْمَعَ إِلَيْهِنَّ خَرْقَاءَ مِثْلَهُنَّ وَلَكِنِ امْرَأَةً تَمْشُطُهُنَّ وَتُقِيمُ عَلَيْهِنَّ قَالَ أَصَبْتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تو نے نکاح کر لیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کنواری خاتون تھی یا بیوہ؟ میں نے کہا: جی بیوہ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کنواری سے شادی کیوں نہیں کی، وہ تجھ سے کھیلتی اور تو اس سے کھیلتا؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے باپ احد کے دن شہید ہوگئے تھے اور سات بیٹیاں پس ماندگان میں چھوڑ گئے تھے،اب میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ ان جیسی ایک ناتجربہ کار کا اور اضافہ کر دوں، میں نے ایسی عورت کا انتخاب کیا ہے کہ جو ان کی کنگھی کرے اور ان کی نگرانی کرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے درست کیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6855
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15090»
حدیث نمبر: 6856
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ لَكُمْ أَنْمَاطٌ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَّى قَالَ خِفْ أَمَا سَتَكُونُ لَكُمْ أَنْمَاطٌ فَأَنَا الْيَوْمَ أَقُولُ لِامْرَأَتِي نَحِّي عَنِّي أَنْمَاطَكِ فَتَقُولُ نَعَمْ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمْ أَنْمَاطٌ فَأَتْرُكُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے پاس بیڈ شیٹس ہیں؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم بیڈ شیٹیں کہاں سے لائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اب تو فقیر اور قلیل المال ہو ، لیکن خبردار! عنقریب چادریں ہوں گی۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آج جب میں اپنی بیوی سے کہتا ہوں کہ اپنی چادریں مجھ سے دور کر لے، تو وہ کہتی ہے: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں تھا کہ عنقریب تمہارے لیے بیڈ شیٹیں ہوں گی۔ سو میں اس کو کیسے چھوڑ سکتی ہوں؟
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنواری عورت سے شادی کرنے کی ترغیب دلائی ہے، لیکن جب سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیوہ سے شادی کرنے کی مصلحت کو واضح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اقدام کو سراہا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6856
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14178»